مردوں کو بھی ماہواری آتی ہے؟

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: مقدس کاظمی

آپ مت گھبرائیے اور نہ اپنے آپ کو جسم کے کسی مقام کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ مر د ہیں اور پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ کو خطرے کی کوئی بات نہیں۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ یورپ میں اب مردوں کو بھی ماھواری آنے لگی ہے۔ اور بچوں کے نئے جنسی نصاب میں میں یہ بھی پڑھایا جانے لگا ہے کہ ماھواری صرف عورتو ں کو ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی آتی ہے۔ کیونکہ نئے جنسی تعلیم کے نصاب میں جب لڑکے لڑکی کا فرق بتایا جاتا تھاتو اس وقت صرف لڑکیوں یا عورتوں ہی ماہواری کے عمل سے گزرتی تھیں۔ مگر اب جنسی تعلیم دینے والے اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر پرائمری جماعت کا ننھی منی سوچ رکھنے والا بچہ پوچھے لڑکیوں کی ماہواری کا سن کر مردوں کی ماھواری کا پوچھے تو اس کا جواب ’ھاں‘ میں ہی دیا اور لکھا جائے۔ اب ایسی کون سی افتاد آن پڑی یا راتوں رات مردوں کو ماھواری آنا شروع ہوگئی؟ تو پتہ چلا کہ حکومت  ٹرانسجینڈرز کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک نارمل انسانی جسم کی خصوصیات ہی بدلتی جا رہی ہے۔

اس موضوع پر آگے چلنے سے پہلے میں یہ واضح کردوں کہ پاکستان میں ’Trangender‘ عموماً کسی بھی پیدائشی’ خواجہ سرا‘ کو کہا جاتا اور سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصوّر سرے سے ہی غلط ہے۔ خواجہ سرا کو  Transgender کہنا سراسر زیادتی ہے۔ کیونکہ خواجہ سرا وغیرہ  دراصل پیدائشی طور پر کسی نمایاں جنس سے محروم ہونے والے انسان کو کہتے ہیں جس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ مگر  Transgender وہ انسانی مخلوق ہے جو عموماً نوبلوغیت کے دوران یہ محسوس کرنا شروع کر دیتی ہے کہ اوھو! وہ تو دراصل غلط جسم میں قید ہے۔

دوسرے لفظوں میں اس کی جنسی شناخت ، اس کے ذہن سے میل نہیں کھاتی۔ مثال کے پر اگر وہ مرد ہے تو اسے دماغی طور پر محسوس ہو کہ وہ عورت ہے اسی طرح اگر وہ لڑکی ہے یا عورت ہے تو اسے دماغی طور پر یہ لگے کہ وہ اصل میں مرد ہے۔ اب وہ جیسے ہی یہ اندر سے محسوس کرتا ہے کہ وہ مرد نہیں، عورت ہے یا عورت نہیں، دراصل مرد ہے تو وہ پھر اپنی شناخت بطور مرد یا عورت اپنی جسمانی ساخت سے برعکس درج کرواتا ہے جسے انگریزی میں Transgender اور اردو میں ’زنخا یا زنخی یا زنانے ‘بھی کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں  Transgenderلڑکی کے کیسسز، خاندانی سختی اور دباؤ کی وجہ سےخال ہی ابھر کر سامنے آتے ہیں مگر Transgender  لڑکے چونکہ گلی محلے یا اسکول وغیرہ میں دوسرے ہم جولیوں کے ساتھ بھی میل ملاپ رکھتے ہیں تو وہ جلد ہی نہ صرف پہچانے جاتے ہیں بلکہ لونڈے باز مردوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں ۔ دوسری طرف، یورپ میں اگر کوئی لڑکی اپنے آپ کو مرد سمجھنا شروع کر دے یا کوئی لڑکا اپنے آپ کو عورت سمجھنا شروع کر دے تو وہ اپنے آپ کو اس صنف میں بھی ڈھالنا شروع کردیتا ہے جس کے لیے مغربی ریاستی ادارے نہ صرف اس کی بھر پور حمایت کرتے ہیں بلکہ حوصلہ افزائی اور پشت پناہی بھی شروع کردیتے ہیں۔ اور یورپ میں آج کل ان  Transgenders کا فیشن اور رحجان اتنی شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ کچھ عشرے پہلے لڑکوں یا لڑکیوں کی بطور  Transgenders  شناخت، صرف چند درجن سے تجاوز نہیں کرتی تھی اب صرف برطانیہ میں ایسے کیسز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔ اور صرف برطانیہ ہی نہیں، تمام مغربی ممالک بشمول آسٹریلیا، اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں

برطانیہ میں  Transgenders  کی شناخت کا تعین کرنے والا ادارہ Gender identity development service یا  GIDS ہے جس کی برطانیہ کے دوشہروں لیڈز اور لندن میں برانچز ہیں ۔ اس ادارے کے بقول ان کے پاس بھی Trangenders کی جنسی شناخت کے حتمی تعین کے لئے ہزاروں بچے بچیاں قطار میں لگ چکی ہیں جن کو اب کئی کئی سال انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اس حتمی جنسی تعین سے پہلے والدین اپنے بچے کے بارے فکر مند ہوں تو ان کی داد رسی اور ان کے بچے کی حوصلہ افزائی کے لیے LGBTیا  Lesbian, Gay, Bisexual and Transgendersکے نام سے ہم جنس پرستوں کی کمیونٹی ہر وقت سرگرم عمل ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک پیدائشی جنسی نقص والا انسان کی تو وجہ بنتی ہے کہ وہ اسکے بس میں نہ تھا اور وہ انسان جو اپنے آپ کو یہ سمجھنے لگے کہ وہ، وہ نہیں ہے جو وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے تو کیا یہ واقعی کوئی بیماری ہے یا خود کو دھوکا دینے والی بات ہے اس کا واضع تعین ابھی تک نہیں ہو پا رہا اور ماہرین کوئی حتمی رائے ابھی تک دینے سے قاصر ہیں۔

مگر بات اب یہیں نہیں رکی بلکہ حال ہی میں، جب میں برطانوی مسلمانوں کے ’طریقِ والدینیت ‘ یا  Parenting stylesپر تحقیق کررہا تھا تو کئی والدین نے آف دی ریکارڈ بتایا کہ ان کی بچی بھی اس مرض کا شکار ہو چکی ہے اور وہ ان اداروں کے ہتھے چڑھ چکے ہیں جو ان کی بیٹی کو بیٹا ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف میرے لیے چونکا دینے والا تھا۔ اور ایک والد نے تو یہاں تک بتایا کہ اس کی بیٹی کو  GIDSادارے نے آپریشن بھی تجویز کر دیا ہے۔ جس میں اس کے وہ بیرونی اعضاء جو اس کی نسوانیت کو ظاہر کرتے ہیں انہیں کاٹ کر برابر کردیا جائے گا اور شاید ان کے دیگر اندرونی نسوانیت سے متصلہ اعضاء کو بھی بگاڑ کر بھونڈے مردانہ اعضا لگا دیئے جائیں گے۔ مزید برآں، اس کو مردانہ آواز دینے اور دیگر مردانہ خصوصیات دینے کےلیے مردانہ ھارمونز جیسے ٹیسٹوسٹیران اور زنانہ ہارمون کو روکنے کے لیے Blockers کے انجکشن بھی لگائے جائیں گے۔ میرا تو یہ سن کر کلیجہ منہ کو آ گیا تو والدین جو اس کیفیت سے گزر رہے تھے ان پر کیا بیت رہی ہوگی۔ یہ بیان سے باہر تھا مگر پھر بھی میں نے ہمت کر کے ان سے پوچھ ہی لیا کہ بطور مسلمان تو اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ تو وہ سرد آہ بھر کر کہنے لگے کہ جانے دیں جناب یہ پاکستان نہیں ہے، یہ برطانیہ ہے جہاں والدین کی بجائے بچوں کو سنا اور سمجھا جاتا ہے۔

یہ سن کر جہاں میری پریشانی میں اضافہ ہوا تو میں نے اس معاملے پر نظر رکھنا شروع کی تو پتہ چلا کہ مسلمان ہی نہیں بےشمار غیر مسلم والدین میں بھی اپنی بچیوں میں  Transgender کے رحجانات اور متعلقہ اپریشن سے بےحد بےچینی پائی جارہی ہے جبکہ حکومتی ادارے ایسے بچوں اور بچیوں کی بھر پور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

 اسی سلسلے میں ایک اور گوری والدہ نے اپنے بچی کے بارے میں Transgenderکی نشانیوں اور حکومتی پشت پناہی پر بتایا کہ برطانیہ میں بھی ایسا رحجان پہلی دفعہ دیکھنے میں آرہا ہے ورنہ اس سے قبل اگر کوئی لڑکی اپنے آپ کو لڑکا سمجھتی تھی تو وہ زیادہ سے زیادہ اپنے بال مردوں کی طرح کٹوا کر اور مردانہ لباس پہن کر اپنا شوق پورا کرلیتی تھی۔ جسے ’ٹام بوائے‘ کہا جاتا تھا۔مگر اب جس طرح اس فعل اور شناخت نامعقول کو حکومتی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی مل گئی ہے تو ہم جنس پرستوں سے لے کر خواجہ سراؤں اور Transgenderتک سب اب پھولے نہیں سما رہے اور اکڑ اکڑ کر زنانہ چال میں جابجا نظر آتے ہیں خصوصاً محلہ ہم جنس پرستاں (gay village) میں تو ان کی چال ڈھال دیدنی ہوتی ہے۔ اور کسی کی مجال نہیں کہ ان کے خلاف کوئی لفظ منہ سے نکالے یا ان کا مذاق اڑا سکے بلکہ اب تو ان کے خلاف بولنا یہودیوں کے خلاف بولنے کے مترادف ہوگیا ہے اور ان کی شکایت پر پولیس بھی فوراً حرکت میں آجاتی ہے۔

بشکریہ ہم سب

Close Menu