پاکستان کو کئی مسائل کا سامنا

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

ان دنوں پاکستان ایک نئے ارتقائی دور سے گزر رہا ہے۔ یہ شاید سیاسی، سماجی اور معاشی ارتقا کا ہی نتیجہ ہے کہ بہت سے پرانے نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک سنگین نوعیت کے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پے در پے رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں لیکن خود کش بم اور دیگر اقسام کے دھماکوں نے ایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پر فوری اور مکمل عمل درآمد کے لیے حکومت پر دبائو میں اضافہ کر دیا ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات کے تانے بانے افغانستان میں ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جہاں گزشتہ سترہ برس سے خانہ جنگی جاری ہے۔ اب امریکی انتظامیہ طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ مکمل اخلا سے قبل افغانستان میں حکومت کا کوئی ڈھانچہ بنا دی جائے۔ لیکن طالبان کی جانب سے موقف واضح ہے کہ وہ موجودہ افغان حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغان فوج اور تمام سیکورٹی اداروں کے افراد کو برطرف کی دیا جائے جس کے بعد وہ دوبارہ ان اداروں کو منظم کریں گے۔ خبریں تو یہی ہیں کہ امریکہ 2020ء میں افغانستان سے اپنی فوجیں مکمل طور پر نکالنا چاہتا ہے، ممکن ہے کہ وہ فوج کی جگہ بلیک واٹر جیسی بدنام زمانہ سیکورٹی تنظیم کو افغانستان میں ذمہ داریاں سونپ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔ جبکہ شام اور عراق سے فرار ہونے والے داعش جنگجوئوں کو ہیلی کاپٹروں میں بٹھا کر افغانستان لانے کی خبریں بھی بہت عرصے سے گردش کر رہی ہیں۔ ایسی صورت میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر افغانستان میں امن نہ آیا تو پاکستان میں بھی امن نہیں آئے گا لیکن یہ بدامنی پاکستان میں ہی آکر نہیں رک جائے گی کیونکہ اگر افغانستان میں داعش مضبوط ہوئی اور مقبوضہ کشمیر میں بدامنی کی آگ بھڑکی تو جن قوتوں انہیں شام اور عراق سے نکال کر افغانستان پہنچایا ہے وہی قوتیں انہیں مقبوضہ کشمیر میں پہنچانے کا انتظام کر سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگ کے حالات پیدا ہونے ے پاکستان میں تشویش پائی جاتی ہے۔ خطے میں امن سب کے لیے اہم ہے لیکن عالمی افق پر کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو مسلم امہ کو شیعہ اور سنی فرقے کی جنگ میں الجھا کر تیل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ فرضی کہانیاں حقیقت کا روپ دھارنے لگتی ہیں۔90ء کی دھائی میں ایک ایسا ویڈیو گیم بنایا گیا تھا جس کی اسٹوری لائن ہی یہ تھی کہ مشرق وسطیٰ میں جنگوں اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے ملکوں کی فوجیں تباہ ہو گئی ہیں اور چھوٹے چھوٹے باغی اور دہشت گرد گروہوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ دہشت گردی ایک بڑا عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے حالات کے باعث اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ اور ایران کے تمام تیل اور گیس کے ذخائر کو عالمی ملکیت قرار دے دیا ہے جس کے بعد ان تیل اور گیس کے ذخائر کی حفاظت کے لیے امریکی اتحادی افواج اس خطے میں آگئی ہیں جو ان کنوئوں، ریفائنریز، پائپ لائنوں اور پورٹس کی حفاظت کر رہی ہیں۔ اب اس بات کا فیصلہ مشرق وسطیٰ کے رہنمائوں کو کرنا ہے کہ وہ ان مفروضوں کو غلط ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔ کشیدگی کے اس ماحول میں پاکستان کا کردار اس طرح بڑھ گیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ یہ صحیح ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب کی جانب جھکائو ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کڑے وقت میں سعودی حکومت پاکستان کی مدد کے لیے کھڑی رہی ہے جبکہ پاکستانی فوجی دستے بھی حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کا پڑوسی ملک ایران ہے جس سے بعض معاملات میں اختلافات رہے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے جس طرح امریکہ کے کہنے پر ایران سے تیل خریدنے سے انکار کیا ہے اس سے ایران کو یقیناً دھچکہ لگا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے حالیہ دورہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایران کے راستے سے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں پر کافی تفصیلی بات کی ہے۔ ایران اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مکہ مکرمہ میں 30 مئی کو ہونے والے عرب لیگ اور گلف کوآپریشن کونسل کے ہنگامی اجلاس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی مدد سے سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی کم کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کو یہ پیغام دینا بھی تھا کہ ایران پر حملہ کرنے سے دنیا میں انارکی پھیلے گی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے چاہ بہار پورٹ کو پاکستان کی گوادر پورٹ کے ساتھ منسلک کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ اسی پورٹ پر بھارتی حکومت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور اس بندرگاہ کو افغانستان اور وسط ایشیا تک پہنچنے کے لیے اہم قرار دیا تھا لیکن اب بھارت کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت بننے جا رہی ہے۔
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی اور اس نسبت سے آر ایس ایس کی انتخابی کامیابی پاکستان کے لیے غیر متوقع نہیں تھیں۔ بی جے پی رہنما اپنی انتخابی مہم میں پاکستان مخالف باتیں کرتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر نریندر مودی کو شکست ہوئی تو پاکستان میں خوشی میں پٹاخے پھوڑے جائیں گے۔ سچ بات یہ ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو نریندر مودی کے ہارنے یا جیتنے کی زیادہ پرواہ نہیں تھی۔ بلکہ پاکستان میں کافی عرصے سے کہا جا رہا تھا ’’اب کی بار، پھر مودی سرکار‘‘۔ جس روز انتخابی نتائج سامنے آئے اس روز نریندر مودی کے جیتنے کی خوشی میں پاکستان نے 1500 کلومیٹر رینج کے شاہین II بلیسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کر ڈالا۔ اگر پاکستان کی سیاست کے تناظر میں بی جے پی کی حالیہ کامیابی کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی آئندہ بیس پچیس سال تک کسی نہ کسی طور پر اقتدار میں رہے گی۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں ہمیشہ پاکستان کے مذہبی رجحانات پر انگشت نمائی کی جاتی رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ووٹرز نے کبھی مذہبی سیاسی جماعتوں یا کسی انتہا پسند مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا ہے بلکہ پارلیمنٹ میں مذہبی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہمیشہ کم ہی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یہ باتیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے 90 سال پہلے جن حالات کا اندازہ لگا لیا تھا اب وہ بھارت میں رونما ہو رہے ہیں۔ جس کے تحت پہلے ہندو مسلم تفریق پیدا کرکے مسلمانوں کو سیاست اور سماج سے الگ تھلگ کیا گیا ہے۔ اور اب خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے لیے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی جس سے خاص طور پر کشمیری مسلمان متاثر ہوں گے اور وہاں ایک نیا فتنہ جنم لے گا۔ عام پاکستانیوں کو حکمراں جماعت کی رکن اسمبلی کی جانب سے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو محب وطن قرار دینے کے بیان پر حیرت ہوئی ہے کیونکہ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی پاکستانی قائد اعظم محمد علی جناح کی بانیٔ پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرے یا پھر لیاقت علی خان کے قاتل کی حمایت کرنا شروع کر دے۔ اس سے قبل سردار پٹیل کے âمیڈ ان چائنا á مجسمہ بنانے پر بھی سوال کیا گیا تھا کہ گاندھی جی یا جواہر لعل نہرو کے بجائے  سردار پٹیل کا مجسمہ کیوں بنایا گیا ہے؟ اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قائد اعظم کی تصویر پاکستان بھجوانے کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ تاریخی دستاویزات سے محمد علی جناح کا نام کیسے غائب کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے عجائب گھروں کی تحریک پاکستان کی گیلریز میں گاندھی جی اور دوسرے کانگریسی لیڈرز کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں بلکہ اسلام آباد کے میوزیم میں قائد اعظم اور گاندھی جی کی تاریخی ملاقات کی منظر کشی مجسمے بنا کر کی گئی ہے۔ پاکستان میں تو کسی مذہبی گروہ نے اس پر اعتراض نہیں کیا بی جے پی  کے کارکنوں نے ایک تصویر پر خاصا ہنگامہ کیا ہے۔ خیال آتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کی بہت سی تاریخی دستاویزات اور دوسرے نوادرات بھی بھارت میں ہی ہیں، اگر بی جے پی کی حکومت ان تاریخی دستاویزات کو کچرا سمجھ کر پھینکنے لگے تو ایسی ساری چیزیں پاکستان میں پھنکوا سکتی ہے۔
پاکستان کے حوالے سے ایک بڑی خبر ہے کہ کراچی کے قریب سمندر میں تیل اور گیس کے اتنے وسیع ذخائر موجود ہیں کہ ان کی دریافت کے بعد پاکستان کو بیرون ملک سے تیل منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ان ذخائر کی موجودگی پر یقین کی وجہ یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سروےز سے یہ اندازہ کر لیا جاتا ہے کہ زمین کے نیچے تیل اور گیس کے کتنے ذخائر موجود ہیں۔ کراچی کے نزدیک بحیرہ عرب میں کیکڑا ون نامی سائٹ پر تیل کے بڑے ذخائر ملنے کے امکان کے بارے میں خبریں کافی دنوں سے گردش کر رہی تھیں کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی ایگزان موبل ڈرلنگ کر رہی ہے۔ لیکن میڈیا ہائپ اور وزیر اعظم سمیت چند دوسرے وزرا کے امیدوں بھرے بیانات اس وقت ہوا میں تحلیل ہو گئے جب یہ اعلان کیا گیا کہ اٹھارہویں ڈرلنگ بھی بے نتیجہ رہی ہے لہٰذا اب یہ کام روک دیا گیا ہے اور کمپنی ڈرلنگ کی ہوئی جگہ بند کر رہی ہے۔ مسلم لیگ کے وہ لیڈر جو دو دن پہلے تک اس پروجیکٹ کو میاں نواز شریف کی دور اندیشی کا نتیجہ قرار دے رہے تھے، تیل نہ نکلنے کی خبر کے بعد حکومت پر کروڑوں ڈالر ضائع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے نظر آئے۔ ٹی وی چینلز نے بھی ایک دو روز حکومت کا مذاق اڑایا گیا لیکن روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان اور اسٹاک مارکیٹ کے منفی رجحانات دوبارہ خبروں پر چھا گئے۔ تاہم  تیل نہ ملنے کی خبر کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تیل نہ ملنے کی خبر سیاسی فیصلے کا نتیجہ ہے جس کی بنیادی وجوہات ایران اور امریکہ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات ہیں۔ اس کی ایک وجہ چین اور امریکہ کی ٹریڈ وار بھی ہے جس میں بھارت چین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے جا رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑے کی خلیج میں موجودگی سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور گوادر پورٹ منصوبے پر بھی دبائو آ سکتا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دوبارہ  کامیابی کے پاک بھارت تعلقات پر اثرات کی وجہ سے بھی اس پروجیکٹ کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب اپنی گوادر کے نزدیک اپنی ریفائنری کی تکمیل تک یہ منصوبہ بند رکھنا چاہتے ہوں۔ دریں اثنا سعودی عرب کی جانب سے ڈیفرڈ پےمنٹ پر 3.2 ارب ڈالر سالانہ کا تیل دینے کی پیشکش کی ہے جس کے بعد پاکستان کی معیشت پر پڑنے والا حقیقی اور نفسیاتی دبائو کم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ دن سے روپے کی قدر میں نسبتاً استحکام اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
برسوں سے ڈالر کی عاشقی میں مبتلا عام پاکستانیوں میں اب ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے بےزار نظر آ رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی سرمایہ داروں کا ڈالروں سے عشق بڑھتا رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مہینوں کے منفی رجحانات کے بعد اب مثبت رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 153 تک پہنچ کر تھوڑی سی کم تو ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ ایک ڈالر کی قیمت جلد ہی 160 روپے سے تجاوز کر جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی روپے کی حالیہ بے قدری کو مصنوعی بحران کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں کچھ گروپس اور کمپنیوں نے اچانک اس وقت ڈالر کی بڑے پیمانے پر خریداری کی تھی جب حکومت کو بیرونی قرضوں کی قسط ادا کرنا تھی۔ یہ خبر سرکاری دفاتر سے ہی لیک ہوئی تھی جس کے باعث مارکیٹ میں اچانک ڈالروں کی قلت پیدا ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈالر کی قیمت میں دس گیارہ روپے کا اضافہ ہو گیا۔ یہ بحران اتنا سنگین ہوتا جا رہا ہے تھا کہ مفتی تقی عثمانی کو فتویٰ جاری کرنا پڑا کہ ڈالروں کی ذخیرہ اندوزی دینی تعلیمات کے خلاف ہے اور نبی کریم ö نے ذخیرہ اندوزوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور فرمایا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی عبادات قبول نہیں ہوتیں۔ اس فتوے سے ڈالر کی قیمت میں تو کمی نہیں ہوئی لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ عام شہریوں نے بلاوجہ ڈالر خریدنے سے گریز کیا ہے بلکہ بہت سے لوگوں نے پہلے سے رکھے ہوئے ڈالر فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس سے قبل ایف بی آر کے نئے چیئر مین نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمگلنگ کرنے اور اسمگلنگ کا مال بیچنے نماز روزے اور عمرے قبول نہیں ہوتے۔ گزشتہ چند مہینے کے دوران جس طرح روپے کی بے قدری ہوئی ہے اس سے عام شہریوں میں مہنگائی بڑھنے  سے آمدنی سکڑنے اور بچتیں ہوا میں تحلیل ہو جانے کا نفسیاتی احساس بڑھ رہا ہے جو حکومت کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 12.25 فی صد کر دی ہے جس پر بچت کرنے والے عام شہریوں کو تو فائدہ ہوگا لیکن نواز شریف کے دور میں پانچ چھ فیصد شرح سود پر مزے کرنے والے سرمایہ داروں کو حکومت کا یہ فیصلہ یقیناً پسند نہیں آئے گا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور غیر ملکی اشیا پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کی وجہ سے درآمدات میں کمی تو آئی ہے لیکن برآمدات میں اضافے کے فی الحال کچھ زیادہ امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
قیاس کیا جا رہا ہے کہ روپے کی حالیہ بے قدری کی لہر سے ملک کو چند دن میں 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ حکومت آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر 6 ارب ڈالر کا معاشی پیکیج لینے پر آمادہ ہوگئی ہے، جو آئندہ چند دنوں میں آئی ایم ایف سے حتمی منظوری کے بعد آئندہ تین برس میں قسط وار ادا کی جائے گی۔ اس سے قبل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے نمائندوں میںبحث کی خبریں بھی گردش کرتی رہی تھیں۔ بھارتی نمائندوں کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کروا دیا جائے تاکہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو لیکن بھارتی نمائندوں کو اپنی کوششوں میں ناکامی ہوئی اور اجلاس کے شرکا منی لانڈرنگ، بدعنوانی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات سے کافی مطمئن نظر آئے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ اسٹیٹس میں کافی بہتری آئے گی۔ ملک میں رونما ہونے والی اقتصادی مشکلات پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے حکومت کی معاشی ٹیم میں تبدیلیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جس کا آغاز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی برطرفی سے شروع ہوا تھا۔ جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے گورنر، سیکریٹری خزانہ، انوسٹمنٹ بورڈ کے سربراہ کے علاوہ کچھ اور لوگوں کی تقرریاں اور تبادلے کیے گئے ہیں جبکہ آئندہ دنوں میں معاشی ٹیم میں مزید تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ رمضان کے مہینے میں منافع خوری ہر سال عروج پر پہنچ جاتی ہے لیکن اس بار مقامی طور پر پیدا ہونے والی سبزیاں اور پھلوں کے نرخوں کو بھی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے لیکن رمضان کی گراں فروشی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سارے شیطان پاکستان کی سبزی منڈیوں میں ہی بند کیے جاتے ہیں۔
Close Menu