دفاعی صنعت

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ان دنوں پاکستان میں حکومت گرانے اور بدعنوانی کا مال بچانے کی مہم زوروں پر ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر جو بڑی تبدیلی یہ رونما ہونے جا رہی ہے اس کی جانب کسی کا دھیان نہیں ہے۔ وہ بڑی تبدیلی یہ ہے کہ امریکہ اب اپنے عالمی پولیس مین کے کردار سے باہر نکل رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اب وہ چاند اور مریخ پر بستیاں بنانے اور وہاں کان کنی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے لیے انہیں خطیر سرمائے کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام اور اکیسویں صدی کا معاشی ماڈل نافذ کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، تاکہ رواں صدی میں دنیا پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا جا سکے۔ عالمی امن و سلامتی میں امریکہ کے فوجی کردار میں کمی وجہ سے علاقائی تحفظ کی ذمہ داری خطے کے ممالک کے سر پر آگئی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں سامان حرب کی تجارت اور اسلحہ سازی میں خود انحصاری حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی معیشت اور فوج دنیا میں سب سے مضبوط ہے، اسی طرح اس کی دفاعی صنعت کا بھی دنیا بھر میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار کے مطابق 2016ء میں سامان حرب کی عالمی تجارت کا ہجم 378.4 ارب ڈالر تھا جس میں امریکہ کا حصہ 217.2 ارب ڈالر تھا۔ آج بھی اسلحہ کی عالمی تجارت کا 57 فیصد حصہ امریکہ کے پاس ہے، جس کا تقریباً 52 فیصد حصہ مشرق وسطیٰ میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں امریکہ کا آرمز ایکسپورٹس زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ 2016-17ء میں ٹاپ 100 اسلحہ ساز کمپنیوں کے سامان حرب کی فروخت میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ پانچ سال میں سامان حرب کی مجموعی فروخت میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں روس، فرانس اور جرمنی کے سامان حرب کی مشرق وسطیٰ میں فروخت میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی ساز و سامان کی عالمی تجارت میں روس اور برطانیہ حصہ بالترتیب 9.5 فیصد اور 9 فیصد ہے جبکہ سامان حرب کی بین الاقوامی فروخت فرانس کا حصہ 5.3 فیصد ہے۔ چینی کمپنیوں کا کوئی قابل اعتماد ڈیٹا نہ ملنے کی وجہ سے سپری نے چین کو اپنی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے لیکن چین کو دنیا کا تیسرا بڑا آرمز ایکسپورٹر سمجھا جاتا ہے۔ ٹاپ 10 اسلحہ ساز کمپنیوں میں چین کی تین کمپنیاں شامل ہیں جو 50 ارب ڈالر سالانہ سے زائد کا سامان حرب اور سروسز53 ممالک کو فروخت کرتی ہیں۔چین، بھارت، آسٹریلیا، جنوبی کوریا، سعودی عرب اور ویتنام دنیا کے بڑے اسلحہ خریدنے والے ملک ہیں۔ گو کہ چین اور بھارت میں اسلحہ کی خریداری کے رجحان میں کمی دیکھی جا رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اسلحہ خریدنا بند کر دیا ہے بلکہ ان کی اسلحہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چند ماہ پہلے بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دس برس میں بھارت کی دفاعی ضروریات کا 75 فیصد سامان حرب بھارت میں ہی تیار کیا جائے گا اور اس کے لیے پرائیویٹ سیکٹرکی چھوٹی بڑی کمپنیوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
اس وقت پاکستان میں 20 سے زیادہ سرکاری ادارے اور 140 سے زیادہ نجی کمپنیاں دفاعی ضروریات کا سامان بنا رہی ہیں تاہم پاکستان کی مجموعی دفاعی برآمدات کا ہجم 300 ملین ڈالر سے کم ہے۔ معاشی بحران سے ایک بہتر طریقہ یہی ہے کہ حکومت سب سے پہلے دفاعی خود انحصاری کی پالیسی کو مزید موثر بنانے پر توجہ دی جائے۔ دفاعی صنعت کیس معاملات کی نزاکتیں اور سرکار کے کام کرنے کے انداز اسے انتہائی خفیہ اور مقدس بنائے رکھنے کی پالیسی سے ملک میں دفاع اور ہائی ٹیک انڈسٹری کو ترقی نہیں مل سکی ہے۔حتیٰ کہ امریکہ، چین اور روس یا دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی سامان حرب بنانے والی کمپنیوں سے کنٹریکٹ حاصل کرکے بھی کام شروع کیا جائے تو پاکستانی صنعتوں اور معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے لے کرالیکٹرانک سرکٹ بورڈز اور دوسری بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو پاکستانی کمپنیاں بنا کر فروخت کر سکتی ہیں۔تاہم اس سے پہلے پاکستانی افواج کی اپنی ضروریات اتنی ہیں کہ جنہیں پورا کرنے کے لیے ایک نیا صنعتی اور تجارتی نظام وجود میں آ سکتا ہے۔ چونکہ ڈیفنس انڈسٹری کے معیارات بہت سخت ہوتے ہیں لہٰذا اگرعام پاکستانیوں کو ان سخت معیارات کے مطابق کام کرنے کی عادت پڑ گئی تو سول انڈسٹری کے لیے معیاری اشیا بنانا آسان ہو جائے گا۔ پاکستانی مصنوعات کے ساتھ اکثر معیاربرقرار رکھنے کا مسئلہ رہتا ہے اور اگر ISO کے معیارات کی پابندی کے ساتھ کام شروع کیا گیا تو پاکستانی اشیا کی بین الاقوامی منڈیوں میں طلب بڑھ سکتی ہے۔
ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے کبھی بھی پاکستانی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔ شاید ہمارے قائدین کو قومی ترقی کے لیے سوچ بچار کرنے والوں کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی اور شاید مستقبل میں بھی کبھی نہ ہوگی۔ ہائی ٹیک انڈسٹری میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ایک JF-17 تھنڈر طیارے یا اگوسٹا آبدوز جیسے بڑی اور مہلک ہتھیاروں کے نظام کو بنانے میں کئی عشروں کی محنت لگتی ہے جس کے بعد معمولی رد و بدل کے ساتھ نئے ماڈل بنائے جاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ٹینک، توپیں، اگوستا آبدوز اور مختلف قسم کے بحری جہاز جیسے پیچیدہ اسلحہ بنانے صلاحیت تو حاصل کر لی گئی ہے لیکن ابھی ہمیں دوسروں کے ڈیزائنز کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے لیکن جس دن پاکستان میں اپنے ڈیزائن بنانے میں بھرپور مہارت حاصل کر لی اس دن پاکستان بھی مشین سازی اور ہائی ٹیک صنعتوں میں اپنا مقام بنانے کے سفر کی جانب چل پڑے گا۔ اس ضمن میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے علاوہ روس اور دوسرے یورپی اور ایشیائی ممالک سے بھی رابطے استوار کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ سستے مکانات بنانے سے ملک میں چالیس صنعتیں چلیں گی اسی طرح بحری جہاز بنانے سے بھی ملک میں چالیس سے زیادہ صنعتیں چلیں گی۔ ماضی کے حکمرانوں نے سستا اسکریپ حاصل کرنے کے لیے شپ بریکنگ انڈسٹری کو فروغ دیا تھا اگر انہوں نے شپ بلڈنگ انڈسٹری کی طرف دھیان دیا ہوتا تو آج اسٹیل مل بدحالی کا شکار نہ ہوتی اور پاکستان کا صنعتی منظرنامہ بھی مختلف ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی افواج 5 ارب ڈالر کی مارکیٹ فراہم کرتی ہیں لیکن پاکستان کے بڑے صنعتی اور تجارتی گروپ اپنے اربوں روپے کے سرمائے کے باوجود دفاعی کاروبار میں ہاتھ ڈالنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دفاعی اداروں سے ریٹائر ہونے والے افراد بھی غیر ملکی کمپنیوں کے ایجنٹوں کی اجارہ داری توڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ دفاعی خود انحصاری اور دفاعی صنعتوں کے فروغ کے لیے ڈھانچے میں تبدیلیاں لانا ہی ہوں گی جبکہ ملک میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے لوگوں کی بنائی ہوئی چیزوں کی ٹیسٹنگ کے لیے باقاعدہ نظام بنایا جانا ضروری ہے، یہ نہ ہو کہ ریسرچرز اور نجینئرز کو ہی حوالات میں بند کر دیا جائے۔ پاکستان کے پاس منظم فوج ہے جسے پاکستان کے اندر کسی بھی مقام کا دفاع کرنے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔پاکستانی فوج میں دوسرا حملہ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے لیکن ابھی ایٹمی آبدوز نہیں ہے۔ اس کے برعکس بھارت نے گزشتہ ماہ روس سے3 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 2025ء میں اسے تیسری ایٹمی آبدوز 10 سال کی لیز پر دی جائے گی۔ ایسی صورت میں پاکستان کو بھی ایٹمی آبدوزیں حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن پاکستان کے مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی دوسرے ملکوں سے لیز پر ایٹمی آبدوزیں حاصل کی جائیں۔ بہتر یہی ہے کہ پہلے سے موجود اگوستا آبدوزوں کو ہی ایٹمی قوت سے چلنے والی آبدوز میں تبدیل کر لیا جائے۔ پاکستان میں یہ کام کرنا اس لیے ممکن نظر آتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں ایٹمی پروگرام چلایا گیا ہے اور 1998ء کے ایٹمی تجربات میں بھی بھارت سے بہتر نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی اور پاکستانی فوج کے ردعمل پر امریکی آرمی وار کالج کے سہ ماہی رسالے پیرامیٹرز میں کسی امریکی افسر کے ایک مضمون کا جملہ یاد آ رہا ہے کہ دنیا بھر کے ملٹری کمانڈرز مل کر خارجہ پالیسی بناتے اور چلاتے ہیں۔ یہ بات ہمارے کچھ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے بھی اس کی خارجہ پالیسی کا ہی ایک حصہ ہیں۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں بھی ملٹری کمانڈرز نے ہی خارجہ پالیسی کا تعین کیا ہے۔ جس میں طاقت کے توازن اوربھارتی جارحیت کے منھ توڑ جواب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس پالیسی پر سیاسی تبدیلیوں کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا لہٰذا پاکستانی حکمرانوں سے بھارت سے دوستانہ تعلقات کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بھارت میں مختلف پلیٹ فارمز اور سیمنارز میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے گلگت بلتستان پر قبضے اور فرقہ وارانہ اور قوم پرستانہ فسادات کرانے سے لے کر شاہراہ ریشم کے پلوں کو تباہ کرنے کے لیے ایئر فورس کے استعمال کی باتیں ہوتی رہی ہیں، ان دنوں بھی بھارت میں آزاد کشمیر پر قبضے اور خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اپنے حامیوں کی مدد سے پاکستانی فوج کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں تاکہ تنازع کشمیر اور استصواب رائے کا قضیہ ہی ختم ہو جائے۔ اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے صدر ٹرمپ کے بیان سے بھارت میں تنازع کشمیر کو فوجی طاقت سے حل کرنے کے مطالبے کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دفاعی صنعت

ان دنوں پاکستان میں حکومت گرانے اور بدعنوانی کا مال بچانے کی مہم زوروں پر ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر جو بڑی تبدیلی یہ

مکمل پڑھیے

جنازے پر سیاست

جوانی میں جنازوں پر جانے سے وحشت ہوتی تھی۔ کبھی غم، کبھی غصہ، اور ہمیشہ زندگی کی بے ثباتی کا احساس۔ اب ایسا کچھ نہیں

مکمل پڑھیے
Close Menu