بھارت میں ہنگامہ ۔۔۔۔ پاکستان میں زندگی پرسکون

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

پلوامہ واقعہ کے اثرات نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ تاہم بھارتی رہنماؤں کی طرف سے دیے جانے والے تمام تر تلخ بیانات اور پاکستان پر لگائے جانے والے سنگین الزامات سے عام زندگی متاثر نہیں ہوئی ہے۔ عام پاکستانیوں نے بھی پہلے دن ہی یہ سوال پوچھا تھا کہ والی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آمد سے عین قبل پاکستان کو یہ حملہ کروانے سے کون سا فائدہ ہو سکتا ہے؟ یہی بات وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں بھی کہی۔ انہوں نے اپنیخطاب میں جہاں پلوامہ انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار کیا وہیں یہ سوال بھی پوچھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ایسے حالات ہی کیوں پیدا ہونے دیے کہ وہاں کے نوجوان ایسا انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھارت وزیر اعظم نریندر سے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی تفتیش اور ثبوت کے بغیر فوراً ہی پاکستان پر الزام لگا دیا، اگر پاکستان میں کوئی اس واقعے میں ملوث ہے اس کے متعلق کوئی ایکشن ایبل انٹیلیجنس فراہم کریں میں گارنٹی کرتا ہوں کہ ہم اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے، گزشتہ پندرہ سال میں 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہوئے اور 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں استحکام آ رہا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ نہ تو کوئی پاکستان کے اندر سے کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کرے اور نہ ہی کوئی دوسرا ملک پاکستان میں دہشت گردی کرے۔ اور جو شخص بھی پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا ہے تو وہ پاکستان سے دشمنی کرتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جہاں پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کی پیشکش کی وہیں بھارتی میڈیا میں ہونے والی باتوں اور سیاسی رہنماؤں کے پاکستان پر حملہ کرنے، بدلہ لینے اور پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی حکومت کو خبردار بھی کیا کہ اگر پاکستان پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دینے کے بارے میں سوچا نہیں جائے بلکہ جواب دیا جائے گا۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے ختم کرنا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر بھارتی میڈیا میں جو شور مچا اس کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دی گئی لیکن اس وقت بھی یہاں سے یہی سوال پوچھا جا رہا تھا کہ مودی جی نے پاکستان کو عالمی تنہائی سے دو چار کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا لیکن سعودی ولی عہد ان کے بیان کو پس پشت ڈال کر اپنے پروگرام کے مطابق پاکستان آ گئے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو پاکستان ایئر فورس کے JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں نے اسے اپنے حفاظتی حصار میں لے کر اسلام آباد پہنچایا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے ایئرپورٹ پر سعودی ولی عہد کا استقبال کیا اور انہیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور خود گاڑی چلا کر ایئر پورٹ سے وزیر اعظم ہاؤس تک لے کر آئے۔ بعد ازاں ہونے والی تقریب میں سعودی شہزادہ نے جو باتیں کیں ان میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے خود کا پاکستان کا سفیر قرار دیا تھا۔ اس دورے میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین آئل ریفائنری لگانے، پیٹروکیمیل اور کان کنی سمیت دیگر شعبوں میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں اور MOUs پر دستخط کیے گئے جبکہ اسلام آباد میں پاکستان اور سعودی عرب کے تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کا ایک اجلاس بھی ہوا۔

مودی جی کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کی ناکامی کے آغاز کے ساتھ ہی یہ سوال پوچھا جانے لگا تھا کہ کیا مودی جی سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان اور اربوں ڈالر کے معاہدے کرنے کے بعد جب بھارت پہنچیں گے تو کیا مودی جی سعودی ولی عہد سے ملنے سے انکار کر دیں گے؟ لیکن وہی ہوا جس کی پاکستان میں توقع کی جا رہی تھی یعنی مودی جی پاکستان کے سفیر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو نہ صرف ایئر پورٹ پر لینے پہنچے بلکہ ان سے گلے بھی لگے۔ لیکن باوجود کوشش کے مودی جی سعودی ولی عہد یا سعودی وزیر خارجہ سے ایسا کوئی ایک جملہ بھی کہلوانے میں ناکام رہے جو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ پلوامہ حملے کے لیے انہوں نے بھی ثبوت طلب کیے اور خطے میں انسداد دہشت گردی کے لیے باہمی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرکے مسائل حل کیے جائیں۔ یہ وہی بات تھی جو پاکستان میں پہلے عوامی سطح پر اور پھر سرکاری سطح پر کہی گئی ہے۔ سعودی ولی عہد نے مودی جی کو اپنا بڑا بھائی تو قرار دے دیا لیکن مودی کی جھپّیوں کا سعودی ولی عہد پر کوئی اثر نہیں ہو سکا۔ بھارت اور سعودی عرب کے تجارتی تعلقات چاہے جتنے بھی اچھے اور منافع بخش ہو جائیں وہ پاکستان سے برابری نہیں کر سکتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر کبھی حرمین شریفین کو کسی بیرونی قوت سے خطرہ لاحق ہوا تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج وہاں جائے گی یا بھارتی فوجی وہاں جا کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر تیار ہوں گے؟

سعودی ولی عہد کے دورہ پر بھارتی میڈیا کو جو مایوسی ہوئی ہے اس کا اظہار تجزیوں میں کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ولاگر صحافی جہاں پلوامہ دھماکے کو انٹیلی جنس کی ناکامی بتاتے ہوئے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں CRPF کے جوانوں کو سرکاری طور پر شہید کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ ہلاک ہونے والے جوانوں کی چتاؤں پر ہاتھ سینکنے والے چینلز اس وقت کہاں تھے جب اسی فورس کے جوان اپنے میڈیکل اور پینشن وغیرہ جیسی مراعات کے لیے دہلی کے جنتر منتر میں دھرنا دیتے تھے لیکن کوئی بھی میڈیا ہاؤس ان کی خبر دینا گوارہ نہیں کرتا تھا۔ مودی حکومت سے سوال کرنے والے بھارتی صحافیوں کو دی جانے والی دھمکیوں اور گالیوں کی گونج پاکستان میں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ بھارت میں کشمیریوں کے خلاف ہونے والے پر تشدد واقعات اور اس کڑے وقت میں سکھوں کے کردار کی خبریں اور وڈیوز بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان تک پہنچ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مودی سرکار ایک دھماکے کے بعد ہونے والے شور ہنگامے میں کشمیریوں کی طویل جد و جہد اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے نظر ہٹا دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔ کیا اقوام عالم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی حالت زار سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ نظر انداز کر دیں گی؟ ہو سکتا ہے کہ بھارت میں ہونے والی ہنگامہ آرائی سے مودی جی دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں لیکن اس کے بعد انہیں پھر پاکستان اور کشمیریوں سے مذاکرات کے لیے بیٹھنا ہی پڑے گا۔

صرف ایک دھماکے کے بعد پورے بھارت میں کشمیری مسلمانوں کو بالخصوص نشانے پر لے لیا گیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں بہت صبر کے ساتھ اپنے 70 ہزار سے زائد شہیدوں کے جنازے اٹھائے ہیں لیکن کبھی کسی کمیونٹی یا لسانی اکائی کے لوگوں کو نہ تو چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی کسی کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے جتن کرنا پڑے ہیں۔ پاکستان میں متعدد بار ہلاکت خیز کارروائیاں کرکے شعیہ سنی فسادات کروانے کی بھی کوششیں کی گئی ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی عوامی سطح پر نہیں پنپ سکی۔ ان کارروائیوں میں ملوث بہت سے دہشت گرد مارے بھی گئے اور تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ شیعہ اور سنی فرقوں کے افراد کے قتل میں ایک ہی ہتھیار استعمال ہوئے تھے۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا پر تقریباً ہر روز ہی پاکستان پر حملہ کرنے کے منصوبے زیر بحث آ رہے ہیں اور پاکستان سے بدلہ لینے اور جنگ کرنے کے مقبول مطالبے کے باوجود پاکستان میں زندگی پر سکون ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں فوج کو بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے جس کا عندیہ انہوں نے اپنے خطاب میں دیا تھا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہونا شروع ہو گئی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستانی فوجی دستوں نے سرحدوں کی جانب جانا شروع کر دیا ہے تاکہ بھارت کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کے بھر پور جواب دیا جا سکے۔ تاہم پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی باتوں کے بعد معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے ٹماٹر بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور اجے دیوگن کی نئی فلم ٹوٹل دھمال پاکستان میں ریلیز نہیں کی جائیگی۔ پاکستانی گلوکاروں کے گانے فلموں سے نکال دیے گئے ہیں اور ورلڈ کپ میں بھی پاکستان سے نہ کھیلنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا۔

بھارت میں ہونے والے سیاسی شور شرابے میں کمانڈر کلبھوشن جادھو کی عالمی عدالت انصاف میں مقدمے کی سماعت کی خبریں یقیناً دب کر رہ گئی ہوں گی۔ تاہم بھارتی وکلا کا سارا زور کلبھوشن جادھو کے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا دفاع کرنے سے زیادہ ملٹری کورٹس کی حیثیت اور قونصلر کی رسائی نہ دینے اور آخر میں ممبئی حملے کے حوالے سے نواز شریف کے انٹرویو کی مثال دینے کی حد تک ہی رہا۔ لیکن عدالت میں بھارتی وفد کے ارکان بار بار اپنا سر بھی پکڑے نظر آئے اور پاکستانی وکیل کے چہرے اترے رہے۔ بھارتی وکیل کے پاس کلبھوشن جادھو کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام کے دفاع میں ٹھوس دلائل نہیں تھے۔ وہ یہ بھی نہیں بتا سکے کہ کلبھوشن جادھو کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام کا اصلی پاسپورٹ کیوں تھا۔ پاسپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس نے حسین مبارک پٹیل کو گرفتار کیا تھا لیکن بھارت سفارتخانہ کلبھوشن جادھو سے ملاقات کرنے کی درخواست کر رہا تھا۔ الزام ہے کہ کلبھوشن جادھو کو ایران سے اغوا کیا گیا لیکن ایران میں بھارت نے اس کی گمشدگی کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی حتیٰ کہ پاکستانی حکام نے اعلان کیا کہ بندر پکڑا گیا ہے۔ ایک یہ الزام لگایا گیا کہ کلبھوشن جادھو سے ذہنی اور جسمانی تشدد کر کے بیانات حاصل کیے گئے لیکن اس الزام کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے ایک ہسپتال کے جرمن ڈاکٹر کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی جس میں تشدد کا کوئی ثبوت نہیں پایا گیا۔ کلبھوشن جادھو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جب میں نے پاکستانی فوجیوں سے اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے مجھے وہی عزت دی جو ایک فوجی افسر کو دی جاتی ہے۔ بعد ازاں پاکستان میں وہ بھارتی اہلکاروں کی جانب سے اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ نا روا سلوک پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے تھے۔ بھارتی وکیل نے آخری ترپ کے پتّے کے طور پر روزنامہ ڈان میں ممبئی میں دہشت گرد حملے میں پاکستان کے کردار کے سے متعلق نواز شریف کے بیان کا حوالہ دیا جس کے جواب میں پاکستانی وکیل نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نواز شریف کو جھوٹا اور بددیانت قرار دے چکی ہیں لہٰذا ان کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں دونوں ملکوں کے وکیل اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں جس کے بعد اب فیصلے کا انتظار شروع ہو چکا ہے۔ گوکہ ملٹری کورٹ سے کمانڈر کلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے لیکن شاید بھارت کی توقعات کے برعکس کلبھوشن جادھو کو پھانسی دینا فوج کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

پاکستان میں احتساب کا شکنجہ بڑے بڑوں کو اپنی گرفت میں لیتا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف، شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق جیسے رہنماؤں کے زیر حراست آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے صوبائی وزیر علیم خان کو بھی احتساب بیورو نے آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں علیم خان کو عمران خان کی اے ٹی ایم مشین قرار دیا کرتے تھے لیکن جب انہیں حراست میں لینے کا وقت آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنی اے ٹی ایم مشین کو بجانے کی کوشش نہیں کی۔ کافی عرصے سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ 40 بڑے بدعنوانوں کی فہرست بنائی گئی ہے جنہیں پکڑا جائے گا۔ گزشتہ دنوں جب سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغاز سراج درانی کو نیب نے اسلام آباد میں گرفتار کیا اور کراچی میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر بہت سی اہم دستاویزات بھی ساتھ لے گئے تو پیپلز پارٹی کے صوبائی اور وفاقی رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔ جمہوریت کی ریل پٹری سے بھی اترتی ہوئی محسوس ہوئی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سے بھی کہا گیا کہ آپ اس دن سے ڈریں جب آپ بھی نیب کی گرفت میں آجائیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہم بی بی شہید کی پارٹی کے رکن ہیں اور ہم جبر کے ان ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی اسکرین پر بھی پیپلز پارٹی کے کئی بڑے رہنماؤں کے چہروں سے پریشانی عیاں تھی۔ میگا منی لانڈرنگ کیس میں پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری اور ان سے بڑھ کر ان کے والد پارٹی کے کو چیئرپرسن اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کا نام سرفہرست ہے جبکہ ان کے قریبی دوست انور مجید، حسین لوائی اور شرجیل انعام میمن جیسے لوگ پہلے ہی جیلوں میں بند پڑے ہیں۔ آئندہ دنوں میں مزید کئی بڑی گرفتاریوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ ممکن ہے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کے بعد کئی لوگوں پر سعودی ماڈل لگنے کا خفیہ پیغام پہنچا دیا گیا ہو۔ آئندہ مہینوں میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF کا اجلاس ہونے والا ہے جس نے پہلے ہی پاکستان کو بدعنوانیوں، منی لانڈرنگ، ٹیرر فائنانسنگ اور بااثر افراد کو سزا نہ دینے کی رجحان کے حوالے گرے لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔ FATF کے اجلاس سے قبل ہی قیاس کیا جا رہا ہے کہ بھارت، پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروانے کی بھر پور کوشش کرے گا لیکن فی الحال اسے ناکامی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے بھی نکل جائے۔

Close Menu