تہذیبی ارتقا ۔۔۔۔۔ ماضی، حال اور مستقبل

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

تہذیبوں کے عروج اور زوال کی داستان بھی عجیب ہے۔ جب اپنے عہد کی ترقی یافتہ قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کی جگہ نئی اقوام ابھرتی ہیں۔ مسلم تہذیب کے عروج اور زوال کی داستان میں بھی ہمارے لیے ایک سبق ہے لیکن اس سنہری عہد کے عروج اور زوال کے اسباب کے بارے میں عموماً خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ مسلم تہذیب کے عروج کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس دور کے مسلمانوں نے عام طور پر اور حکمرانوں نے خاص طور پر پہلی وحی کے پہلے لفظ ”اقرا” کی اہمیت اور مطلب کو بخوبی سمجھا تھا۔ انہوں نے صرف اسلامی سلطنت کی سرحدیں وسیع کرنے پر ہی توجہ نہیں دی بلکہ یونان، روم، فارس، ہندوستان اور چین وغیرہ جیسی عظیم تہذیبوں کے علوم کو عربی زبان میں ترجمہ کروانا شروع کیا تھا۔ جس کی بنیاد پر نئی بحثوں نے جنم لیا اور پرانے تصورات کے صحیح یا غلط ہونے پر تحقیق شروع ہو”ی تھی۔ اسی طرح سے یورپ میں Renaissance کے دور میں بھی قدیم یونانی اور عربی کتابوں کے انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں تراجم کرنا شروع کیے گئے تھے کیونکہ بہت سی قدیم یونانی دستاویزات کے صرف عربی ترجمے ہی باقی بچے تھے۔ آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں مختلف زبانیں جاننے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے جبکہ ترجمہ کرنے والے کمپیوٹر سافٹ ویئرز کو حالیہ برسوں میں کافی ترقی ملی ہے لیکن یہ اب تک درست اردو ترجمہ کرنے کے قابل نہیں ہو”ے ہیں۔ ڈجیٹل دنیا میں اردو کی پسماندگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمراں اور منصوبہ سازوں نے آج تک دوسری زبانوں میں موجود علوم کی اردو میں منتقلی کی اہمیت کو ہی نہیں سمجھا ہے اسی وجہ سے حکومتوں نے اردو سافٹ ویئر میں سرمایہ کاری سے گریز کیا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو مسلم خلفاأ نے سیکڑوں برس پہلے سمجھ لی تھی۔ خلافت راشدہ کے دور میں میں بلکہ اس سے پہلے ہی مترجموں کی اہمیت سمجھ لی گئی تھی کیونکہ جب اسلام کا پیغام دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو بھیجا گیا یا اس کے بعد جب اسلامی سلطنت کی سرحدوں میں وسعت ہو”ی تھی تو اسلام اور قرآن کا پیغام پہنچانے کے لیے عربی کے علاوہ مختلف زبانیں بولنے، پڑھنے اور لکھنے والوں کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ بنو امیہ کے عہد خلافت میں جب عربی کو سرکاری زبان قرار دیا گیا تو سرکاری دستاویزات کو مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا جانے لگا تھا۔ اس کے بعد عباسی عہد خلافت میں بھی تراجم کا سلسلہ جاری رہا لیکن اس میں تیزی اس وقت آئی جب 762ئ میں دارالخلافہ دمشق سے بغداد منتقل کر دیا گیا۔ وہاں سلطنت فارس کی ایک بڑی لاأبریری پہلے سے موجود تھی جس میں یونانی، عربی، فارسی، سنسکرت اور شامی زبانوں میں کتابیں موجود تھیں جنہیں خلیفہ نے ترجمہ کرنے کا حکم دیا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے 786ئ تا 809ئ کے عہد خلافت میں اسی بڑی لاأبریری میں بیت الحکمہ (جسے ہم تھنک ٹینک کہہ سکتے ہیں) قاأم کرنے کا حکم دیا تھا جہاں جمع ہونے والے اسکالرز مختلف شعبوں میں تحقیق، تصنیف و تالیف اور ترجمہ کے کام میں مصروف رہتے تھے۔ آئندہ صدیوں میں اسی طرح کے علمی و ساأنسی تحقیق و ترجمہ کا کام کرنے والے دوسرے قاہرہ، دمشق، قستنطنیہ، ٹمکٹو، قرطبہ اور نیشا پور جیسے بڑے تعلیمی ادارے دوسرے بڑے شہروں میں بھی قاأم کیے گئے تھے۔ بغداد میں بیت الحکمہ اور مختلف زبانوں کی کتابوں کو ترجمہ کرنے کا کام 1258ئ میں بغداد پر ہلاکو خان کے حملے تک جاری رہا۔ بیت الحکمہ میں تحقیق اور ترجمہ کا کام اتنے بڑے پیمانے پر کیا جاتا تھا اور محقیقین اور مترجموں کو اتنی اچھی تنخواہیں اور مراعات دی جاتی تھیں کہ انہیں کبھی اپنا کام تبدیل کر لینے کا خیال بھی نہیں آتا تھا۔ اس کے برعکس اگر ہم پاکستان پر نظر ڈالیں تو یہاں تحقیق اور تصنیف و تالیف اور ترجمہ کرنے والوں کو شاید ہی کبھی معاشی بے فکری حاصل ہو”ی ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ دولت مند عرب ممالک اور ایران مختلف ساأنٹیفک اور دوسرے موضوعات کے جرنلز کے ترجمہ اور تصنیف و تالیف پر کافی رقم خرچ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ تو حاصل ہے لیکن عملاً سارا کام انگریزی زبان میں کیا جاتا ہے۔ انگریزی کی چاہت اور اردو کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو تہذیبی زوال کا تسلسل ہی قرار دیا جا سکتا ہے جس کا آغاز اسلامی دنیا پر منگولوں کی یلغار سے ہوا تھا، جس میں سیکڑوں برس کی علمی اور تحقیقی دستاویزات ضاأع ہو گئی تھیں۔

چودھویں صدی میں اٹلی کے شہر فلورنس سے Renaissance کی مہم شروع ہو”ی تھی۔ اس دور میں مسلم دنیا اپنا علمی خزانہ برباد ہونے کے بعد مساأل کا شکار ہو رہی تھی۔ پندرہویں صدی کے اختتام اور سولہویں صدی کے آغاز میں دو تین ایسے واقعات رونما ہو”ے جس نے دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔2 جنوری 1492ئ کو اندلس میں اسلامی سلطنت کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا۔ اس روز امیر محمد xii نے گرینیڈا کی امارت، کو”ین ایزابیلا کو سونپ کر 711ئ میں طارق بن زیاد کی فوجی مہم کے ساتھ شروع ہونے والے مسلمانوں کے عہد کا خاتمہ کر دیا تھا۔
کرسٹوفرکولمبس اگست 1492ئ میں تین بحری جہاز لے کر ہندوستان کا راستہ تلاش کرنے نکلا تھا لیکن وہ بھاماس کے ایک جزیرے پر جا پہنچا۔ 1502ئ تک کولمبس نے کیوبا اور کریبین جزاأر اور وسط امریکہ کے متعدد چکر لگاأے اور وہاں اپنی کالونیاں بنانے اور وہاں پر موجود سونے کی کانوں پر قبصہ کرنے اور لوگوں کو غلام بنا کر اسپین لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ واسکو دے گاما 20 مئی 1498ئ کو کالی کٹ، کیرالہ ہندوستان کے ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ اس سے پہلے یورپی تجارتی قافلوں کو سلطنت عثمانیہ میں شامل سمندری اور زمینی راستوں سے گزرنا پڑتا تھا اور انہیں ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یورپی ملاحوں کو سمندری راستے سے براہ راست ہندوستان پہنچنے کا راستہ دریافت کر لیا۔ ان واقعات کے بعد دنیا میں لوٹ مار، قدرتی وساأل پر قبضوں اور غلاموں کی تجارت کے ایک عظیم دور کا آغاز ہوا جس کے لیے یورپی اقوام نے ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی کمپنیوں کو اجازت نامے جاری کیے تھے۔ یورپی اقوام نے افریقہ، سینٹرل، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں اپنی کالونیاں بناأیں اور مقامی باشندوں کا اتنا بڑا قتل عام کیا کہ امریکی انڈین قباأل اور آسٹریلیا کے ایب اوریجنز تقریباً مٹ گئے۔ یورپ اور امریکہ کے سیاہ فام ان غلاموں کی اولاد ہیں جنہیں افریقہ سے پکڑ کر لایا گیا تھا۔ مالی اور گھانا جیسے ممالک جن کی معیشت سونے کی تجارت سے چلتی تھی یورپی اقوام کی آمد کے بعد نہ صرف غریب ممالک میں شمار ہونے لگے ہیں۔ اسی طرح جب انگریز ہندوستان پہنچے تو یہ سونے کی چڑیا کہلاتا تھا لیکن دو سو سال بعد جب انگریز ہندوستان سے نکلنے پر مجبور ہو”ے تو ہندوستان غریب اور پسماندہ ہو چکا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران اگر ہٹلر کے ہولوکاسٹ میں 6 ملین یہودی مارے گئے تھے تو اسی جنگ میں برطانوی وزیر اعظم چرچل کی پالیسیوں کی وجہ بنگال میں پڑنے والے قحط میں بھوک اور بیماریوں سے 30 لاکھ افراد ہلاک ہو”ے تھے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا سے اس نوآبادیاتی دور کا خاتمہ ہو گیا جس کا جنم پندرھویں اور سولہویں صدی کے چند اہم تاریخی واقعات کے بعد ہوا تھا۔ حالیہ تاریخ میں 9/11 کے بعد دنیا میں جو جنگیں شروع ہو”ی ہیں ان میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کروڑوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو”ے ہیں۔ ان جنگوں نے امریکہ کو دنیا کا سب سے مقروض ملک بنا دیا ہے جبکہ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے بعد اپنی یونین بھی زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رکھ پاأے گا۔ بدلتی دنیا میں برطانوی پاأونڈ اور امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کی توقعات کی جا رہی ہیں۔ سیکڑوں برس کے دوران تہذیبوں کے عروج اور زوال کے ایک طویل دور کے بعد ہم اکیسویں صدی کے نئے معاشی، سماجی اور ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں نئے سنہری مسلم عہد کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری یا ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ محض ایک سڑک یا ریلوے لاأن نہیں ہے بلکہ مختلف ممالک کے درمیان تجارتی، معاشی تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہے جس میں ایشیاأی ممالک میں بھی نئے یا پرانے تجارتی اور معاشی مراکز آباد ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پالیسی ساز اس تبدیلی کو قبول کرنے یا مسلم اسلاف کی طرح ہر قسم کے علوم حاصل کرکے نئے تصورات مان لینے پر آمادہ ہیں؟ اب تک تو پاکستانی حکام میں نئے علوم اور مختلف ٹیکنالوجیز اپنانے یا نئے تصورات پر بحث سے ہچکچاتے رہے ہیں۔ شاید اسی ہچکچاہٹ یا امریکہ کی ناراضگی کے خوف کی وجہ سے انقلاب کے بعد والے ایران اور سوویت یونین کے بعد والے روس سے تعلقات میں اب تک گرمجوشی نہیں آئی ہے۔

Close Menu