محمد علی کے فن کا چراغ جلتا رہے گا

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: معین اختر

محمد علی جن کوساری دنیا ’’بھیا‘‘ کہتی تھی،کبھی کبھی تو ان سے بڑی عمر کے لوگ بھی ان کو بھیا کہا کرتے تھے، انہیں دُنیا سے گئے کئی سال بیت گئے ۔ آج ان کی برسی ہے۔ اس موقع پر ممتاز اداکار معین اختر کی غیر مطبوعہ آٹوبائیوگرافی سے ایک یاد گار تحریر نذرِ قارئین ہے۔

’’یہ 1964کی بات ہے، میں نے ان کی فلم ’’ خاموش رہو‘‘ دیکھی اور میں ان کا دیوانہ ہوگیا اور میں ہی کیا ایک زمانہ ان کا دیوانہ ہوگیا، اگرچہ میں ان دنوں شوبز کی دنیا سے وابستہ نہیں تھا، پڑھ رہا تھا اور گھر کا بڑا ہونے کے ناطے روزگارکی تلاش میں تھا ، مجھے کیا پتہ تھا کہ تقدیر مجھے شوبز میں لے آئے گی اور پھر1967میں شوبز میں آہی گیا۔1968میں نگار ایوراڈز کی تقریب ہوئی، ابراہیم نفیس صاحب نے مجھے پرفارم کرنے کوکہا،خوش تو بہت ہوا، لیکن ڈر بھی رہا تھا،کیوں کہ پہلی مرتبہ کسی ایسے شو میں جانے کا اتفاق ہورہا تھا ، جہاں کم و بیش پاکستان کے نامور اداکار شرکت کررہے تھے، ان کے سامنے پرفارم کرنا حوصلے اور ہمت کا کام تھا ۔ ابراہیم نفیس صاحب میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ معین! آج تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم اچھے آرٹسٹ ہو، ذرا جم کے پرفارم کرنا۔ ان کی بات سن کر میں مزید ڈر گیا۔ خیر میں نفیس بھائی کے ساتھ ریوالی سینما پہنچ گیا، سینما کے باہر بہت رش تھا، جتنے لوگ تھے، اس سے زیادہ پولیس والے دکھائی دے رہے تھے۔ ایوارڈ والے حصے کی میزبانی نفیس بھائی کو کرنا تھی اور ورائٹی شو کی نام ور کمپیئر شفقت دارا کو ۔خیر شو شروع ہوگیا ۔ پہلے ایوارڈز دیے جانے لگے ، میں ہال سے باہر جو کچھ اسٹیج پرکرنا تھا ،وہ یاد کررہا تھا ۔ایوارڈ کا سلسلہ ختم ہوا تو موسیقی کا آغاز ہوا۔ نفیس بھائی نے مجھ سے کہا، معین شو عروج پر پہنچ گیا ہے۔ میں نے شفقت دارا سے کہہ دیا ہے۔

اس ائٹم کے بعد تمہاری انٹری ہے Wish you all the best یہ کہہ کر نفیس بھائی ہال میں چلے گئے۔ شفقت دارا نے میرے نام کا اعلان کیا ، ہال میں موجود کچھ لوگ مجھے جانتے تھے، اس لیے کافی تالیاں بجیں اور میں اپنے آئٹمز سنانا شروع کیے، قہقہوں اور تالیوں کا شور مجھے بتا رہا تھا کہ میں ہٹ ہو گیا ہوں، اسی دوران سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ میں نے محمد علی صاحب کی نقل کی ، وہ اتنی ہٹ ہوئی کہ محمد علی صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوکر تالیاں بجانے لگے۔ ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ اگر اس روز وہ داد دینے میں کنجوسی کرتے تو شاید مجھے اس چمکتی دنیا میں آنے کا اتنا اچھا موقع نہیں ملتا۔ محمد علی کے کھڑے ہونے کا یہ فائدہ ہوا کہ سارا ہال کھڑا ہوگیا اور بہت دیر تک تالیاں بجتی رہیں، اس وقت میں دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا کہ اس نے میرے رزق کے دروازے کھول دییے، مجھے ہر ایک مبارک باد دے رہا تھا ۔ ہر کوئی میری پیٹھ تھپک رہا تھا ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کہوں۔ اسی دوران محمد علی ہال سے باہر آئے تو ان کی نظر مجھ پر پڑی، فوراً میری طرف آئے اور بڑے پیار سے مجھے گلے لگایا اور گویا ہوئے، بہت خوب چاند، بہت اچھے آرٹسٹ ہو۔ میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ یہ میری ’’ بھیا‘‘ سے پہلی ملاقات تھی، اس ملاقات کے نقوش ذہن میں اتنے پختہ ہیں کہ لگتا ہے، جیسے کل کی بات ہو۔ بہت عرصے بعد ایک دن لاہور میں ایوارڈز کے شو میں میری ان سے ملاقات ہوئی، بہت محبت اور خلوص سے ملے اور گھر آنے کی دعوت دی ۔ دوسرے روز میں ان کے گھر گیا۔ گھر انتہائی نفاست سے سجا ہوا تھا، جس زمانے میں ان کے گھر کی ڈیکوریشن ہو رہی تھی ، اخبارات میں ان کے بیڈ روم کی سجاوٹ کے چرچے بہت تھے، بیرون ملک سے ایک بیڈ منگوایا تھا، میں نے اس بیڈ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی، علی بھائی نےملازم سے کہا کہ معین کو بیڈ روم دکھا دو۔

بیڈ دیکھ کردل باغ باغ ہوگیا، لگتا تھا کہ کسی بادشاہ کی خواب گاہ ہو، میں نے کہا!! سنا ہے ڈائینگ ٹیبل کا شیشہ بھی باہر سے آیا تھا ، جسے لینے کے لیے آپ اور بھابھی خود کراچی گئے تھے۔ تو انہوں نے وہ ڈائننگ ٹیبل بھی دکھائی، میں بھیا کے ساتھ کافی دیر بیٹھا رہا، واپس جانے کو دل تو نہیں چاہتا تھا کہ اجازت طلب کروں، لیکن ان کی مصروفیت کے باعث میں نے اجازت چاہی۔ ایک دفعہ ’’ پرائم ٹائم شو‘‘ این ٹی ایم کے لیے کر رہا تھا ، انٹرویو کے لیے بھیا کراچی آئے، میں انہیں لینے ایئرپورٹ گیا، ہم ہوٹل میں باتیں کر رہے تھے کہ ایک دم کہنے لگے، تجھے معلوم ہے میرا ایک گردہ ہے، میں سمجھا مذاق کر رہے ہیں، لیکن وہ سچ کہہ رہے تھے، میں نے پوچھا!!! آپ کو کیسے معلوم ہوا، کہنے لگے کہ ڈاکٹر نے مجھے الٹراساونڈ کروانے کے لیے کہا تو اس میں ایک ہی گردہ نظر آیا تو کہنے لگے، میں نے کہا آپ کی مشین خراب ہے۔ پھر دوسری مشین سے الٹرا ساونڈ کیاگیا، تو اس میں بھی ایک ہی گردہ نظر آیا، تب پتہ چلا کہ میرا ایک ہی گردہ ہے یہ کہہ کر ہنسنے لگے ۔ بھیا بہت بڑے آدمی تھے، پُرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی فلموں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ کیسے کیسے رول ادا کیے ، جو بھی کردار ادا کیا، وہ اس کا حصہ لگتے ، اگر ’’ آگ کا دریا‘‘ میں وہ ڈاکو بنے تو ایسا لگا کہ شاید یہی کام کرتے ہیں۔ ’’ انسان اور آدمی‘‘ میں ان کا کردار ایک نمونہ تھا ۔ ’’ کنیز‘‘ میں ایک مغرور نواب زادہ کا رول کون فراموش کر سکتا ہے۔ بھیا شاید ایک جیسی فلموں میں کام کر کر کے اکتا گئے تھے۔ نئی کہانیاں نئے سبجیکٹ گویا ختم ہوتے جارہے تھے۔ بھیا بہت ہی شفیق انسان تھے، جب کسی تقریب میں کوئی لڑکی یا خاتون بھیا سے ملتی تو، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ بڑے شفقت سے ایک بزرگ کی طرح سر پر ہاتھ رکھتے تھے، ان سے لوگ مرعوب بھی بہت ہو جاتے تھے اور بھیا کو اس بات کا علم بھی تھا، بہت ساری بیماریوں نے ان پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا، لیکن بھیا ان سب سے لڑتے رہے، کبھی کسی سے کوئی شکایت نہیں کی، کبھی کسی چیز کا رونا نہیں روتے۔ کبھی فلم انڈسٹری کی زبوں حالی کا ذکر نہیں کیا۔ چپ چاپ جو کر سکتے تھے ، کرتے رہتے ، جب ڈاکٹرز نے انہیں بائی پاس کا مشورہ دیا تو یہ طے ہوا کہ ان کا آپریشن امریکا میں ہوگا۔

امریکا کے ایک شہر بالٹی مور میں میرے دوست ظفر نقوی کا فون آیا اس نے کہا کہ معین، بھیا علاج کروانے آ رہے ہیں، میں کوشش کروں گا کہ وہ میرے گھر ٹھہریں۔ کسی کے گھر خواہ کسی کا محل ہی کیوں نہ ہو ٹھہرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، ان کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ ملک سے باہر یا ملک میں کسی خیراتی شو میں شرکت کا کبھی کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے، نہ صرف معاوضہ بلکہ ٹکٹ ہوٹل کے اخراجات سب کچھ برداشت کرتے تھے۔ ظفر نقوی کا فون دوبارہ آیا کہ میری بیگم بھیا اور بھابھی کو گھر لے آئی ہیں، بھیا کا بائی پاس ہوا، لیکن اس میں کچھ خرابی رہ گئی تھی ، جس نے بعد میں بھیا کو بہت تکلیف پہنچائی، کچھ عرصہ امریکا میں رہ کر بھیا واپس پاکستان آ گئے، کچھ دنوں بعد ظفر نے فون پر اطلاع دی کہ معین! بھیا دُنیا سے چلے گئے!!

یہ سن کر میں رونے لگا، میں جانتا ہوں موت برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری بھابھی، بہن،ثمینہ، بڑے بھیا ارشاد علی،رضو باجی سب کو صبر عطا فرمائے اور انہیں اس صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین۔‘‘

دفاعی صنعت

ان دنوں پاکستان میں حکومت گرانے اور بدعنوانی کا مال بچانے کی مہم زوروں پر ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر جو بڑی تبدیلی یہ

مکمل پڑھیے

جنازے پر سیاست

جوانی میں جنازوں پر جانے سے وحشت ہوتی تھی۔ کبھی غم، کبھی غصہ، اور ہمیشہ زندگی کی بے ثباتی کا احساس۔ اب ایسا کچھ نہیں

مکمل پڑھیے
Close Menu