کالعدم تنظیمیں : واضح فیصلوں کی ضرورت

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

کیا پاکستانی عوام کسی بھی قسم کی مذہبی، سیاسی یا معاشی دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں؟ جب ایسے کسی بھی گروہ کو پاکستانی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے تو پاکستان کو ہی دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا ملک قرار دینے کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں؟ بھارت اس معاملے میں پیش پیش ہے اور اسرائیل اس کا ساتھی ہے، جس کی ریاستی دہشت گردی، مذہبی منافرت، نسل پرستی اور توسیع پسندی کی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بھارت کے حکمراں طبقات کی بھی یہی سوچ ہے حتیٰ کہ نصابی کتابوں کے ذریعے اکھنڈ بھارت بنانے کا خیال بچوں کے ذہن میں ڈالا جا رہا ہے جس میں پاکستان، افغانستان، سری لنکا، برما، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان شامل تھے۔ موجودہ دور دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنا تو ممکن نہیں رہا ہے لیکن بھارتی قائدین اور عوام پاکستان کو کم از کم چار حصوں میں تقسیم کرنے کی خواہش کا اظہارتقریباً روزانہ کرتے ہیں۔ پلوامہ دھماکے اور فضائی جھڑپوں کے بعد اس معاملے پر بھارت میں کچھ زیادہ ہی تواتر سے باتیں ہونے لگی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ بھارت میں انتخابات سے پہلے پاکستان کے ساتھ جنگ کا ماحول بنانے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آ رہی ہے کہ مودی حکومت کے پاس پچھلے پانچ برس کی کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ خاص نہیں ہے، اس لیے سرحدوں کشیدگی اور محدود مدت کی جنگ سے سیاسی فوائد مل سکتے ہیں، لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ جنگ محدود مدت کی ہوگی۔ بھارت میں مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پاک فوج کے کٹھ پتلی وزیر اعظم ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اسی بیانیہ کو لے کر چل رہی ہے۔ شاید اسی نظریاتی قربت کی وجہ سے ہی بعض سیاسی قائدین پاکستانی فوج اپنی دشمن نظر آتی رہی ہے اور اب بھی سنگین بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں ملوث افراد کو فوج ہی اپنی سب سے بڑی دشمن نظر آتی ہے حالانکہ سنگین بدعنوانیوں ، منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیےFATF نے ڈیڈلائن دی ہوئی ہے۔ پلوامہ واقعے کے بعد پاک بھارت سرحدوں پر کشیدگی جس سطح پر پہنچی ہے اس کا بنیادی مقصد جنگ سے زیادہ پاکستان سے خطے میں اپنی بالادستی قبول کروانااور اپنی مرضی کی شرائط پر کچھ ایسے معاہدے کرنا ہے جس سے پاکستان عملاً اپنی خود مختاری اور آزادی کھو بیٹھے اور مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھانا بند کر دے۔ سرحدوں پر کشیدگی بڑھا کر پاکستان کو مزید بدحالی کا شکار کر دیا جائے۔ پاکستان مخالف عمل کے لیے بھارت کو اپنے 402040 ملین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر اور 2030ء تک دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کا زعم ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دنیا کی سب بڑی اور پسماندہ آبادی والا ملک بھی بن جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کی پاکستان دشمنی اور نفرت محض مولانا مسعود اظہر یا لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی کالعدم تنظیموں کی وجہ سے ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کیوں ہمہ وقت انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر رہتے ہیں ؟ شاید اس کی وجہ خود پاکستان کا وجود ہے جو اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے۔ بعض پاکستانی قائدین اسے اسلام کا قلعہ بھی کہتے رہے ہیں۔ بظاہر تو پاکستان میں ایسی کوئی خاص بات نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ یہ ہمیشہ ہی بیرونی حملوں، محاصروں، اندرونی شورشوں اور سازشوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ خراب معیشت، سنگین بدعنوانیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس قلعے کی دیواریں شکستہ ہو چکی ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود قلعے کی اہمیت اس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے قائم رہتی ہے۔ پاکستان کے پیچھے افغانستان، ایران، وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک اسلامی ممالک پھیلے ہوئے ہیں جبکہ بھارت کے ایک طرف بلند و بالا کوہ ہمالیہ ہے جس کے پیچھے چین ہے اور دو اطراف میں سمندر ہے اوربھارت کو اسلامی ممالک پر اپنا مذہبی، سیاسی، معاشی، عسکری اور سماجی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے پاکستان پر سے گزرنا ہی پڑے گا۔ بھارت میں ایک بار پھر پاکستان کا محاصرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پاکستانیوں کاا عزم اور حوصلہ توڑا جائے۔
سرحدوں پر کشیدگی برقرار رکھنے کی بھارتی انتخابی سیاست سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی سیاسی قائدین سنگین بدعنوانیوں سے بنایا ہوا سرمایہ بچانے کے لیے بھارت کا پاکستان مخالف اور پاک فوج مخالف بیانیہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ FATF نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے دس نکاتی ایجنڈا دیا ہے جس کے مطابق کام کرنا اور رواں سال مئی تک اپنی کارکردگی سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو مطمئن کرنا لازمی ہے جبکہ بھارت سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کروا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا تو سب سے پہلے ان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ جائیدادیں اور گاڑیاں بھی ضبط کی گئی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کالعدم تنظیمیں صرف مذہبی ہی نہیں ہیں بلکہ دوسری تنظیمیں بھی مسلح کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں کیسے بنیں اور کیسے چلیں اس کے لیے پاکستان کا سیاسی اور مالیاتی نظام زیادہ ذمہ دار ہے جس نے بنیادی طور پر بدعنوانی کا مال چھپانے اور منی لانڈرنگ کرنے کے ان تنظیموں کو استعمال کیا ہے۔ چند برس پہلے مسلح کارکنوں کے حصار میں چلنے والے اب صوم و صلوٰۃ کے پابند نظر آتے ہیں لیکن بہت سی باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس وقت جو لوگ اپنی غیر قانونی دولت بچانے کی سیاست کر رہے ہیں انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ کمزور عوامی حمایت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ بلاول زرداری نے کالعدم تنظیموں سے متعلق بیان تو ایسے دیا ہے جیسے ان کی تنقید سے حکومت یا سیکورٹی اداروں میں بھونچال آ جائے گا۔ لیکن شاید انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کمسن بچوں کو بنیادی اسلامی تعلیم دیتے وقت یہ بات ذہن نشین کروا دی جاتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں کوئی بڑا سماجی بگاڑ پیدا نہیں ہوا ہے۔ بلاول کے بیانات کو بھارتی میڈیا میں تو ضرور پذیرائی مل گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کالعدم تنظیموں کو کبھی بھی عوامی مقبولیت حاصل نہیں رہی ہے۔ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف جو کارروائی ہوئی ہے اس سے بھارت مطمئن نہیں ہے اور وہاں اب بھی پاکستان میں فضائی حملے یا دہشت گرد حملے کرنے کے منصوبے زیر بحث آ رہے ہیں اور کشمیر کی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں اور جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں منی لانڈرنگ کرنے والوں کے دل میں شکوک و شبہات ہو سکتے ہیں لیکن پاکستانی عوام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
جن دنوں سیاسی قیادت کی کم ہمتی یا دیگر وجوہات کی بنا پر گرفتار دہشت گردوں پر مقدمات چلانا اور انہیں کڑی سزائیں دینا مشکل بلکہ ناممکن نظر آ رہا تھا تب حکومت کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے ہلاکت خیز حملے اور شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں حکومت فوجی عدالتیں قائم کرنے پرمجبور ہونا پڑا تھا۔ تیز رفتارانصاف کے حصول کے لیے عوام نے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی تھی لیکن اسمبلی میں موجود بعض سیاسی رہنماؤں کو فوجی عدالتوں کے قیام اور دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر اپنی رگوں میں خون جمتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ شاید انہیں خدشہ ہو کہ ان فوجی عدالتوں کا دائرہ کار دہشت گردی کے مقدمات سے آگے نہ بڑھ جائے۔ فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق فوجی عدالتوں نے گزشتہ چار سال کے دوران دہشت گردی کے 717 مقدمات میں سے 646 کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 345 دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی گئی ہے جن میں سے 56 دہشت گردوں کو تختۂ دار پر لٹکایا جا چکا ہے جبکہ 5 افراد کو بری کیا گیا ہے۔ 296 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، 71 کی سماعت زیر التوا ہیں جن کا فیصلہ پارلیمنٹ سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی اجازت ملنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ اس کے برعکس بھارتی عدلیہ کی حالت یہ ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے پاکستانی مسافروں کو زندہ جلا کر مارنے کے کیس کے مرکزی ملزمان کو ہی رہا کر دیا ہے۔
بھارتی حکومت کشمیر کی خراب صورتحال پر قابو پانے کے لیے پاکستان مخالف مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے لیے وہ پاکستان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ تمام سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر نیوزی لینڈ کی حکومت کی طرح واضح فیصلے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ہی پاکستان کی داخلی مشکلات کم کر سکتے ہیں۔
Close Menu