مسائل اور وسائل

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

جب مسائل اور وسائل کا توازن برقرار نہ رہے تو وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ہو رہا ہے یا ہوتا آیا ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور معاشی شہہ رگ ہے جس کی آبادی صوبے جیسی ہے لیکن اس کے باوجود شہری مسائل اور وسائل کا عدم توازن ہر طرف نظر آتا ہے۔ اگر شہری علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے نظر آتے ہیں تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بلدیاتی اداروں کے پاس اتنا کچرا اٹھانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ نئے رہائشی نہ بنانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پرانے رہائشی علاقوں پر آبادی کا دباؤ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے مکان چھوٹے چھوٹے پورشنز میں تقسیم کرکے فروخت کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جن علاقوں میں گراؤنڈ فلور پر دو منزلیں بنانے کی اجازت ہے وہاں چار اور پانچ منزلہ فلیٹ بنا دیے گئے ہیں اور یہ سب کچھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اہلکاروں کی ناک کے نیچے ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ دکھاوے کو توڑ پھوڑ بھی ہوتی ہے لیکن بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اہلکار جب ٹھیکیداروں سے یہ کہنے لگیں کہ ہم اور آپ ایک ہی ہیں تو شہروں کا اسی طرح ستیاناس ہوتا ہے جس طرح کراچی کا ہوا ہے۔ ملک میں ان دنوں آمدنی سے زائد اثاثوں کے مقدمات کا بہت چرچا ہے جبکہ کراچی میں چائنا کٹنگ اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کے قصے بھی کوئی نئے نہیں رہے ہیں، اگر کے ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جیسے اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں کے بھی اثاثوں اور گاڑیوں وغیرہ کی بھی جانچ پڑتال کر لی جائے تو ہو سکتا ہے کہ شہری اداروں میں رشوت ستانی کے رجحان میں کچھ کمی آجائے۔ اس کے ساتھ ہی نقشے سے ہٹ کر تعمیرات یا اضافی منزلیں بنانے پر بھی ایسا جرمانہ کیا جائے کہ کروڑوں روپے منافع کا لالچ ہی ختم ہو جائے۔ رشوت کے لین دین میں شرعی داڑھیوں والے پنج وقتہ نمازی بھی شامل ہیں جنہیں رشوت دینے اور غلط کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔ اس نسبت سے ایک لطیفہ سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا ہے جس میں ایک شخص مولوی صاحب سے کہتا ہے کہ مولوی چور ہو گئے ہیں۔ اس شخص کی بات کا جواب دیتے ہوئے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مولوی چور نہیں ہوئے ہیں بلکہ چوروں نے داڑھیاں رکھ لی ہیں۔ بات تو سادہ سی ہے لیکن یہ پاکستانی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ضرور کرتی ہے۔ اسی طرح جب اسپیکر سندھ اسمبلی سے منسوب ایک بیان جب سوشل میڈیا پر زیر گردش آیا کہ مجھے نیب نے ایسی جگہ پر رکھا ہوا ہے جہاں اذان کی آواز تک نہیں آتی تو پڑھنے والوں کے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ اذان بھی کوئی ایان کے جیسی کوئی ماڈل ہی ہوگی لیکن بعد کسی نے بتایا کہ وہ شاید اصلی اذان بات کر رہے تھے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کا بہتر طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ حراستی سیلز میں کیمروں کے ساتھ ساتھ لاؤڈ اسپیکر بھی لگوا دیے جائیں جن سے پانچوں وقت کی اذان نشر ہو جایا کرے۔
کراچی کو مسائل کی کثرت اور وسائل کی قلت کے ساتھ ساتھ وراثت کا بھی مسئلہ لاحق ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز گزشتہ تین اور چار عشروں سے خود کو کراچی کی واحد نمائندہ آواز اور کراچی کا وارث قرار دیتی آ رہی ہیں لیکن یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے وراثت کا حق ادا نہیں کیا۔ بلکہ اپنے جن کارکنوں اور ہمدردوں کو ان دونوں جماعتوں نے سرکاری اداروں میں نوکریاں دلوائی ہیں انہوں نے اس شہر کی بربادی میں اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے۔ کراچی کے رہائشی علاقوں کی کمرشل علاقوں میں تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے باقاعدہ طور پر کمرشل علاقے نہیں بنائے جہاں چوڑی سڑکیں، بلند عمارتوں کے لیے بڑے پلاٹ ہوں جن پر پچیس تیس منزلہ عمارتیں بنائی جاتیں۔ باضابطہ کمرشل ایریا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے آفس پوش علاقوں کے بنگلوں میں منتقل ہو گئے ہیں جن سے ان علاقوں کے مکینوں کے لیے آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ جن علاقوں کو ان مقاصد کے لیے ترقی دی جا سکتی ہے ان پر پہلے ہی قبضے ہو چکے ہیں اور کچی آبادیاں بن چکی ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقوں کو بڑا محفوظ تصور کیا جاتا ہے لیکن کراچی کے پرانے علاقوں کے وسط میں بہت سی کچی آبادیاں میلوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر ان علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو متبادل مکان یا پلاٹ دے دیے جائیں تو اس زمین کا بہتر استعمال کرکے کراچی کا نقشہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کوالالمپور کے ٹوئن ٹاور کمپلیکس کی طرح بلند و بالا عمارت کے پیچھے ایک وسیع و عریض باغ ہے جس کے مرکز میں برگد کے قدیم درخت ہے جبکہ باغ کے اطراف میں دوسری بلند عمارتیں ہیں جن میں شاپنگ مال اور دفاتر موجود ہیں۔ جب نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کیا گیا تو اپوزیشن رہنماؤں نے اس پروگرام کو تمسخر میں اڑا دیا کہ غریب لوگوں کو سستا مکان دینا ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ کسٹرکشن کی ماڈرن ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا کر بہت کم وقت اور مناسب لاگت میں زیادہ اچھے اور معیاری مکان آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں۔ کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے سے جہاں قبضہ مافیا کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے وہیں غربا کا معیار زندگی بھی خراب ہوا ہے۔ کچی آبادیوں کے مکینوں کو سستے مکانوں میں منتقل کرکے ہی کراچی میں کچی آبادیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
سرکاری تعلیم نظام کی بربادی کے بعد بڑے بنگلوں سے لے کر گلی محلوں تک میں چھوٹے بڑے اسکول اور کالج کھل گئے جن کا بنیادی مقصد منافع در منافع کمانا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیسوں کے معاملے پر تھوڑے سخت فیصلے دیے تو ضرور ہیں لیکن نجی کالجوں اور اسکولوں نے وہ احکامات ہوا میں اس طرح اڑا دیے ہیں کہ فیسوں کے بجائے طلبا سے دوسری مدوں میں بھاری رقوم بٹورنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس سلسلے کی روک تھام کا واحد طریقہ یہ نظر آتا ہے کہ بڑے نجی تعلیمی اداروں کی سالانہ آڈٹ رپورٹ اور مالکان کی آمدنی اور اثاثوں کا بھی جائزہ لے لیا جائے تو شاید تعلیم کے انتہائی منافع بخش کاروبار کو کسی انسانی سطح پر لانے میں کامیابی مل جائے۔ لیکن عام شہریوں کو اس عفریت سے چھڑانے کا ایک طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ خالی پڑے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں طلبا کو واپس لانے کے حالات پیدا کیے جائیں۔ کئی سال سے یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں مقامی کمیونٹی کی شراکت داری سے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی خاص کام نہیں ہو سکا ہے۔ گو کہ سرکار کے پاس اچھے خاصے وسائل موجود ہیں لیکن سندھ حکومت کی تعلیمی نظام میں دلچسپی کا اندازہ اساتذہ کے احتجاج اور ان پر پولیس کے بے رحمانہ لاٹھی چارج سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہم اساتذہ کی قابلیت کے معیار اور استعداد کار کی حالت پر بحث کر سکتے ہیں لیکن ان کی معاشرے میں جو عزت اور مقام ہے اس کا پولیس اہلکاروں کو بالکل بھی احساس نہیں ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں جہاں اساتذہ کو تربیتی کورسز کرواتے رہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہیں پولیس اہلکاروں کو بھی یہ تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ اگر اساتذہ نے ان کے بچوں کی امتحانی کاپیوں پر لاٹھی چارج کی طرح سرخ قلم چلانا شروع کر دیا تو ان کے بچے پولیس میں سپاہی بھرتی ہونے کے قابل نہیں رہیں گے۔ آج اگر کراچی کے سابق اڈمنسٹریٹر فہیم الزماں پولیس اہلکاروں سے بد زبانی کرنے اور انہیں دھمکانے کے جرم میں چھپتے پھر رہے ہیں تو اس کی وجہ اس معاملے میں ملوث پولیس اہلکاروں کا رویہ تھا۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کا مطالبہ کراچی کے شہری بہت عرصے سے کرتے چلے آئے ہیں کہ کراچی پولیس میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے۔ اگر حکومت کراچی کو اہم بین الاقوامی تجارتی اور سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے پولیس کی تربیت اور سماجی رویوں میں تبدیلی پر بھی توجہ دینا ہوگی ورنہ پاکستان کی بین الاقوامی بدنامیوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو جائے گا۔
Close Menu