پاکستان کی خراب معاشی حالت

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

پاکستان کے معاشی اشاریے کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کر رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل گراوٹ اور مندی کے رجحان کا راج ہے، روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرانک میڈیا سے نشر ہونے والی خبروں کے نفسیاتی اثرات ان لوگوں پر بھی پڑنے لگے ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی ڈالر خرید کر رکھنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ مسلسل معاشی خسارے کو روک دیا ہے اور اب معاشی بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ آئندہ برس بھی پاکستان کی شرح نمو 2.7 فی صد رہے گی جبکہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ 2024ء تک پاکستان کی شرح نمو 2.5 فیصد رہے گی جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ ان دنوں وزیر خزانہ اپنے امریکہ میں موجود ہیں جہاں وہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے حکام سے پاکستان کے لیے معاشی پیکیج کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل آئی ایم ایف کے حکام سے بھی معاشی پیکیج لینے کے لیے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا جس کے بعد آئی ایم ایف سے کوئی نیا قرضہ نہیں لیا جائے گا۔ گزشتہ تیس سال میں یہ آئی ایم ایف کا 13 معاشی پروگرام ہوگا جس کے لیے بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ اسے ہم برا سمجھیں یا اچھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سنگین بدعنوانیوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی منی لانڈرنگ کے باوجود آئی ایم ایف سے لیے گئے سارے قرضے واپس کیے گئے ہیں۔ شاید یہ آئی ایم ایف کی شرائط کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کرکے حقیقی مارکیٹ ویلیو پر لائی گئی ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جسے گزشتہ حکومتوں نے مصنوعی طور پر روک رکھا تھا اور قومی معیشت کو ہر روز اربوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ جبکہ ادائیگیوں کا عدم توازن کا مسئلہ بھی سنگین تھا جو بقول وزیر خزانہ 1988ء سے 2018ء تک برقرار رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی ڈھانچے میں کوئی غلطی تھی۔ اس کے علاوہ کچھ غلط فیصلوں نے اس مسئلے کو زیادہ سنگین بنا دیا تھا۔ پاکستان کی معیشت کو تین مسائل سالانہ مالیاتی خسارہ، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اور بچتوں اور سرمایہ کاری کے فرق کا سامنا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد معیشت پر پڑنے والے مثبت اثرات اگست سے ظاہر ہونا شروع ہوں گے لیکن فی الحال صورتحال یہ ہے کہ بازاروں میں عام دکاندار، ٹھیلے والے اور رکشا والے بھی کسی بھی برائی کے لیے عمران خان کا نام لینے لگے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت نے ابتدائی مہینوں میں ہی جو تجاوزات کے خلاف مہم چلائی تھی اس سے سے بہت سے چھوٹے دکانداروں کا نقصان ہوا تھا جو سرکاری زمینوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ کیے بیٹھے تھے۔ گو کہ ملک بھر میں تجاوزات کے خلاف مہم میں اب پہلے جیسی شدت نہیں رہی ہے لیکن حکومت کے ابتدائی دنوں میں جو بلڈوزر چلے ہیں اس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ہو سکتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد شہری اداروں کے اہلکاروں نے رشوتوں کے ریٹ بڑھا دیے ہوں جس کی وجہ سے عام دکاندار وزیر اعظم عمران خان کو ذمہ دار قرار دے رہے ہوں۔ لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں یہ ہوتا ہے، سابق چیف جسٹس آف پاکستان ریٹائر ہو کر ایسے گئے ہیں کہ اب ان کی خبر بھی نہیں آتی ورنہ ہر روز کی شہ سرخی یا سپر لیڈ سابق چیف جسٹس کے کسی دھواں دھار کمنٹ یا کسی ازخود نوٹس پر سماعت کی ہی بنتی تھی۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جنہیں صدر جنرل پرویز مشرف نے برطرف کر دیا تھا، بھی اپنے بیانات سے آئے دن شہ سرخیوں میں نظر آتے تھے۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں جج صاحبان نے جتنے از خود نوٹس لے کر مقدمے شروع کیے اتنے فیصلے نہیں کیے۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان کا عدالتی نظام میں پائی جانے والی خامیاں ہیں جن کی وجہ سے مقدموں کے فیصلے ہونے میں برسہا برس لگ جاتے ہیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے کچھ ہنگامی آرڈرز پر عدلیہ پر تنقید کے ساتھ ساتھ لطیفے بھی بننا شروع ہو گئے ہیں۔ پہلا آرڈز ہفتے کے روز شام کے وقت دیا گیا۔ اس روز پورے ملک میں کورٹس کی چھٹی ہوتی ہے لیکن ہائی کورٹ کے ہنگامی حکم کے تحت احتساب بیورو اور پولیس اہلکاروں کو لاہور میں حمزہ شہباز شریف کو بھاری منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کرنے سے روک دیا گیا۔ اس سے ایک دن قبل بھی احتساب بیورو کی ٹیم انہیں گرفتار کرنے کے لیے گئی تھی لیکن مسلم لیگ (ن) کے کارکن آڑے آ گئے اور انہوں نے کم گریڈ کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کار سرکار میں مداخلت کی، جس کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اگلے روز احتساب بیورو کی ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچی لیکن وہ گھر سے باہر نہیں نکلے۔ تاہم دوسرے روز لیگی کارکنان کی زیادہ تعداد ان کے گھر کے باہر جمع نہیں ہوئی۔ شام کے وقت لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر ملنے کے بعد گرفتاری کے لیے آنے والے سرکاری اہلکار واپس چلے گئے جس کے بعد حمزہ شہباز نے اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر اپنے سو پچاس کارکنوں سے خطاب کیا۔ بعد ازاں کورٹ کے دوسرے حکم میں حمزہ شہباز کو مزید کئی روز کا ریلیف مل گیا۔ تیسرا حکم مسلم لیگ (ن) کے رکن حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا معطلی اور رہائی کا تھا جنہیں گزشتہ برس نشہ آور دوا ایفیڈرین کوٹہ کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایفیڈرین کیس 2011ء میں منظر عام پر آیا تھا جس کے تحت دو فارماسوٹیکل کمپنیوں کو 9 ہزار کلو گرام ایفیڈرین بنانے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ قواعد کے مطابق کوئی کمپنی 500 کلو گرام سے زیادہ ایفیڈرین نہیں بنا سکتی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب 500 کلو گرام ایفیڈرین منشیات کے اسمگلروں کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔ ان فیصلوں کے بعد یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ عام لوگ جھوٹے الزامات میں پندرہ پندرہ سال تک جیل میں پڑے رہتے ہیں اور بعد میں عدالت فیصلہ دیتی ہے کہ وہ بے قصور ہیں، تو جو سیاسی لوگ سنگین جرائم میں ملوث ہوتے ہیں انہیں عدالت سے بھی ریلیف مل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو کمنٹس گردش کر رہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بھارتی حکومت کلبھوشن جادھو کے کیس میں عالمی عدالت انصاف میں جانے کے بجائے لاہور ہائی کورٹ میں چلی جاتی تو فیصلہ ان کے حق آجاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ پنجاب اور وفاق میں نائب قاصد سے لے کر سیکریٹری کے عہدوں تک شریف خاندان کے بھرتی کیے ہوئے لوگ ہر محکمے میں بیٹھے ہوئے ہیں جو آج بھی ان کی حمایت میں کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو بیوروکریسی سے کام لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بیوروکریسی احتساب بیورو کی کارروائیوں کی وجہ سے ہاتھ روک کر بیٹھی ہے۔ اس سے پہلے الزام چیف جسٹس کی ڈانٹ پھٹکار اور ان کے از خود نوٹسوں اور عدالت میں طلبیوں کو قرار دیا جا رہا تھا۔ الزام کسی بھی چیز کو دیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں سنگین بدعنوانیاں اور بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ ہوئی ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اربوں ڈالر کے اثاثوں کے مالک بنے ہیں۔ آج بھی سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور میگا منی لانڈرنگ کیس میں عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ نواز شریف چھ ہفتے کی عارضی رہائی پر ہیں اور میڈیکل ٹیسٹ کروا رہے ہیں۔ لیکن ان ساری مقدمے بازیوں اور جیلوں تک جا پہنچنے کے باوجود عوام سوال یہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کو معاشی بدحالی میں دھکیلنے والے حکمرانوں سے لوٹی ہوئی کتنی رقم قومی خزانے میں واپس آئی ہے۔ کیونکہ وہاں تو چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کی پالیسی واضح نظر آ رہی ہے۔ کوشش تو یہی کی جا رہی ہے کہ چھپ چھپا کر دو چار ارب روپے ادا کرکے کیس ختم کروا لیے جائیں اور ملک میں اپنے بچوں کی حاکمیت کا دروازہ کھول لیا جائے کیونکہ تقریباً تمام نمایاں پاکستانی سیاسی قائدین کی عمریں 60 سال سے تجاوز کر چکی ہیں اور کچھ لوگ 70 کے قریب ہیں۔ سب کی صحتیں جواب دیتی جا رہی ہیں۔ آصف زرداری ہلتے ڈلتے عدالت میں پیش ہوتے نظر آتے ہیں جبکہ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہائے دل۔
ملک میں ایک بار پھر دہشت گرد قوتیں شعیہ سنی فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔ اس ضمن میں ایک مہینے کے اندر دو سنگین وارداتیں ہوئی ہیں۔ گزشتہ ماہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی پر کراچی ایک مصروف شاہراہ پر اس وقت دو بار فائرنگ کی گئی تھی جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مسجد بیت المکرم میں جمعہ کا خطبہ دینے جا رہے تھے۔ تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار قاتلوں نے ان کی گاڑی پر دو بار فائرنگ کی۔ اس حملے میں ان کا محافظ اسی وقت جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ ڈرائیور زخمی حالت میں کار چلا کر ہسپتال لے گیا تھا جبکہ ان کی گاڑی کے پیھچے آنے والی کار کا ڈرائیور جاں بحق اور مولانا عامر شہاب شدید زخمی ہو گئے تھے جو چند دن بعد وہ زیر علاج رہ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ 22 مارچ کو اگر یہ واردات کامیاب ہو جاتی تو 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کے حالات مختلف ہوتے۔ گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ایک بم دھماکہ ہوا جس میں فرنٹیئر فورس کے اہلکاروں سمیت کم از کم 20 افراد خاں بحق اور 48 زخمی ہو گئے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ دھماکہ بنیادی طور پر شعیہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا جو فرنٹیئر فورس کی حفاظت میں وہاں پہنچے تھے۔ ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کو حصوصی تحفظ فراہم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ہزارہ کمیونٹی کے 509 افراد جاں بحق اور 607 افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دو خود کش حملوں میں ہزارہ کمیونٹی کے 200 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے ہی بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں سڑک کے کنارے لگائے بم کے دھماکے سے ایک بچے سمیت دو شہری جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے۔ اسی طرح کراچی میں بھی ٹارگٹ کلنگ میں ایسے اہداف کو چنا جاتا رہا ہے جس کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر سنگین اثرات مرتب ہوں اور کسی بھی طرح ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی ایسی آگ بھڑکے کہ لوگ گلی محلوں میں ایک دوسرے سے لڑ جائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اب تک ایسی تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر طبقۂ فکر کے لوگوں میں دہشت گردی کے خلاف یکساں شعور ہے لیکن عام شہری یہ سوال کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کے عفریت کو کیسے ختم کیا جائے گا؟

Close Menu