پاکستان کا سوال

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

قائد اعظم نے جو تین رہنما اصول ’’اتحاد، تنظیم اور یقین محکم‘‘ بتائے ہیں اگر ان معانی کی وسعت پر غور کیا جائے تو ان میں ایک جہان موجود ہے اور اگر نہ سمجھیں تو کسی شاہراہ پر خوبصورتی سے لکھے ہوئے چند لفظ۔ ان دنوں بھارتی انتخابات کے حوالے سے جس انداز کی خبریں اور مختلف شعبوں کے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں انہیں سن کر لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے حالات میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار ملک پر درحقیقت ایک بالادست طبقے کا ہی قبضہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کو بھی بھارت جیسا ہی بنانا تھا تو پھر پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ آج ہمیں پاکستان جس حال میں نظر آتا ہے اس کا خواب بانیان پاکستان نے نہیں دیکھا تھا بلکہ یہ ایک مختلف نظریہ اور مختلف ملک ہونا چاہیے تھا جس کے لیے اتنی زیادہ قربانیاں دی گئی ہیں۔ انگریزوں اور کانگریسی ہندوؤں کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک کٹا پٹا اور دو حصوں میں بٹا ہوا پاکستان حاصل کرنا پسند کیا تھا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آج بھارت کے مسلمان جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں اس کا اندازہ 80-90 سال پہلے ہی لگا لیا گیا تھا۔
انگریزوں کو اس بات کا علم تھا کہ وہ جس طرح ہندوستان کو تقسیم کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی اور خونریزی ہو گی لیکن یہ جاننے کے باوجود وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنا سارا اثر و رسوخ بھارت کے حق میں استعمال کیا تھا، اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وائسرائے کی بیوی لیڈی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن کا عیاش طبع کانگریسی لیڈر جواہر لعل نہرو سے خفیہ معاشقہ چل رہا تھا جو وائسرائے کو انڈین نیشنل کانگریس اور ہندوؤں کے حق میں فیصلے کرنے پر مجبور کر رہی تھی جبکہ خود لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی نہرو اور کانگریس کے لبرل نظریات سے متاثر تھا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان میں اپنی پوسٹنگ کے دوران پاکستان اور بھارت کا مشترکہ گورنر جنرل بننے کا خواہش مند تھا لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے اس کی یہ تجویز مسترد کر دی تھی۔ اس کے برعکس جواہر لعل نہرو نے آزاد بھارت پر اپنے انگریز آقا کی سربراہی کو پسند کیا تھا جس کے باعث جون 1948ء تک بھارت کے گورنر جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ شاید اسی وجہ سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آزادی کی تاریخ جون 1948ء سے پیچھے کرکے 14-15 اگست 1947ء کی درمیانی شب برطانوی راج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پاکستان کا ایسا نقشہ بنایا گیا کہ سارے فوائد بھارت کی جھولی میں جا گریں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن سمیت بہت سے برطانوی رہنماؤں نے پاکستان کی تخلیق کو جذباتی طور پر کبھی تسلیم نہیں کیا تھا، اگر ماؤنٹ بیٹن کو قائد اعظم ٹی بی میں مبتلا ہونے کی بھنک بھی پڑ جاتی تو وہ پاکستان نہ بننے دیتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تاج برطانیہ یہودیت کے نام پر سرزمین فلسطین اسرائیل کی ریاست بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اسی دور میں اسلام کے نام پر مسلمانوں کی ریاست کا وجود میں آ جانا اس منصوبے کے خلاف تھا۔
ان دنوں پنجاب میں رہنے والے مسلمانوں کو یقین تھا کہ پورا پنجاب پاکستان میں شامل کر دیا جائے گا بلکہ پنجاب سے ملحق اترپردیش کے مسلم اکثریتی علاقے بھی پاکستان میں شامل کر لیے جائیں گے لیکن قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ لاہور کو بھی بھارت میں شامل کیا جا رہا تھا لیکن تحریک پاکستان کے قائدین اور مسلم بیورو کریٹس کی کوششوں کے علاوہ ریلوے لائن اور ہائی وے کی جغرافیائی لوکیشن آڑے آگئیں جس کی وجہ سے لاہور کو پاکستان میں شامل کرنا مجبوری بن گیا۔ باؤنڈری کمیشن نے جان بوجھ کر پنجاب کو اس طرح تقسیم کیا کہ پنجاب کے دریاؤں اور نہروں پر بھارت کا کنٹرول رہے اور بھارتی فوج کے لیے کشمیر کا راستہ کھلا رہے۔ آزاد ریاست جونا گڑھ کے مسلم حکمراں پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے تھے لیکن بھارت نے یہ کہہ کر جونا گڑھ پر قبضہ کر لیا کہ وہاں کی اکثریت ہندو ہے، لیکن مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست کشمیر میں اسی اصول کو بالائے طاق رکھ کر ہندو راجہ کی درخواست کو اہمیت دی گئی، جس کی وجہ سے کشمیر میں آج آگ لگی ہوئی ہے۔ آزاد مسلم ریاست حیدرآباد دکن کا جھکاؤ پاکستان کی جانب تھا جس پر بھارت نے فوجی جارحیت کرکے قبضہ کر لیا۔
آزادی کے وقت بھارتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ پاکستان چند مہینے سے زیادہ نہیں چل پائے گا اور دوبارہ بھارت میں مل جائے گا، یہ آج بھی سوچ ختم نہیں ہوئی ہے۔ بظاہر تو پاکستان بننے کا نقصان یہ ہوا کہ ہندوستان کے مسلمان تین حصوں میں بٹ گئے۔ چین کی طرح متحد ہندوستان بھی ایک بڑی معاشی قوت بن کر ابھر سکتا تھا جو آپس کی لڑائیوں میں الجھ گیا۔ سوال یہ ہے کہ تخلیق پاکستان کا اصل مقصد کیا ہے جس کے لیے اتنے بڑے معاشی، سیاسی اور سماجی نقصانات برداشت کیے گئے ہیں اور اس خطے میں اسلام کے نام پر علیحدہ ریاست بنا کر دنیا بھر کی دشمنیاں مول لی گئی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں لوگوں کو نظریہ پاکستان اور مقصد پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی عشروں کے جمہوری و غیر جمہوری ڈھکوسلوں کے ذریعے عوام بدحال اور حکمراں طبقات خوشحال ہوئے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں پاکستان کی سیاسی، معاشی، سماجی، مذہبی اور علمی کمزوری ہی نظریہ پاکستان کے منافی ہے جبکہ پاکستان کے حکمراں طبقات نے اپنی سیاسی بداعمالیوں سے ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک ’’اتحاد‘‘ سے مراد بھان متی کا ایک ایسا سیاسی کنبہ جو ہر حال میں اقتدار پر قابض رہنا چاہتا ہے جبکہ موجودہ دور میں ’’تنظیم‘‘ کوئی بھتہ خور، رشوت خور یا دہشت گرد گروہ ہے۔ اگر پاکستان کے حکمراں طبقات کو پاکستان پر ’’یقین محکم‘‘ ہوتا تو وہ سنگین بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ کے مرتکب نہ ہوئے ہوتے۔
ماضی میں جب پاکستان کے حکمراں طبقات نے اپنے سیاسی، نسلی اور لسانی تکبر و تفاخر اور معاشی زیادتیوں کی وجہ سے دو قومی نظریہ پر نسلی، لسانی، معاشی اور سیاسی جپبات غالب آئے تھے تو بھارتی حکمرانوں کو سازشوں کا موقع مل گیا تھا۔ لیکن اپنی تمام تر سازشوں اور جنگ کے باوجود بھارت، بنگلہ دیش کا آزاد مسلم ریاست کا تشخص ختم نہیں کر سکا۔ ممکن ہے شیخ مجیب الرحمن اور ان کی پارٹی کے لوگوں میں یہ سوچ رہی ہو بھارت کے ساتھ کوئی معاہدہ کر کے بنگلہ دیش بھارت کی ذیلی ریاست بنا دیا جائے جہاں چھوٹا سا حکمراں طبقہ سیاہ و سفید کا مالک بن کر بیٹھا رہے لیکن اس کا موقع آنے سے پہلے ہی انہیں ختم کر دیا گیا۔ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت کی حمایت میں کئی اقدامات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت میں کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش بھارت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں آنے والے بنگالی اور روہنگیا مہاجرین کو پاکستانی ایجنٹ اور جہادی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ سبرامنیم سوامی جیسے سیاستدانوں اور دیگر کئی ریٹائرڈ جنرلوں کے انٹرویوز اور سیمینارز میں تقاریر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت کے اندر اور پاکستان میں خاص طور پر شعیہ سنی تفرقہ اور منافرت پیدا کرنے کے سوچی سمجھی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد معرض وجود میں لایا گیا تھا۔ آج بھارت میں جدو جہد آزادی کشمیر کے تناظر میں دارالعلوم دیوبند، دوسرے مدارس اور فارغ التحصیل علما کو خطرناک سمجھا جا رہا ہے جو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں میں اسلامی تعلیم اور شعور سے سرفراز کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نظریہ ختم نبوت کی نفی کرنے کے لیے قادیانیوں کی حمایت اور مسلمانوں کے نئے مذہبی گروہ بنانے کی تجاویز دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے وقت میں نئے مذاہب سامنے نہیں آ سکتے۔ اس حد تک تو یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں نئے کلٹ سامنے آ سکتے ہیں لیکن ان نئے مذہب کو ماننے والے مسلمان نہیں ہوں گے۔ بھارت میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مذہبی، علاقائی، لسانی اور ذات برادری کی تفرقہ بازی کی سرکاری سطح پر حمایت کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں شیعہ سنی تناؤ بڑھانا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی مبصرین سعودی عرب کا اسلامی طرز فکر اور وہابیت کے بھارت میں پہنچنے پر تنقید کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت، سعودی عرب کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بھی خواہش مند ہے۔
Close Menu