چیگوس، اقوام متحدہ اور سامراج

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

بحر ہند میں مالدیپ کے نزدیک چیگوس نامی ایک چھوٹے سے مجمع الجزائر کے بارے میں اقوام متحدہ میں ایک قرار داد منظور ہوئی ہے جس کے بارے میں پاکستان میں کوئی ذکر نہیں ہوا۔یہ قرارداد اس لیے اہم ہے کہ طاقتور مغربی اقوام کے مقابلے میں چیگوس کے دس ہزار شہریوں اور ماریشس جیسے ملک کی فتح ہوئی ہے۔ پاکستان یا تیسری دنیا کے دوسرے غریب  ممالک کے لیے یہ قرارداد اس لیے اہم تصور کی جا سکتی ہے کہ اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات کے حل اور ان علاقوں کے مظلوم عوام کے مصائب حل کرنے کے لیے ایک راہ دکھا سکتی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں سامراجی قوتیں صدیوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کمزور اقوام پر تھوپنے کی عادی ہوں وہاں ان قوتوں کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد منظور ہونا اور عالمی عدالت انصاف سے سامراجی قوتوں کے خلاف فیصلہ سنایا جانا آزاد دنیا کی جانب ایک بڑا قدم ہے، تاہم دنیا میں آزادیوں اور جمہوریت کی علم بردار سامراجی قوتوں یہ فیصلے بالکل پسند نہیں آئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ چیگوسی باشندوں کو گھر واپسی کے لیے ابھی مزید جد و جہد کرنا پڑے گی۔
عجیب حسن اتفاق ہے کہ برطانیہ کے خلاف یہ قرارداد اس وقت منظور ہوئی ہے جب وہ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے والا ہے جس کے نتیجے میں خود برطانوی ریاستوں کی یونین کا مستقبل بھی مخدوش نظر آ رہا ہے۔ ایسے وقت میں برطانوی  نو آبادیاتی نظام کو ختم کرنے والی قرارداد 6 کے مقابلے میں 116 ووٹوں قرارداد منظور کر لی۔ قرار داد کی مخالفت کرنے والے ممالک میں برطانیہ، امریکہ، اسرائیل، ہنگری، مالدیپ اور آسٹریلیا شامل ہیں جبکہ برطانیہ کے اتحادی فرانس، جرمنی اور کینیڈا نے ووٹنگ مےں حصہ لینے سے گریز کیا۔ یہ قرار داد افریقی ممالک کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ برطانیہ چھ ماہ کے اندر مجمع الجزائر چیگوس سے اپنا نوآبادیاتی قبضہ ختم کرے جو اس کی زیر تسلط 14 بیرونی علاقوں میں سے ایک ہے جبکہ ایسے ہی پانچ علاقے امریکہ کی غیر ملکی حدود میں شامل ہیں۔ یورپی اقوام نے صدیوں پہلے جس نوآبادیاتی نظام کی بنیاد رکھی تھی وہ بیسویں صدی کے وسط سے پوری دنیا سے سمٹنا شروع ہو گیا تھا۔ کہاں تو برطانوی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا دوسری جنگ عظیم کے بعد وہ عظیم سلطنت آدھے جزیرے تک محدود ہوکر رہ گئی جہاں سورج اکثر بادلوں میں چھپا رہتا ہے۔ اب اس باقی ماندہ نو آبادیاتی نظام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھکا دیا ہے اور کہا ہے کہ برطانیہ اپنی برٹش انڈین اوشن ٹیریٹری âمجمع الجزائر چیگوس á، سے اپنا قبضہ ختم کرے اور چھ ماہ میں یہ مجمع الجزائر ماریشس کے حوالے کرے۔
 ماریشس کا برطانیہ سے ان جزائر کی ملکیت کا تنازع 1965ء سے چلا آ رہا ہے۔ ماریشس کا موقف ہے کہ برطانیہ نے مجمع الجزائر چیگوس پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے جس نے ماریشس سے 1400 میل دور جزائر کو 1965ء میں ماریشس سے علیحدہ کر کے 50 سال کی لیز پر امریکہ کے حوالے کر دیا ہے جہاں اس نے ڈیگوگارشیا پر اپنا فوجی اڈہ بنا رکھا ہے۔ اس واقعے کے تین سال بعد 1968ء ماریشس کو تو آزادی دے گئی لیکن برطانیہ نے ماریشس کو آزادی دینے سے پہلے 3 ملین پائونڈ ادا کرکے اس مجمع الجزائر کو نیم خود مختار علاقہ بنا کر اپنے رکھ لیا تھا جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ نے  امریکہ کو بحری اور فضائی فوجی اڈہ بنانے کے لیے 50 سال کی لیز پر دینے کا معاہدہ کر لیا تھا، جس کی وجہ سے تین بڑے جزائر پر آباد دو ہزار افراد کو جبراً جزیرہ بدر کر دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرار داد کی منظوری سے تین ماہ قبل عالمی عدالت انصاف نے مجمع الجزائر کی ملکیت اور آبادی کے معاملے میں ماریشس کے حق میں فیصلہ سنا چکی ہے۔ لیکن عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور اقوام متحدہ کی قرار داد آنے سے پہلے ہی برطانیہ نے امریکہ کو ڈیگو گارشیا پر فوجی اڈہ قائم رکھنے کے معاہدے میں 2036ء تک توسیع کر دی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے اس معاہدے کے بعد لگتا ہے کہ چیگوس کے باشندوں گھر واپسی اور ماریشس کی حکومت کو مجمع الجزائر چیگوس کے ماریشس میں انضمام تو شاید جلد ہی ہو جائے لیکن چیگوسی باشندوں کو جزائر پر واپسی کے لیے کم از کم سولہ سترہ برس انتظار کرنا پڑ سکتا ہے جنہیں 1968ء سے 1973ء کے درمیانی عرصے میں تین بڑے جزیروں ڈیگوگارشیا، سولیمن اور پیروس بنہوس سے زبردستی مال بردار بحری جہازوں میں بٹھا کر ماریشس اور سیچلز نامی جزیروں پر بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن کیونکہ یہ لوگ سیاہ فام افریقی غلاموں اور غریب ہندوستانیوں کی اولاد میں سے تھے  لہٰذا کسی نے اس زیادتی پر توجہ نہیں دی ۔
چیگوسی باشندوں کا واحد ذریعہ معاش ناریل کی کاشت اور کھوپرا کی برآمدات تھا۔ ایک اسکول اور ایک ہسپتال اور ایک چھوٹی سی ریلوے جیسی سہولتیں ان کی سادہ زندگی کے لیے کافی تھیں۔ لیکن برطانیہ نے سب سے پہلے کھوپرا برآمد کرنے والی کمپنی کو خرید کر بند کر دی اور پھر ان تینوں جزیروں کے دو ہزار باسیوں کو زبردستی جزیرہ بدر کرکے کسمپرسی کی زندگی میں دھکیل دیا گیا۔ نکالے جانے والے چیگوسی باشندوں  کی تعداد اب دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ چیگوس کے رہنے والوں نے 1975ء میں انہوں نے اپنی جبری بے دخلی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس کے نتیجے میں انہیں 1982ء میں انہیں 5 ملین پائونڈ کا ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا لیکن انہیں واپسی کی ضمانت نہیں دی گئی تھی۔ 2007 ء میں برطانوی حکومت جب آمادہ ہوئی تو ایوان بالا سے منظوری نہ ملی۔ جبکہ امریکیوں نے ڈیگوگارشیا آنے کے لیے خصوصی اجازت نامے کی شرط لگائی ہوئی ہے۔ جبکہ برطانیہ نے آبادی کی واپسی سے ماحولیات کو نقصان دہ قرار دینے کی کوشش کی تھی لیکن ان کا یہ حربہ کارگر ثابت نہیں ہو سکا۔
مجمع الجزائر چیگوس سولہویں صدی میں پرتگالی مہم جوئوں نے دریافت کیا تھا لیکن اس وقت یہ جزائر رہنے کے قابل نہیں تھے جبکہ ماریشس کو عربوں نے بہت پہلے دریافت ہی کر لیا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں فرانسیسیوں نے چیگوس کو اپنی کالونی بنا لیا اور ناریل اور کھوپرے کی کاشت کے  لیے افریقی غلاموں کو چیگوس کے تین بڑے جزیروں ڈیگوگارشیا، سولیمن اور پیروس بنہوس نامی جزیروں پر آباد کیا۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس مجمع الجزائر پر 1810ء میں اس وقت قبضہ کر لیا تھا جب فرانسیسی رہنما نپولیوں کے خلاف جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ 1834ء میں غلامی کے خاتمے کے بعد ہندوستانی کارکن محنت مزدوری کے لیے چیگوس اور ماریشس آنا شروع ہوئے لیکن پھر انہی جزائر میں رچ بس گئے۔ 1903ء میں اس مجمع الجزائر چیگوس کو ماریشس کے ساتھ ملا دیا گیا۔ 19ویں صدی میں ڈیگو گارشیا جنگی اور تجارتی بحری جہازوں کو کوئلہ فراہم کرنے والا اسٹیشن بن گیا تھا جبکہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی یہ جزائر جرمن اور برطانوی بحری بیڑوں کی جنگ کا فلیش پوائنٹ بنے رہے تھے۔ بعد ازاں برطانیہ نے ڈیگوگارشیا کو امریکی فوج کے حوالے کر دیا جسے امریکی اپنا نہ ڈوبنے والا طیارہ بردار جہاز قرار دیتے ہیں۔  ڈیگو گارشیا سے اڑنے والے بڑے بمبار طیارے عراق اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے ہیں جبکہ 9/11 کے حملوں کی تفتیش کے لیے بھی یہی اڈہ استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سرد جنگ کے زمانے میں جب سوویت نیوی نے بحر ہند میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا تو اس اڈہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایران کے انقلاب کے بعد یہاں امریکی جنگی بحری جہازوں اور بمبار طیاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ امریکہ ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے کو عالمی امن، انسداد دہشت گردی اور انسداد بحری قزاقی جیسے مشنز کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں ہائی ٹیک جاسوسی نظام بھی نصب کیے گئے ہیں۔ جن کی مدد سے 25 ہزار میل دور سے فٹبال کے سائز کی اشیا بھی بہ آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ چین کے ون بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ میں چیگوس اور ماریشس کو ایک تجارتی اور سیاحتی مرکز کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ مجمع الجزائر چیگوس کی ملکیت ماریشس کو دینے کے باوجود عالمی قوانین کے تحت ڈیگوگارشیا میں غیر معینہ مدت تک کے لیے اپنا فوجی قائم رکھیں گے اور چین کے بحری بیڑے کے لیے جگہ خالی نہیں کریں گے۔ فی الحال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کے ذریعے سامراجی قوتوں کو یہ کھلا پیغام دیا ہے کہ اقوام عالم دنیا سے نو آبادیاتی نظام کی باقیات ختم کرنے اور ان کے چھوڑے ہوئے تنازعات حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
Close Menu