قرار داد کشمیر ۔۔۔۔ چند نکات

Share on facebook
Share on twitter
Share on linkedin
Share on pinterest
Share on print
Share on email
Share on whatsapp

تحریر: امتیاز متین

مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ ستر سال پرانا ہے۔ آج بھی ہمارے سامنے یہی سوال ہے کہ کیا تنازع کشمیر ہماری زندگی میں حل ہو پائے گا؟ بھارت کی تو یہی خواہش ہے کہ اس مسئلے کو اتنا طول دیا جائے کہ آزادی کی جد و جہد کرنے والی نسلیں ہی ختم ہو جائیں۔ پاکستان میں عام طور پر مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت استصواب رائے سے کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تاہم یہ بات صحیح ہے کہ اکثریت کو اس قرارداد کی شقوں کا علم نہیں ہے جس کی وجہ سے بھارتی اسکالرز یا فوجی افسران اپنے فائدے کے مطلب نکال کر پاکستانیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومتیں، فوج، انٹیلیجنس ادارے اور حریت پسند عام پاکستانی شہریوں اور کشمیریوں کو گزشتہ 70 سال سے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ مختلف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانیوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ جس استصواب رائے کی قرار داد کا ذکر کرتے نہیں تھکتے وہ دستاویز آپ نے پڑھی نہیں ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ پاکستانی فوج کشمیر سے نکل جائے گی اور بھارتی فوج آزاد کشمیر کا بھی مکمل انتظام سنبھالنے کے بعد استصواب رائے کروائے گی۔ تو ایسی صورت میں کیا پاکستانی فوج آزاد کشمیر چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائے گی؟ یہ ایک نفسیاتی وار ہے جو کسی بھی عام پاکستانی یا کشمیری کو آسانی سے کنفیوز کر سکتا ہے۔ ویسے یہہ بات عقل میں سماتی نہیں ہے کہ بھارتی فوج تو اپنی پوری قوت کے ساتھ کشمیر میں موجود رہے لیکن پاکستانی فوج آزاد کشمیر بھی اس کے حوالے کر جائے۔ قرارداد کی شرائط اس وقت بد امنی کنٹرول کرنے کے لیے قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کے مقبوضہ کشمیر سے نکلنے کی بات کہی گئی تھی جنہیں واپس بلوا لیا گیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ریاست حیدرآباد دکن اور ریاست جونا گڑھ پر بھارت نے فوج کشی کرکے الحاق کر لیا کہ وہاں کے حکمراں مسلمان اور آبادی کی اکثریت ہندو ہے لیکن اسے اپنا یہی فارمولا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں پسند نہیں آتا۔ آج بھارت کی جانب سے باور کروایا جا رہا ہے کہ کشمیر کا تنازع درحقیقت وادی میں بد امنی کا مسئلہ ہے جو مقبوضہ کشمیر کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی کشمیر قرار داد کئی صحفات پر مشتمل دستاویز ہے جو اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ جس میں استصواب رائے کے لیے پاکستان سے زیادہ بھارت پر ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں لیکن بھارت نے گزشتہ 70 برس میں اس کے برعکس کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی کشمیر قرار داد استصواب رائے کے لیے جو شرائط طے کی گئی ہیں ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے نمائندوں سمیت ایک پانچ رکنی کمیشن ترتیب دےنے کی سفارش کی گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت جموں اور کشمیر کا مسئلہ جمہوری طریقے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے سے حل کریں گے اور اس کے انعقاد کے لیے پر امن حالات پیدا کریں گے۔
حکومت پاکستان قبائلیوں اور پاکستانی شہریوں کو ریاست جموں اور کشمیر سے واپس بلوائے گی جو وہاں لڑنے گئے ہیں اور ایسے عناصر کو وہاں داخل ہونے اور انہیں وہاں لڑائی میں استعمال ہونے والی اشیا لے جانے سے روکے گی۔
قبائلیوں کو وہاں سے نکل جانے کے بعد بھارت کی حکومت کونسل کی قرارداد 39 (1948) کے تحت کمیشن کے مشورے سے اپنی افواج کا جموں و کشمیر سے کم ترین سطح تک انخلا کرے گا اور وہاں صرف سول انتظامیہ کی مدد اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تعداد باقی رہے گی جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس انخلا کے ہر مرحلے کے آغاز اور اختتام کا اعلان کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں باقی رہ جانے والی کم ترین بھارتی فوج کسی مقامی شخص کو ہراساں کرنے کے لیے سامنے نہیں آئے گی اور یہ آگے کے علاقوں میں تعینات رہے گی۔ کل تعداد میں شامل ریزرو فوجی اپنے بیس کے علاقوں میں رہیں گے۔
حکومت بھارت کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ استصوب رائے کرانے والی انتظامیہ کو ریاست میں موجود فورسز اور پولیس کی سپرویژن اور ڈائریکشن کا اختیار ہوگا۔
ہر ضلع سے مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا جو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھیں گے اور اقلیتوں کا تحفظ کریں گے۔
اگر مقامی فورس کی اتنی قوت نہیں ہوگی تو کمیشن پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے فورسز فراہم کرنے کی استدعا کر سکتا ہے۔
بھارتی حکومت تمام نمائندہ گروپس کو استصواب رائے کروانے والی انتظامیہ میں وزارتی سطح پر اس کی تیاری اور انعقاد میں شرکت کو یقینی بنائے گی۔
بھارتی حکومت جموں اور کشمیر میں استصواب رائے کروانے والی انتظامیہ تشکیل دے گی جو جلد از جلد استصواب رائے کروائے گی۔
بھارتی حکومت کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نامزد کردہ شخص کو استصواب رائے کروانے والی انتظامیہ میں شامل کیا جائے گا۔ یہ نمائندہ جموں و کشمیر کا اسٹیٹ آفیسر ہوگا جسے اپنی معاونت کے لیے لوگوں کا تقرر کرنے اور استصواب رائے کے لیے انتظامی قواعد بنانے کا اختیار ہوگا۔
بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی حکومت میں استصواب رائے کرانے والی انتظامیہ کی طرف سے نامزد کردہ قابل لائق لوگوں کا ریاست کے عدالتی نظام میں تقرر یقینی بنائے گی جنہیں خصوصی مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے جو مقدموں کی سماعت کریں گے اور آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے کی تیاری اور انعقاد کروانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اقوام متحدہ اور بھارت باہمی مشاورت سے مخصوص مدت کے لیے ایڈمنسٹریٹر مقرر کریں گی جسے اپنے معاونین کے تقرر کا اختیار ہوگا۔ یہ ایڈمنسٹریٹر پاکستان اور بھارت کی حکومتوں اور سیکیورٹی کونسل سے کمیشن کے ذریعے بات چیت کر سکے گا۔
بھارتی حکومت ایڈمنسٹریٹر اور اس کے عملے کو کسی بھی دھمکی، رشوت اور دباﺅ سے تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔
بھارتی حکومت ہر مذہب، ذات اور پارٹی کے لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور ووٹ ڈالنے اور ریاست کے الحاق سے متعلق سوال کرنے کی آزادی دے گی۔ تحریر و تقریر کی آزادی اور ریاست کے اندر نقل و حرکت کی آزادی اور ریاست سے باہر قانونی آمد و رفت کی اجازت دے گی۔
بھارت اور ریاست جموں و کشمیر کی حکومتیں ریاست سے تمام بھارتی باشندوں کے انخلا کو موثر بنائیں گی، ان کے علاوہ جو 15 اگست 1947ءکے بعد کسی قانونی مقصد کے لیے داخل ہوئے ہیں۔
بھارتی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جو لوگ بد امنی کی وجہ سے علاقہ چھوڑ گئے ہیں انہیں اپنے گھروں کو واپس آنے کے لیے مدعو کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ وہ اپنے شہری حقوق استعمال کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ ان سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔ ریاست کی تمام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
سیکورٹی کونسل کا کمیشن اس بات کی تصدیق کرے گا کہ استصواب رائے غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تھا یا نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے نامزد کردہ نمائندے کمیشن کی معاونت کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔ کمیشن جموں و کشمیر میں مبصرین کا تقرر کرے گا۔
مندرجہ بالا نکات کو پڑھنے کے بعد اس بھارتی خواہش کی نفی ہو جاتی ہے جس میں وہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت میں ضم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک بھارتی میجر کے یو ٹیوب بیان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج نہیں ہے بلکہ تین کورز ہیں۔ 14 کور لیہہ میں چین کی سرحد پر ہے، 16 کور نگروٹا اور جموں میں ہے اور 15 کور جسے چنار کور کہا جاتا ہے وہ سری نگر میں ہے جبکہ راشٹریہ رائفلز، سی آر پی ایف (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) سمیت 2,70,000 سے زیادہ آدمی نہیں ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ 760 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول اور سیاچن گلیشیئر ہے تاہم اس فورس کا 60 فیصد حصہ وادی کشمیر میں تعینات ہے۔ بتائی گئی تعداد میں ڈیموں کی حفاظت کے لیے تعینات سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس کا ذکر نہیں کیا گا جو بھارتی فوج کا ہی حصہ ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی نئی تعداد مزید تفصیل سے بتا دی جائے اور جد و جہد آزادی کشمیر کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب دیا جائے۔

Close Menu