ہمارے کاتب اخبار

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

کہتے ہیں استاد یوں تو ذات کے قصائی تھے لیکن انہیں بچپن ہی سے کبھی چھریوں اور بغدوں سے کوئی شغف نہیں رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے چھری کی دھار کے بجائے قلم کی کاٹ کو اپنایا اور فن خطاطی ہی سے آخر دم تک اپنا رزق کماتے رہے۔ ہمیں یہ تو کبھی نہ معلوم ہو سکا کہ انہوں نے اردو لکھنا پڑھنا کہاں سے سیکھی لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ خطاطی انہیں پڑھے لکھے لوگوں، معروف ادیبوں اور شاعروں کی صحبت میں ضرور لے گئی تھی۔ اسی صحبت نے ان کے انداز گفتگو میں ادبی چاشنی پیدا کی تھی اور ان کی حسِ ظرافت نے اس میں چار چاند لگا دیے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ممنوعہ الفاظ کے بروقت استعمال سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ یہ کوئی ایسی اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے کہ ان دنوں اخبارات کے اکثر دفاتر میں یاوہ گوئی کوئی معیوب بات نہ سمجھی جاتی تھیں، خاص طور پر شعبۂ کتابت میں … ویسے اب اس صورتحال کی شدت میں کافی کمی ہو چکی ہے، لیکن معیوب اب بھی نہیں سمجھی جاتی بلکہ کچھ لوگ تو نئی تراکیب اور استعارے ایجاد کرنے میں ملکہ رکھتے ہیں۔
پچھلی صدی کی معدوم ہوتی نسل کے لوگ چاہے عالم فاضل نہ ہوں لیکن ان کے اٹھنے بیٹھنے اور گفتگو سے ادبی رنگ ضرورجھلکتا ہے۔ استاد کی ترقی میں جہاں ان کے فن کا ہاتھ تھا وہاں اس میں ان کی موقع شناسی نے بھی اپنا کمال دکھایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اخبار کے مالک کے قریبی لوگوں میں شمار کیے جانے لگے تھے۔ بعض اوقات تو کچھ سینئر ایڈیٹرز بھی ان کی اس حیثیت پر حسد بھی کرنے لگتے تھے لیکن ہمیں اس سے کیا … ہمارے لیے تو وہ سب کچھ ایک پر لطف ماحول سے زیادہ کچھ نہ تھا۔
کہتے ہیں کہ بادشاہ کے اگاڑی اور گھوڑے کے پچھاڑی نہیں چلنا چاہیے کہ جانے کب آپ زیر عتاب آجائیں لیکن اخباری مالکان میں سے چند تو ایسے رہے ہیں کہ جن کے آگے پیچھے چلتے وقت محتاط رہنا پڑتا تھا … قسمت کی کاری گری کا کیا کیجیے کہ استاد کو بھی ایک ایسے ہی اخباری مالک کا سامنا تھا جن کا مزاج سیمابی، مائل بہ جلالی تھا اور یہ عہدہ انہیں وراثت میں ملا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ استاد کے کام کے بارے میں مدیر اعلیٰ کی رائے کبھی یکساں نہ رہتی اور جس دن وہ ان کی لکھی ہوئی سرخیوں میں مین میخ نکال دیتے اس دن استاد کی ادب شناسی انہیں چرکین اور امام دین جیسے شاعروں کے طرزِ کلام کی جانب لے جاتی اور فرماتے ” اپنے باپ کی وجہ سے اس عہدے پر بیٹھ گئے ہیں ورنہ کہیں باہر نوکری ڈھونڈنے نکلیں تو کوئی کلرکی بھی نہیں دے گا۔“ اور جس دن تعریف ہو جاتی اس دن ان کا سرور، دور سے ہی پہچانا جاتا، سینہ خوشی سے پھول جاتا اور اس کے ساتھ ہی مدیر اعلیٰ کے بارے میں رائے بھی بدل جاتی اور وہ اس کا نام لیتے ہوئے کہتے ”…… کتنا ذہین لڑکا ہے۔ دیکھنا یہ اخبار کو بہت ترقی دے گا۔“
کپیوٹر ٹیکنالوجی کی ارزانی کے باوجود ہمارے اردو اخبارات املا کی اغلاط سے پاک تو نہیں ہو سکے ہیں لیکن آج وہ کتابتی موشگافیاں خال خال ہی نظر آتی ہیں جو ہمارے کاتب حضرات کیا کرتے تھے۔ دیکھا تو نہیں لیکن عمر رسیدہ کاتبوں کی زبانی ایسے ہی چند واقعات کا تذکرہ سنا ضرور ہے جس میں کاتبوں نے نقطوں کے ہیر پھیر سے الفاظ کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جب اپنی کابینہ کے 16 وزراء نامزد کیے تو کراچی کے ایک بڑے روزنامہ کی شہہ سرخی میںصرف ایک نقطے کی کمی سے 16 وزراء ’نامرد‘ ہوگئے۔ سخت گیری کا دور تھا اور اخبارات میں شائع ہونے والے ہر لفظ کو اہمیت دی جاتی تھی اور سرکاری سطح سے لے کر دفتری سطح تک خاصی لے دے ہوئی لیکن آج ہم سوچتے ہیں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کاتب کی غلطی شاید حقیقت شناسی مظہر تھی اور 16 وزراء کی حالت فیلڈ مارشل ایوب خان کے سامنے کچھ زیادہ مختلف نہیں رہی ہوگی۔
ایک بار نقطوں کے ہیر پھیر نے ”نمائش میں لگائے جانے والے جوتوں کے اسٹال“ کے کیپشن کونئے معنی پہنا دیے۔ جب ذمہ داروں کا تعین کیا گیا تو سارا نزلہ ایک کاتب پر گرا ،جسے مدیر اعلیٰ نے اپنے کمرے میں طلب کرکے پوچھا ” میاں … ذرا یہ تو بتائیے کہ اس تصویر میں کیا غلطی ہے؟“ کاتب نے غور سے تصویر دیکھی پھر کیپشن پڑھا اور پھر کچھ دیر غور کرنے کے بعد اس نے دیکھا کہ تصویر کا رخ بدل دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تصویر میں لکھے ہوئے الفاظ الٹ گئے ہیں لہٰذا اس نے معصومیت سے کہا ”یہ تصویر غلط لگی ہوئی ہے۔“یہ سن کر اخبار کے مالک نے اپنے سر پر ہاتھ مار کر کہا ”ارے بھائی … بس یہی ایک کسر رہ گئی ہے، تم تو میرا اخبار بند کرواؤ گے۔“ اس کے بعد انہوں نے حسب عادت کاتب کو کچھ کہنے کے بجائے اپنے آپ کو برا بھلا کہنا اور کوسنا شروع کر دیا ، جب ان کی خود ملامتی میں تھوڑا وقفہ آیا تو کاتب نے عرض ”اب میں جاؤں۔“ اور اجازت ملنے پر مودبانہ سلام کرکے کمرے سے باہر نکل گیا۔
یہ کسی ایک اردو اخبار کی کہانی نہیں تھی بلکہ ہر جگہ نادر روزگار لوگ بیٹھے تھے۔ جب ادارتی معاملات میں کتابتی در اندازیاں حد سے زیادہ بڑھ گئیں تو ایک معروف کالم نویس نے ایک کالم ”کاتبوں کی کاٹ چھانٹ“ کے عنوان سے تحریر کیا اور ایڈیٹرز کے کاتبوں سے روزانہ کی بنیادوں پر جتنے گلے شکوے اور جھگڑے ہوتے تھے اس کا احوال پر لطف پیرائے میں لکھ ڈالا اور یہ خیال رکھا گیا کہ اس کالم میں کوئی کتابتی غلطی شائع نہ ہو لیکن اگلے دن جب یہ کالم اخبار میں شائع ہوا تو معلوم ہوا کہ کالم کے عنوان میں دو نقطے کم لگنے سے اس کا مطلب ہی بدل چکا ہے۔ جس کے بعد سب قائل ہوگئے کہ ان کاتبوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ اہم سمجھے جانے والے خوش نویس پہلے غیر اہم ہوئے اور پھر اپنی ملازمتوں سے ہی گئے۔ جو لوگ اپنے آپ کو وقت کے مطابق ڈھال نہ سکے وہ اخباری دنیا سے باہر ہو گئے، اب کہیں کہیں صرف وہ لوگ باقی بچے ہیں جو فن خطاطی پر دسترس رکھتے ہیں اور بڑی سرخیاں خوبصورت انداز میں لکھنے کے قابل ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نئے لوگ خطاطی کے شعبے میں نہیں آ رہے اور نہ ہی فن خطاطی کی سرکاری سطح پر پذیرائی کی جا رہی ہے جیسے ایران، عراق، سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں کی جاتی ہے۔ اگر خطاطی سے عدم دلچسپی کا یہی عالم رہا تو کاتبوں کی طرح خطاطی بھی اس ملک سے معدوم اور پرانے دور کی ایک یاد بن کر رہ جائے گی۔
Close Menu