بہتری کے مغالطے سے فی الحال نکل آئیں

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: وسعت الله خان

دو روز قبل نریندر مودی نے دوسری بار وزارتِ عظمی کا حلف اٹھا لیا۔ راشٹر پتی بھون کے لان میں بالی وڈ کے ستاروں سمیت جن چار ہزار مہمانوں نے شرکت کی ان میں دو ہزار چودہ کی حلف برداری کے برعکس سارک سربراہانِ مملکت و حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا۔اس کے بجائے خلیجِ بنگال منصوبہ برائے اقتصادی و کثیر جہتی تکنیکی تعاون ( بمسٹیک ) کی سات رکنی تنظیم کے نمایندوں کو بطور خصوصی مہمان دعوت دی گئی۔نیز بمسٹیک سے باہر کے دو ممالک مالدیپ اور کرغیزیہ کے صدور کو بھی بلایا گیا۔

بمسٹیک کیا بلا ہے ؟ اس کے بارے میں خود بھارتی صحافی اور بدھی جیوی بھی بہت کم جانتے ہیں۔ بس اتنا معلوم ہے کہ خلیجِ بنگال کے اردگرد قائم سات ممالک بھارت ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، نیپال ، سری لنکا ، برما اور تھائی لینڈ پر مشتمل علاقائی تعاون کی یہ تنظیم انیس سو ستانوے میں قائم ہوئی اور اس کے اب تک چار سربراہ اجلاس ہو چکے ہیں۔ دو رکن ممالک برما اور تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کی اقتصادی تعاون کی تنظیم آسیان کے بھی رکن ہیں۔ جب کہ باقی پانچ ارکان سارک کی آٹھ ملکی تنظیم کا بھی حصہ ہیں۔

گویا اگر مالدیپ کو بھی ملا لیا جائے تو عملاً مودی نے سارک کے چھ رکن ممالک کو اپنی تقریبِ حلف میں مدعو کیا سوائے افغانستان اور پاکستان کے۔بمسٹیک کے باہر سے اگر مالدیپ اور کرغستان کے صدور کو نیوتا بھیجا گیا تو دوست افغان صدر اشرف غنی کو کیوں نہیں ؟ اس سوال کا جواب صرف مودی جانتے ہیں۔

اس طولانی تمہید کا مطلب کیا ہوا ؟ مطلب یہ ہوا  کہ کہیں پاکستان کو دعوت نامہ نہ دینا پڑ جائے اس کے لیے یہ سارا بکھیڑا کیا گیا۔حالانکہ یہ پاکستان کا بالا کوٹ ہی تھا جس نے مودی کو الیکشن جتایا۔عمران خان نے جب مودی کو جیت کی مبارک باد دی تو جوابی شکریے کے دودھ میں بھی یہ مینگنیاں ڈالی گئیں کہ جب تک سرحد پار سے دہشت گردی بند نہیں ہوتی تب تک بات چیت نہیں ہو سکتی۔حالانکہ عمران خان نے مبارک باد کے رسمی پیغام میں بات چیت کا ذکر تک نہیں کیا تھا صرف نیک خواہشات اور اچھے تعلقات کی تمنا ظاہر کی تھی۔

انتخابی نتائج کے اعلان سے صرف ایک دن پہلے بائیس مئی کو کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون کونسل کے وزارتی اجلاس میں بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا منہ بھی میٹھا کروایا۔کیا یہ مٹھائی بی جے پی کی زبردست کامیابی کے اعلان سے قبل کی پیشگی خوشی میں کھلائی گئی یا سشما سوراج نے بطور وزیرِ خارجہ الوداعی ملاقات کو ایک اچھے نوٹ پر ختم کرنے کے لیے کھلائی۔اس کا جواب بھی صرف سشما جانتی ہیں۔

اس میٹھی ڈپلومیسی کے صرف سات دن بعد دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے جو روائتی افطار پارٹی دی۔اس میں مدعو ڈھائی سو مہمانوں میں سے بمشکل ستر مہمان ہی تشریف لا سکے۔کیونکہ ہائی کمیشن  کے باہر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ پولیس اور سادہ کپڑوں والوں کی غیر معمولی تعداد تھی۔انھوں نے گاڑیوں کی جم  کے تلاشی لی ، شناختی دستاویزات طلب کی گئیں اور ہر آنے والے مہمان کی تصویر کھینچی گئی۔

اس سے پہلے تئیس مارچ کو پاکستانی ہائی کمیشن نے یومِ پاکستان کے موقع پر جو استقبالیہ دیا اس موقع پر بھی یہی حرکتیں ہوئیں۔بلکہ کئی مہمانوں کو سادہ انٹیلی جینس اہلکاروں نے مشورہ بھی دیا کہ انھیں اس تقریب کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔یہ سن کر مجھے یاد آیا کہ دو ہزار نو میں بھارتی الیکشن کی کوریج کے لیے جب میں کراچی سے دلی جا رہا تھا تو ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ایک افسر نے میرا پاسپورٹ اور ویزا چیک کرتے ہوئے کہا ’’ آپ کیوں بھارت جا رہے ہیں۔وہ کوئی اچھا ملک تو نہیں ہے ‘‘۔

سشما سوراج واجپائی سرکار سمیت ہر بی جے پی کابینہ میں وزیر رہی ہیں۔مگر پچھلے پانچ برس بطور وزیرِ خارجہ انھیں صرف نمایندگی اور تقاریر پر مامور رکھا گیا اور خارجہ پالیسی عملاً نریندر مودی اور مشیرِ قومی سلامتی اجے دوال طے کرتے رہے۔ سشما سوراج نے خرابیِ صحت کا عذر پیش کرتے ہوئے چناؤ میں حصہ نہیں لیا۔ چنانچہ نئی کابینہ میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان سابق سیکریٹری خارجہ ڈاکٹر سبرامنیم شنکر کو سونپا گیا ہے۔

بھارتی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاستدان کے بجائے ایک کیرئیر ڈپلومیٹ کو وزیرِ خارجہ بنایا گیا ہے۔ڈاکٹر شنکر امریکا اور چین میں سفیر رہ چکے ہیں اور جاپان ، سنگا پور اور سری لنکا میں اعلی سفارتی ذمے داریاں نبھا چکے ہیں۔

وہ بھارت امریکا سول نیوکلئیر معاہدے کی تکمیل میں بھی فعال رہے ہیں۔ان کے دور میں بھارتی خارجہ پالیسی کا رخ  جنوب مشرقی ایشیا اور بحرِ ہند میں چین کے مقابلے میں امریکا اور جاپان کی تائید سے مزید اثر و رسوخ  بڑھانے کی جانب ہوگا۔کیونکہ چین بھی  بھارتی پڑوسی  بنگلہ دیش ، برما ، نیپال ، سری لنکا اور مالدیپ میں اپنے سفارتی و اقتصادی مہرے دھیرے دھیرے کامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے اور پاکستان تو خیر اس کا قریبی ساجھے دار ہے ہی۔

سارک کے بجائے بمسٹیک نامی غیر معروف تنظیم کے رکن ممالک کو تقریب حلف میں مدعو کرنا بھی نئی پالیسی کے خد و خال کی جانب ٹھوس اشارہ کرتا ہے۔ راج ناتھ سنگھ سابق کابینہ میں وزیرِ داخلہ تھے۔ان کے ہوتے کشمیر کے حالات بد سے بدترین ہوتے چلے گئے۔اب انھیں وزارتِ دفاع کا قلمدان دے دیا گیا ہے اور ان کی جگہ بی جے پی کے صدر اور نریندر مودی کے بادشاہ گر امیت شاہ نے وزارتِ داخلہ سنبھال لی ہے۔

امیت شاہ نے انتخابی مہم کے دوران بار بار کھل کے کہا کہ شمال مشرقی ریاست آسام میں غیر قانونی طور پر آباد لاکھوں گھس بیٹھئے جنہوں نے دھوکے سے بھارتی شہریت حاصل کر لی تھی انھیں شہریت سے محروم کرنے کے لیے شہریت کا جو نیشنل رجسٹر کھولا گیا ہے اس کا دائرہ پورے دیش تک بڑھا دیا جائے گا۔اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ آسام اور دیگر ریاستوں میں آباد بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر لاکھوں کی تعداد میں ملک سے نکالا جائے گا۔اور بیرونِ بھارت جو ہندو اور سکھ بھارت کی شہریت لینا چاہیں ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

امیت شاہ نے انتخابی جلسوں میں مسلمانوں کا نام لیے بغیر کہا کہ بھارت کو جو دیمک چمٹی ہوئی ہے اس کا علاج کیا جائے گا۔بی جے پی نے یہ وعدہ بھی انتخابی منشور کا حصہ بنایا ہے کہ اس بار کشمیر کے علیحدہ تشخص کی ضمانت دینے والے آئین کے آرٹیکل تین سو ستر کو منسوخ کر کے کشمیر کو دیگر بھارتی ریاستوں جیسا عام درجہ دیا جائے گا۔ یعنی جموں کشمیر میں کوئی بھی بھارتی شہری آباد ہو سکے گا اور املاک خرید سکے گا۔یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ موجودہ مدتِ اقتدار میں ایودھیا میں رام مندر کی استھاپنا کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔

امیت شاہ کا وزیرِ داخلہ بنایا جانا بتاتا ہے کہ اس بار بی جے پی لوک سبھا میں اپنی دو تہائی اکثریت کے بل پر ایوانِ بالا راجیہ سبھا پر یقینی کنٹرول حاصل کرے گی اور پھر آئین میں بنیادی ترامیم کرنا کتنا آسان ہو جائے گا۔ان ممکنہ ترامیم میں بھارتی آئین میں درج سیکولر جمہوریہ کو ہندو اکثریتی جمہوریہ گھوشت کرنا بھی شامل ہے۔

جی تو میرا بہت چاہتا ہے کہ عام بھارتیوں کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ اب بھی خود کو روک لو۔آگے بہت گہری کھائی ہے۔مگر ان میں سے کسی نے پلٹ کے پوچھ لیا کہ ہم کیوں ہندو راشٹر گھوشت نہیں کر سکتے۔تم بھی تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہو تو کیا کہوں گا؟

Close Menu