کشمیر کا معرکہ ۔۔۔۔۔ پاک فضائیہ کی برتری

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

27 فروری 2019ء پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جب رات کے پچھلے پہر، سرد اور تاریک خوابیدہ رات میں بھارتی طیاروں کے ایک جھنڈ نے پاکستانی علاقوں میں دراندازی کی اور چار بم بالاکوٹ کے قریب ایک پہاڑی کے دامن میں گرائے لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاک فضائیہ نے اس بھارتی حملے کا جواب دن کے اجالے میں دیا۔ پاکستان ساختہ JF-17 تھنڈر طیاروں نے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر چھ اہداف کو نشانہ بنا کر تھوڑے فاصلے پر بم گرائے اور ان طیاروں کے پیچھے آنے والے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو مار گرایا گیا۔ جن میں سے ایک آزاد کشمیر اور دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ بھارت نے مجبوراً ایک طیارے کی ٹیکنیکل بنیادوں پر تباہی کو قبول کیا ہے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ ان کا ایک پائیلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن پاکستان میں پکڑا گیا تھا جسے پاکستان نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت بھارت کو واپس کر دیا لیکن بھارت کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل جنگ و جدل کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی پائیلٹ ڈر اور دباؤ کی وجہ سے واپس کیا ہے اور پاکستان پر جنگ کے خوف اور دباؤ کی فضا اس وقت تک بنا کر رکھنی چاہیے جب تک پاکستان سدھر نہ جائے۔ دوسرے لفظوں میں بھارتیوں کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کو بھارت کی غلامی کرنے پر مجبور کیا جائے۔
گزشتہ ہفتے پاک فضائیہ نے ایک معرکہ ہی سر نہیں کیا بلکہ بھارت کے نوآبادیاتی قوت ہونے کے تصور پر بھی کاری ضرب لگائی ہے اور برابری سے جواب دیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس کاری ضرب کے سماجی اثرات بھارت میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں لیکن بھارت کے حکمراں طبقات کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ اقتدار ان کے ہاتھوں سے نکل جائے۔ بھارت کے جھوٹ کے مقابلے میں پاکستان کا سچ بھی اسے ہضم نہیں ہوگا یہی وجہ ہے کہ ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی کے اعلان پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بات کو گھماتے ہوئے کہا کہ ابھی تو پائیلٹ پروجیکٹ مکمل ہوا ہے۔ مودی جی ایک دن امن کی بات کرکے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کروا کر مودی جی کے منھ سے رام رام تو ضرور نکل رہا ہے لیکن انہوں نے اپنی بغل میں چھری بھی چھپا رکھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 1965ء کی جنگ سے پہلے بھی کشمیر کی فضاؤں میں پاک فضائیہ نے اسی قسم کے معرکے سر کیے تھے جس کا ایک مظاہرہ ہم نے گزشتہ ہفتے دیکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں لوگوں کے شور مچانے کے باجود الیکشن جیتنے کے لیے جنگی ماحول برقرار رکھا جائے گا۔ بھارتی الیکٹرانک اور ڈجیٹل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی جاتی رہی ہے اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ اپنے گنوار پن، الزام تراشی اور جھگڑا کرنے کی عادت سے باز نہیں آئیں گے۔ ڈجیٹل فورمز پر بھارتی باشندوں کی بد زبان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی معاشرے میں لٹھ باز غنڈوں، گلیارے، مغرور، بدتمیز اور پاکستان کے بدخواہوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ یہ اپنی چیخ چلاہٹ میں دوسروں کی آواز دبانے سے باز نہیں آئیں گے۔ اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو جلد ہی جنگی جنون میں مبتلا بھارتی باشندوں کو یہ باور کروانے کی ضرورت پیش آ جائے گی کہ وہ ہم سے بہتر جنگ کرنا نہیں جانتے اور اگر انہوں نے اپنی فوج کی تعداد کے بل بوتے پر اپنے خوابوں کے مطابق پاکستان پر قبضہ کر بھی لیا تو تب بھی وہ پاکستانیوں کی مزاحمت اور لڑائی ختم کرتے کرتے خود مٹ جائیں گے۔
گزشتہ ہفتے کے فضائی معرکے میں پاکستان کے دو بھارتی طیارے مار گرانے کے دعوے کے جواب میں بھارت ایک طیارے کی تباہی اور ونگ کمانڈر ابھینندن کی گرفتاری کی وجہ سے مرے دل کے ساتھ قبول تو کر لی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بالاکوٹ کے قریب جابہ میں تربیتی کیمپ کی تباہی کا دعوے کے ساتھ پاکستانی ایف سولہ طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ بھی بڑے زور و شور سے کیا جا رہا ہے اور اپنے اس دعوے کی دلیل کے طور پر AIM 120c میزائل کا ٹکڑا دکھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ صرف F-16 سے فائر کیا جا سکتا ہے۔ اس دعوے کا ایک مقصد امریکہ کو F-16 اپنی فضائیہ کے خلاف استعمال کرنے پر تشویش اور پاکستان پر پابندیوں کی کوشش ہو سکتا ہے۔ اگر بھارتی دعوے کو درست مان بھی لیا جائے تو بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس فضائی معرکے میں پاکستان کی فضائی حدود میں رہتے ہوئے BVR میزائل استعمال کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ F-16 طیارے محض نمائش یا پائلٹوں کے سیرسپاٹوں کے لیے نہیں حاصل کیے گئے ہیں بلکہ در اندازی کرنے طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ بھارت میں یہ زعم ہے کہ ان کی فوج بہت طاقتور ہے اور وہ پاکستان کو آسانی سے دھمکا دیں گے لیکن انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سپر پاور سوویت یونین کے طیاروں کو بھی پاکستان میں گھس آنے پر سبق سکھایا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے کے فضائی معرکے کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں بھارت کے دوسرے زخمی پائیلٹ کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا تھا لیکن بعد یہ اطلاع غلط قرار دے دی گئی اور بھارتی ایئر فورس کی جانب سے بھی اس معاملے میں کوئی تردد نہیں کیا گیا اور انہوں نے صرف ایک طیارے کی تباہی قبول کی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا جس کا پاکستانی فضائیہ کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں گرنے والے طیارے کے جلتے ہوئے ملبے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں جس ایک جلی ہوئی لاش بھی نظر آئی اور آس پاس کھڑے ہوئے عام کشمیری شہریوں کی سیٹیوں اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ اس صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی فوجیوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں ضرور فکر مند ہو جانا چاہیے۔
پاک فوج کے انکار کے باوجود بھارت میں مسلسل یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ان کے پرانے مگ 21 طیارے نے پاکستان کا F-16 مار گرایا ہے لیکن بھارتی فوجی افسران یہ بتانے سے بھی قاصر رہے ہیں کہ ان کے مگ 21 طیارے میں کونسا BVR میزائل لگا ہوا تھاجس کی رینج پاکستانی میزائل سے زیادہ تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے فضائی معرکے میں F-16 نہ اڑانے کی ایک وجہ ان طیاروں کے بیرون پاکستان، خاص طور پر بھارت کے خلاف جارحانہ استعمال پر امریکی پابندیاں ہو سکتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان طیاروں میں لگا ہوا ٹریکنگ سسٹم خود ہی امریکیوں کو آگاہ کر سکتا ہے کہ مذکورہ طیاروں کی لوکیشن بتا سکتا ہے، یا پاکستان میں کوئی F-16 طیارہ تباہ ہوا ہے یا نہیں یا یونہی ہوائیاں چھوڑی جا رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان کے F-16 تباہ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں لہٰذا اس پروپیگنڈا کو فوری طور پر غلط ثابت کرنا اور دو بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیقی رپورٹ جاری کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
27 فروری کے دن کو اس لیے بھی قابل فخر قرار دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں بنائے گئے JF-17 تھنڈر طیارے نے اصلی فضائی جنگ میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کا ڈیلٹا ونگ طیارہ تیجاز ابھی تک مختلف نوعیت کی آزمائشی پروازیں ہی کر رہا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس کامیابی سے پاکستان میں ایویونکس، ڈرون ٹیکنالوجی، طیارہ سازی اور ہوا بازی کی صنعت میں مزید آگے بڑھنے کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ صرف اس فضائی معرکے میں حصہ لینے والے پائیلٹ ہی نہیں بلکہ زمین اور فضا میں طیاروں کو سپورٹ فراہم کرنے والے تمام افراد کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں یہ کامرانی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے افسران کے چہروں پر چھائی ہوئی پریشانی بتا رہی تھی کہ پاکستان ایئرفورس کے بارے میں ان کے کچھ اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں اور بدلے ہوئے حالات میں انہیں اپنی حکمت عملی اور اپنے ہتھیاروں کے انتخاب پر نئے سرے سے غور کرنا پڑے گا۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے AIM-120c میزائل کے ٹکڑے کی نمائش کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل صرف F-16 استعمال کر سکتا ہے جبکہ پاکستانی فوجی ترجمان نے F-16 استعمال کرنے کی تردید کی ہے۔ اس کا یک مطلب یہ نکالا جا سکتا ہے کہ تھنڈر طیارے کو ایف سولہ کے لیے مخصوص سمجھے جانے والا میزائل استعمال کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ تھنڈر لڑاکا طیارے کی اصل جنگی صورتحال میں کامیاب پرواز نے اسے آزمائے ہوئے طیاروں کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے جو دوسرے ممالک کی ایئرفورس کی ترجیحات میں شامل ہو سکتا ہے۔
Close Menu