ماخذ اسلام، قرآن اور خانہ کعبہ پر مغربی محققین کے نئے سوال

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

بات کوئی نئی نہیں ہے اور نہ ہی بہت سے سوالات نئے ہیں۔ مشرکین مکہ بھی قرآن اور نبوت سے متعلق بہت سے سوالات کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ آج بھی غیر مسلموں کی طرف سے جاری ہے۔ مغربی محققین کے سامنے اسلام کے ماخذ، قرآنِ مجید کی سند، نبی کریم ﷺ کی زندگی اور خود خانہ کعبہ کی تاریخی اہمیت پر آج بھی ابہام کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ اہل مغرب کو تلاش ہے ان تمام ماخذوں اور تاریخی دستاویزات کی جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ آج ہمارے سامنے قرآنِ مجید کا جو نسخہ موجود ہے وہ واقعی اصلی ہے یا اس میں لوگوں نے دوسری آسمانی کتابوں کی طرح ترمیم و تحریف کر لی ہے ۔
 اہل مغرب کے سامنے بہت سے سوالات ہیں اور وہاں کی یونیورسٹیز میں قرآنِ مجید کو بھی تحقیق کا موضوع بنا لیا گیا ہے۔ محققین کے سامنے تاریخ اسلام کے ابتدائی ایام کے زیادہ دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں اور تاریخ اسلام بھی وصال کے تقریباً دو سو سال بعد لکھی گئی ہے۔ البتہ ساتویں صدی عیسوی کے بعض عیسائیوں کی بعض تحریروں سے نبی کریم حضرت محمد ﷺ اور اسلام کے ابتدائی دور کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے حضرت محمد ﷺ کو معاذ اللہ جھوٹا نبی لکھا ہے جنہوں نے فلسطین پر عربوں کی مہم کی قیادت فرمائی۔ تاریخ اسلام کے مطابق بیت المقدس حضرت عمرؓ کے زمانے میں فتح ہوا۔ اس کے بعد کی تحریروں میں عیسائیوں نے حضرت محمد ﷺ کو جنرل، معلّم اور بادشاہ کا نام دیا ہے۔ تاہم انہیں عربوں یا مسلمانوں کی جانب سے بالکل ابتدائی دورکے کوئی تاریخی دستاویزی ثبوت اب تک نہیں ملے۔
مغربی محققین کے سامنے یہ سوال اہم ہے کہ ابتدائی تاریخی کتب یا دستاویزات کہاں گئیں یا ان کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کے ساتھ ہی وہ ابن ہشام کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ اس دور میں جو تاریخ لکھی گئی اس میں حیاتِ طیّبہ سے متعلق بہت سی غیر متعلقہ، غیر مصدقہ، توہین آمیز اور بوگس باتیں تھیں جس کی وجہ سے ان دستاویزات کو تلف کر دیا گیا۔
مغربی محققین اس بات کو تو تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام خود بخود ہی نہیں پھیل گیا اور نہ ہی مسلم روایات اور اس کے ماخذ کو مسترد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسلام کسی سیاسی، مذہبی اور معاشرتی خلا کی پیداوار ہے۔ ظہور اسلام عرب کے دور دراز صحرائی علاقے میں ہوا اگر یہ ایران یا روم کے علاقوں میں ہوتا تو اس مذہبی تحریک کو سختی کے ساتھ کچل دیا جاتا۔ مغربی محققین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام ایک ایسے دور میں وجود میں آیا جب ایران اور روم کی سلطنتیں آپس میں طویل جنگیں لڑنے کے بعد کمزور ہو رہی تھیں اور عرب کا بت پرست معاشرہ معاشی عدم استحکام کا شکار ہو رہا تھا۔ عیسائیوں کے بت پرستوں اور یہودیوں کے سامنے ابھرنے کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے دینِ اسلام تخلیق کیا گیا تاکہ اپنی حکومت بنائی جائے اور معاشی طاقت حاصل کی جائے۔
اہل مغرب نے اپنی دانست میں یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ وحدانیت کا تصور کوئی نیا نہیں ہے بلکہ بحر اوقیانوس سے لے کر وسطی ایشیا تک کے قدیم مذاہب میں خدا کی وحدانیت کا تصور موجود تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ حضرت آدم ؑ سے لے نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ تک آنے والے تمام انبیائے کرام نے عقیدۂ توحید کی تبلیغ کی اور اپنے ماننے والوں کو نیک عمل کرنے اور یوم آخرت پر یقین رکھنے کی تلقین کی۔ اسلام نے ان تمام ادیان کی تکمیل کی ہے جو اس سے پہلے دوسری قوموں کو دیے جاتے رہے ہیں۔
ان تمام دلائل کو پیش کرنے کے بعدمعروف برطانوی تاریخ داں ٹام ہالینڈ جیسے محققین دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآنِ مجید میں جو باتیں لکھی ہیں وہ بھی دوسری کئی مذہبی اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں یا سینہ بہ سینہ روایات کی شکل میں وہ کہانیاں پہلے سے بیان کی جا رہی تھیں جنہیں بہت ذہانت کے ساتھ ایک کتاب کی شکل میں مرتب کر دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اہل مغرب کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآنِ مجید کوئی الہامی کتاب نہیں ہے۔
مسلمانوں کا کامل عقیدہ ہے کہ قرآنِ مجید کلام اللہ ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی قرآن کو مقدس الہامی کتاب تصور کرتے رہے ہیں، تاہم مغربی محققین اس عقیدے ایک طرف رکھ کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر قرآنِ مجید کلام الٰہی نہیں ہے تو اس کتاب کا اصل ماخذ کیا ہے؟ یہ کہاں لکھا گیا؟ اس کی اصل شکل کیا تھی اور اس کے سامعین کون تھے؟ بہت سی باتیں ابھی تک پوشیدہ ہیں۔
قرآن پر تحقیق کے حوالے سے یہ سوال کہ یہ مقدس کتاب کہاں لکھی گئی ؟ یعنی اس بات کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ظہورِ اسلام مکہ میں نہیں بلکہ کہیں اور ہوا ہے۔
دوسرا سوال یہ کہ قرآن کی اصل شکل کیا تھی؟ یعنی یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارے پاس جو نسخہ صدیوں سے موجود ہے وہ اصل قرآنِ مجید سے مختلف ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ خاص طور پر مغربی ممالک میں رہنے والے بہت سے مسلمانوں نے اس قیاس کو اگر مکمل طور پر تسلیم نہیں بھی کیا ہے تو مشکوک ضرور بنا دیا ہے کہ شاید یہ اصل قرآن نہیں ہے بلکہ آج ہمارے پاس جو کتاب موجود ہے اس میں ترمیم و تحریف کرکے پیش کیا گیا ہے۔ اس کی آیات کو بعد میں ہم قافیہ اور ہم وزن بنایا گیا ہے۔ حالانکہ سورة الکوثر کے نزول کا واقعہ اس شک کو رفع کرتا ہے کہ مشرکین مکہ سے کہا گیا کہ اس طرح کی چوتھی آیت لکھ لاﺅ مگر وہ اپنی تمام تر فصاحت و بلاغت کے باوجود ایک آیت بھی نہ لکھ سکے تھے۔
اسلام کے ابتدائی دور پر تحقیق کرنے مغربی محققین نے خانہ ٔ کعبہ کو قبلہ ماننے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے یہ شبہ ظاہر کیاہے کہ حضرت محمد ﷺ کی جہاں پیدائش اور پرورش ہوئی اور جہاں اسلام کا ظہور ہوا وہ مکہ نہیں بلکہ کوئی اور شہر تھا جہاں ہر طرف باغات ، میٹھے پانی کے چشمے اور زیتون کے درخت تھے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسی قدیم مساجد کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں جن کا رخ نہ بیت المقدس کی طرف ہے اور نہ ہی خانۂ کعبہ کی طرف ہے بلکہ ان کا رخ شمال کی سمت میں ہے۔ تاہم وہ اس بات کا جواب دینے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ شمال کے رخ پر مسجد بنانے کی کیا وجہ رہی ہوگی۔ ان تمام باتوں کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ برسوں کے بعد کوئی دریافت کرکے ہمیں یہ بتایا جائے کہ اصل خانہ کعبہ مکہ میں نہیں بلکہ کہیں اور تھا، جسے بعد میں سیاسی و معاشی ضرورتوں کے تحت تبدیل کر دیا گیا تھا۔
یہ بحث کوئی نئی نہیں ہے کہ قرآنِ مجید الہامی کتاب ہے یا نہیں لیکن اب تاریخی تحقیق کی آڑ میں قرآنِ مجید اور خانہ کعبہ کی جانب پروپیگنڈا کے نئے تیر چلائے گئے ہیں۔اہل مغرب نے پہلے” تہذیبوں کے تصادم“ کا نظریہ پیش کیاجس کے بعد ہم نے حالیہ برسوں میں مسلم ممالک پر جنگیں مسلط ہوتے دیکھیں۔ اب ابتدائے اسلام پر تحقیق کے نام پر قرآنِ مجید اور خانہ کعبہ پر سوال اٹھایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو ان کے مرکز سے دور کیا جا سکے۔ ان سوالات کے پیچھے یہ سوچ کارفرما نظر آتی ہے کہ اگر مسلمانوں سے قرآن اور قبلہ چھین لیے گئے تو پھر یہ بھی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی طرح ہی ہو جائیں گے۔ ادھر بھارت کے بعض سوامی پنڈتوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ خانہ کعبہ درحقیقت شیو مندر ہے جس کے گرد تمام مسلمان چکر لگاتے ہیں اور ہجر اسود اصل میں شیو کی مورتی ہے جس کی تمام مسلمان پوجا کرتے ہیں۔ اسی طرح حج بھی درحقیقت ہندوؤں کی ایک قدیم عبادت ہے۔ بظاہر ہمیں یہ ایک معمولی سے آواز لگتی ہے لیکن دنیا میں اربوں لوگ ایسے ہیں جنہیں اسلام اور تاریخ اسلام سے واقفیت نہیں ہے ، وہ بہت جلد اس پروپیگنڈا کے زیر اثر آ جائیں گے اور کوئی بعید نہیں ہے کہ آج سے سو پچاس سال بعد بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پرحرم مکہ میں دوبارہ ان بتوں کو نصب کروا نے کے لیے باتیں کی جانے لگیں جنہیں فتح مکہ کے موقع پر نکال کر پھینک دیا گیا تھا۔
اکیسویں صدی میں پروپیگنڈا کے طریقے تبدیل ہو رہے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کی سوچ کو آہستہ آہستہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے فتنے یقیناً ماضی میں بھی سر اٹھاتے رہے ہیں لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جنم لینے والے ایسے تمام سوالات کا ابھی سے دلیل، ثبوت، تحقیق اور دستاویزی فلموں کے ذریعے جواب دینا ضروری ہو گیا ہے۔
یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ اسلام کے متعلق تحقیق کرتے ہوئے جہاں اپنے مذہبی اور نسلی تعصبات کو پیش نظر رکھتے ہیں وہیں مسلمان تاریخ دانوں پر مذہبی عقیدت کے جذبات غالب آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بالخصوص مغربی ممالک میں رہنے والے کمزور عقیدہ مسلمان، مغربی اسکالرز کی تحقیق پر زیادہ توجہ دیتے اور اسے زیادہ مستند تسلیم کرتے ہیں۔دوسری جانب مسلم ممالک میں ایک مخصوص سوچ اور طرز زندگی کے حامل لوگ ہی اسلامی تعلیم اور تحقیق کی جانب گامزن ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ مدارس اور دوسرے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کے درمیان ایک وسیع معاشرتی اور نفسیاتی فاصلہ دکھائی دیتا ہے جسے پاٹنا فی الوقت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
آج مغربی ممالک میں ابتدائی تاریخ اسلام ،قرآنِ مجید اور احادیث کی کتب کوتحقیق کے جدید معیارات کے مطابق پرکھا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست تسلیم کی جا سکتی ہے کہ تاریخ اسلام کتب میں تضاد موجود ہے جو درست معلومات نہ ملنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ بھی ہمیں غیر مسلم محققین بتائیں گے کہ تاریخ اسلام اور احادیث کی کتابوں میں لکھی ہوئی کونسی باتیں درست ہیں اور کونسی باتیں غلط ہیں اور بعد میں شامل کی گئی ہیں؟
معروف برطانوی تاریخ داں ٹام ہالینڈ نے اپنے ایک حالیہ لیکچرمیں یہ کہاہے کہ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، بوکو حرام اور دولت اسلامیہ کی شکل میں اسلام کی جو پر تشدد شکل ابھر کر سامنے آئی ہے وہ ختم ہو جائے گی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہاکہ جس طرح عیسائیت کا چہرہ بدل گیا ہے اسی طرح رواں صدی میں اسلام بھی بدل جائے گا۔ تاہم اپنے لیکچر میں انہوں نے اس نکتے کو اجاگر نہیں کیا کہ مشرق وسطیٰ میں مسلح اسلامی تنظیمیں اسرائیل اور اس کی صیہونی سوچ کے خلاف ابھرنا شروع ہوئی تھیں۔ آج دولت اسلامیہ ایک بڑے خطرے کے طور پرسامنے آئی ہے لیکن دولت اسلامیہ کی مہم جوئی کی وجہ سے شام اور عراق کی جو آبادی جن علاقوں کو خالی کر کے یورپ اور دوسرے ملکوں میں منتقل ہو رہی ہے، کیا وہ علاقے گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں شامل نہیں رہے ہیں؟
 مغرب میں کی جانے والی تحقیق کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اہل مغرب ابتدائی دور کے مومنوں کو بھی تلاش کر رہے ہیں کہ وہ کیسے لوگ تھے؟ ان کے اخلاق اور اطوار کیسے تھے؟ جو تعداد میں کم ہونے کے باوجود بڑی آبادیوں والے شہروں کو نہ صرف فتح کر لیتے تھے بلکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے واے لوگوں پر حکومت بھی کرنا شروع کر دیتے تھے۔ وہ کون تھے جنہوں نے دلوں کو مسخر کیا، نہ اپنا جاہ و جلال دکھانے کے لیے تعمیرات کیں اور نہ ہی شہر اجاڑے کہ آج ان کے کچھ آثار مل جاتے۔سچ یہ ہے کہ اہل مغرب کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ وہ کن لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں؟
دوسری جانب مسلمانوں کی اکثریت بھی صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں سے نا واقف ہیں۔ وہ جہاں گئے وہاں کے لوگوں پر اپنے اثرات چھوڑ گئے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق معاشروں میں ایسی تبدیلیاں بپا کیںکہ جن کے اثرات آج تک ختم نہیں ہو سکے ہیں۔ سچ ہے کہ اگر آج صحابہ کرام ؓ جیسی شخصیات کے قریب تر لوگوں کی قلیل تعداد کے ہاتھ میں مسلم دنیا کی قیادت آ جائے تو مسلم دنیا کی کایا ہی پلٹ جائے۔
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
Close Menu