روپے کی بے قدری

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

عجیب تماشا ہے! دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان 21 کروڑ آبادی والا ایک بڑا اور طاقتور ایشیائی ملک ہے۔ لیکن ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی بے قدری اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی اور مافیاز کے سامنے حکومت کے ڈھیر ہونے کے تاثر سے لگتا ہے کہ پاکستان کوئی ایٹمی قوت نہیں بلکہ چوں چوں کا مربہ ہے جسے کوئی با اثر اور دولت مند شخص اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے۔ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اچانک کمی کے رجحانات کی تاریخ کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ دنوں میں پھر کوئی بڑا سیاسی ایونٹ ہونے والا ہے۔ اس تجزیے تک پہنچنے کی وجہ یہ کہ پاکستان میں ہمیشہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے دور کے آس پاس ہی ہمیشہ ڈالر کی قیمت میں بڑے اتار چڑھائو آتے رہے ہیں۔ جس کے بارے میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ روپے کی قدر میں اتار چڑھائو سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کسی آئندہ سیاسی مہم پر یا پہلے چلائی جانے والی سیاسی مہم کے اخراجات مع منافع وصول کیے جاتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی ناقدری کے چند بڑے واقعات کچھ یوں ہیں کہ 2008ء میں جون سے نومبر کے مہینوں کے دوران ایک ڈالر کی قیمت 67.45 روپے سے بڑھ کر 81.1 روپے تک پہنچی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے مستعفی ہو کر گھر جانا پڑا تھا اور آصف علی زرداری 6 ستمبر کو ملک کے صدر بنے تھے۔ 2008ء سے 2010ء کے درمیان آئی ایم ایف سے 7.4 ارب ڈالر کے قرض کی قسطیں وصول ہونے کے باعث روپے کی قدر میں منفی رجحانات کے باوجود استحکام رہا تھا۔ دسمبر 2011ء تک ایک ڈالر کی قیمت آہستہ آہستہ بڑھ کر 88.6 روپے تک پہنچ گئی تھی لیکن اپریل 2012ء میں یہ بڑھ کر 90.75 روپے ہوگئی جو دسمبر 2012ئ میں 98 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ اگر ذہن پر زور ڈالا جائے تو یاد آئے گا کہ اپریل 2012ء میں عدالت نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے 30 سیکنڈ کی علامتی سزا دے کر وزارت عظمیٰ کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا۔ انہیں یہ سزا سوئس عدالت کو آصف علی زرداری کے خلاف کیس کھولنے کے لیے خط نہ لکھنے کی بنیاد پر دی گئی تھی۔ اس کے بعد جولائی تا دسمبر 2013ء روپے کی ناقدری میں اچانک اضافہ ہوا اور اس عرصے میں ایک ڈالر کی قیمت 98.25 روپے سے بڑھ کر 107.2 روپے تک پہنچ گئی تھی اور پھر آئندہ تین مہینوں میں کم ہو کر 97.90 روپے تک واپس آ گئی تھی۔ اس سے قبل ملک میں عام انتخابات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں میاں نواز شریف نے جون 2013ء میں ملک کے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا تھا۔ 8 ستمبر 2013ء کو اپنی مدت صدارت مکمل کرنے کے بعد آصف علی زرداری کو ایوان صدر سے رخصت ہونا پڑا تھا۔ انتخابات میں دھاندلی اور چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک میں تحریک انصاف نے اور ماڈل ٹائون کیس پر پاکستان عوامی تحریک نے مل  کر اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا، جو دسمبر میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے ہلاکت خیز حملے کے بعد ختم ہوا تھا۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے باوجود روپے کی قدر مستحکم رہی تھی جس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے6.4 ارب ڈالر کا پروگرام حاصل کیا تھا، مہنگے داموں بانڈز فروخت کیے تھے اور ایسے کچھ دوسرے قرضے حاصل کیے تھے۔ تاہم پانامہ پیپرز کے انکشاف سے ملک میں جو سیاسی تحریک اٹھی اور پھر عدالتی کارروائی شروع ہوئی تھی تو اس کے نتیجے میں جولائی 2017ء میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف وزارت عظمیٰ سے برطرفی کا فیصلہ سنا کر گھر بھیج دیا گیا۔ روپے کی قدر میں ایک بڑھا جھٹکا نومبر دسمبر 2017ء میں لگا تھا جس میں ایک ڈالر کی قیمت 105.55 روپے سے بڑھ کر 110.1 روپے ہوگئی تھی جو مارچ تک برقرار رہی اور پھر مارچ سے جولائی کے دوران ایک ڈالر کی قیمت میں مزید 20 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک میں بروقت انتخابات نہ کروانے اور خلائی خلوق کی آمد کی سیاسی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز کسی عظیم الشان استقبال کی آس میں لندن سے لاہور پہنچے تھے لیکن انہیں خالی ایئر پورٹ سے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان وزیر اعظم بن تو گئے لیکن ان کے معاشی بحالی کے وعدے مہنگائی اور روپے کی بے قدری کی نذر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ روپے کی بے قدری نئی انتہائوں کو چھو رہی ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں میں قوت خرید میں ہر روز کمی ہونے اور اپنی بچتوں کی قدر کھونے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی کرنسی سے کھلواڑ کرنے والوں پوشیدہ خزانوں میں دولت بڑھتی جا رہی ہے۔ جسے شاید ہم غیر قانونی دولت جمع کرنے کا اسکینڈل بھی نہیں کہہ سکتے۔

حالیہ مہینوں میں جس طرح پاکستانی روپے کا ستیاناس ہوا ہے، اس کی ذمہ داری محض آصف زرداری اور نواز شریف پر ڈال دینے سے حکومت اور اس کی معاشی ٹیم کی دال نہیں گلے گی۔ کہاں تو ایک سال میں معاشی بحالی کی باتیں کی جا رہی تھیں اب مزید دو سال کا وقت مانگا جا رہا ہے۔ لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ دو سال بعد مزید دو سال انتظار کرنے کی بات نہیں کی جائے گی تاکہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہو جائے۔ گزشتہ دس گیارہ سال کے دوران حکومتوں نے ضرورت سے زیادہ نوٹ چھاپنے کی جو پالیسی اپنائی تھی وہ اب بھی برقرار ہے۔ کرنسی نوٹوں کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ 2010ء سے 2013ء کے درمیانی عرصے میں نوٹوں کی چھپائی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اب ایک بار پھر نوٹوں کی چھپائی میں âضرورت سے زیادہ á اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کرنسی کی چھپائی اور بدعنوانی میں اضافے کے باہمی تعلق پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سینیٹ میں دسمبر 2016ء میں 5000 روپے کا نوٹ ختم کر دینے کی قرار داد منظور کی گئی تھی۔ تب حکومت کی جانب سے سینیٹ کو بتایا گیا تھا کہ پانچ ہزار کے 3.43 ٹریلین کے نوٹ زیر گردش ہیں جو پاکستانی کرنسی کا 30 فیصد ہیں لہٰذا اگر پانچ ہزار والے نوٹ بند کیے گئے تو مارکیٹ میں کرنسی کا بحران آ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت روپے کی ناقدری، کالے دھن اور افراط زر پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کرے گی؟ کیا اس بحران پر قابو پانے کے لیے نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں گے ؟ اسٹیٹ بینک کافی عرصے سے پولیمر کے جدید طرز سے چھوٹے کرنسی نوٹ متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی نوٹ بندی کا اعلان کیا جائے۔ لیکن عام طور پر لوگ نہیں جانتے کہ نریندر مودی کے اس اقدام سے بھارتی معیشت کو جو نقصان ہوا ہے اس کے اثرات وہاں اب تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ نوٹ بندی کو جعلی کرنسی اور کالے دھن کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی پرکاری وار قرار دیا گیا تھا لیکن تینوں مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ بعض بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ نوٹوں سے زیادہ بینک نوٹ جمع ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ نریندر مودی کے نوٹ بندی کے اقدام کو آٹھ کھرب روپے کا اسکینڈل سمجھتے ہیں۔ کرنسی کے عدم استحکام اور معاشی عدم استحکام کو کنٹرول کرنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے یورپ اور خاص طور پر مغربی جرمنی میں کیے جانے والے اقدامات سمیت ایسے ہی دوسرے واقعات کی طرف دیکھنا چاہیے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگ کی تباہی اور پھر اتحادیوں کی جانب سے لگائی جانے والی صنعتی پابندیوں کے بعد لگتا تھا کہ جرمن شاید کبھی اٹھ نہیں پائیں گے۔ تاہم جون 1948ء میں معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ نئی کرنسی ڈوئش مارک جاری کے اقدام سے جرمنی کی معیشت دوبارہ ترقی کرنے لگی تھی۔ پچھلی صدی کے معاشی حالات اور موجودہ بینکاری اور تجارتی نظاموں میں بہت فرق آ چکا ہے لیکن پاکستان میں اب بھی کچی رسیدوں اور کیش پر بڑے بڑے کاروبار چل رہے ہیں۔ جب تک کاروباری لوگوں ٹیکس سے بچنے اور دولت چھپانے کی عادت ختم نہیں ہوگی تب تک کوئی بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کارگر ثابت نہیں ہوگی۔
Close Menu