نوبل انعام

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: راحیلہ مغل

نوبل انعام دنیا کے بڑے انعاموں میں سے ایک ہے جسے حاصل کرنا بڑی خوش نصیبی تصور کیا جاتا ہے اور جو لوگ اسے حاصل کرتے ہیں وہ اسکے لئے جان توڑ محنت کرتے ہیں تب کہیں جا کر اس انعام کے حقدار ٹھہر تے ہیں ۔رواں سال یہ انعام جن خوش نصیبوں کو دیا گیا ہم انکی تفصیل درج کر رہے ہیں ،لیکن اس سے قبل نوبل انعام کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔

نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔وہ سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا پیشتر حصہ روس ۔ ڈائنا ما ئیٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث1896 ء میں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔اسکی دولت کی رقم31ملین سویڈش کراؤن تھی جو امریکی ڈالر 1220کے برابر ہے ۔اسے ابتدائی پانچ انعامات کیلئے مختص کر دیا گیا ۔نوبل پرائز کی بنیاد

جب پہلی بار 1901ء میں ہوئی تو یہ انعام 1.4ملین نے ایک چیک ایک طلائی میڈل اور ایک ڈپلومہ کے عطایا مشتمل تھا۔
موت سے قبل اس نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اسکی دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبعیات ‘کیمیا‘طب ‘ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔بس اس وصیت کے تحت ایک فنڈ قائم کر دیا گیا ۔جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔

اس سال کے نوبل انعامات کی تفصیلات کے مطابق نوبل انعام برائے کیمسٹری دو امریکی اور ایک برطانوی ریسر چر کو دیا گیا ہے۔ان میں امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں ۔اس امریکی خاتون سائنسدان کا نام فرانسِس ہملٹن آرنلڈ ہے انکے علاوہ اس انعام کے حقدار وں میں جورج پی اسمتھ اور ایک برطانوی محقق گریگری پی ونٹر کا نام شامل ہیں ۔نوبل پرائز کے ساتھ دی جانے والی انعامی رقم کا نصف امریکی خاتون سائنسدان فرانس ایچ آرنلڈ کو دیا جائے گا۔
62

سالہ فرانسس ہملٹن آرنلڈ نوبل انعام کی تاریخ کی پانچویں خاتون ہیں ،جنہیں کیمیا کے شعبے میں یہ انعام حاصل ہوا ہے ۔ان سے قبل پولش نژ اد فرانسیسی سائنسدان میری کیوری نے سن 1903ء میں پہلے فزکس میں اور پھر سن 1911ء میں کیمسٹری میں یہی انعام حاصل کیا۔سن 1935میں فرانسیسی خاتون کیمیا دان ایرین کیوری کو نوبل پرائز دیا گیا تھا ۔سائنسدان ایرین کیوری دو نوبل انعام حاصل کرنے والی میری کیوری کی بیٹی تھیں۔
1964

ء میں برطانیہ کی سائنسدان ڈور تھی ہو جکِن کو نوبل انعام سے نوازا گیا ۔چوتھی خاتون اسرائیل کی کیمیا دان ادایونات تھیں ۔اس کے نوبرس بعد یعنی 2018ء میں امریکی خاتون کو کیمسٹری کے شعبے میں نوبل انعام ملا ہے ۔امریکی خاتون ریسر چر فرانسس ہملٹن آرنلڈ کیلیفور نیا انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کیمیکل انجینےئر نگ اور با ئیو انجینےئرنگ سے وابستہ ہیں ۔تیرہ برس قبل ان میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور بعد میں علاج سے وہ اس مرض سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھیں ۔وہ تین بیٹوں کی والدہ ہیں ۔

رواں برس کے نوبل انعام کے اعلان کا سلسلہ پہلی اکتوبر سے جاری ہے ۔نوبل انعام برائے امن کے انعام کے حقدار عراق کی سرگرم کارکن نادیہ مراد باسی اور افریقی ملک کا نگو میں استحصال کی شکار خواتین کا علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر ڈینس مرو کو یجے کو مشتر کہ طور پر دیا گیا ہے ۔ڈاکٹر مِک ویگ اپنے ملک کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں سے محروم خواتین کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں ۔وہ پیچیدہ امراض نسواں میں مبتلا غریب خواتین کا جانفشانی کے ساتھ علاج کرنے کے ساتھ صحت سے متعلق آگاہ ہی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔رواں سال نوبیل انعام کے لیے 331افراد اداروں کا نامزد کیا تھا تا ہم قرعہ فال نادیہ اور ڈاکٹرمگ وگ کے نام نکلا۔
2018

ء طبیعات کا نوبل انعام امریکا کے آرتھر اشکین ،فرانس کے جیرارڈ مورو اور کینیڈا کی ڈونا اسٹرک لینڈ کو دیا گیا ہے ۔ڈونا اسٹرک لینڈ 55سال بعد فزکس کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پہلی خاتون ہیں ۔

میڈیسن کے شعبے میں نوبل انعام امریکی سائنسدان جیمز ایلسن اورجاپانی محقق ٹاسو کو ہو نیو کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔سویڈن کے کارولنسکا انسٹیٹیوٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ”ان دونوں سائنسدانو ں نے کینسر کے مرض کیخلاف تھراپی کا ایک نیا طریقہ علاج دریافت کیا ہے“۔دونوں سائنسدانوں کو انعام کے ساتھ ساتھ آٹھ لاکھ ستر ہزار یورو کی نقد رقم بھی دی جائے گی۔
دراصل کینسر کا علاج کیمو تھراپی سے کیا جاتا ہے اور اس تھراپی کے ضمنی اثرات تباہ کن ہیں ۔ان دو سائنسدانوں کے نئے طریقہ علاج میں ان حتمی اثرات کو انتہائی محدود بنا دیا گیا ہے ۔انکی کیمیو تھراپی میں مدافعتی نظام کے ذریعے کینسر کے خلیات کا مقابلہ کیا جاتا ہے ۔جیمز ایلسن اور ٹاسو کو ہو نیو نے جسم کے اندر موجود مدافعتی نظام کے ذریعے ہی کینسر کے خلیات کا مقابلہ کیا اور دوایسی رکاوٹوں کا پتا چلا یا جن کو ختم کرنے سے مدافعتی نظام کینسر کے خلیات کے خلاف موثر طریقے سے حملہ آور ہو جاتا ہے۔امریکن کینسر سوسائٹی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس وقت دنیا بھر کی تقریباً آٹھ سو کلینکس میں اس نئے طریقے سے کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے ۔

نوبل انعام برائے معاشیات 2018ء دو امریکی ماہرین ولیم نورڈہاؤس اور پاؤل رومر کو دیا گیا ہے ۔انہیں یہ انعام ماحولیاتی تبدیلیوں ،ٹیکنالوجی اور اقتصادی نمو کے درمیان تعلق کے حوالے سے ان کی تحقیق پر دیا گیا ہے ۔سویڈش رائل اکیڈمی کے مطابق نارڈ ہاؤس اور رومر کی تحقیق نے ما حولیاتی تبدیلیوں اور تکنیکی جدت کے تناظر میں پائیدار اقتصادی ترقی کو بہتر طور پر سمجھنے میں نمایاں کر دار ادا کیا ہے ۔پروفیسر نارڈ ہاؤس ییل(Yale)یونیورسٹی جبکہ رومر نیویارک کے اسٹیرن یونیورسٹی آف بزنس سے وابستہ ہیں ۔

نوبل انعام کے ساتھ ان دونوں محققین کو تقریباً نوملین سویڈش کرونن بھی دیے جائیں گے ،جو آٹھ لاکھ ستر ہزار یورو بنتے ہیں ۔معاشیات کا یہ پرائزان پانچ میدانوں میں دیے جانے والے نوبل انعامات میں شامل نہیں ہے ،جو الفریڈنوبل کی وصیت کے مطابق دیے جاتے ہیں ۔اقتصادی شعبے میں دیے جانے والے نوبل انعام کو ”نوبل میموریل پرائزان اکنامک سائسس‘کہا جاتا ہے ۔1969ء سے نوبل انعام برائے اقتصادیات دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اب تک سب سے زیادہ امریکی محققین اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔روایتی طور پر نوبل انعامات دس دسمبر کو الفریڈ نوبل کے یوم وفات کو موقع پر باقاعدہ طورپر دیے جاتے ہیں ۔

Close Menu