تیسرا انقلاب

تحریر: امتیاز متین

تیسرا انقلاب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جو ہمارا طرز زندگی، طرز معاش اور طرز فکر بھی تبدیل کر دے گا۔ چین کا ”ون بیلٹ ون روڈ“ یا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اسی تیسرے انقلاب کا حصہ ہے۔ اس انقلاب کی بنیاد شمسی توانائی یا ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی یا تقریباً مفت بجلی اور انٹرنیٹ پر رکھی گئی ہے۔ ڈجیٹائزیشن کی شفافیت، معلومات اور وسائل کی شیئرنگ سے معیشت کا پہیہ گھومے گا۔ گزشتہ دو صدیوں میں کوئلے، تیل، گیس اور ایٹمی دھاتوں سے پیدا ہونے والی بجلی، ذرائع نقل و حمل اور مواصلاتی نظام نے دنیا کا معاشی اور سماجی نقشہ تبدیل کیا ہے۔ گزشتہ صدی میں جب دنیا آئن اسٹائن کے نظریات سے متاثر ہو رہی تھی انہی دنوں نکولا ٹیسلا جیسے عظیم سائنسداں نے اے سی کرنٹ، بجلی کے ترسیلی نظام اور ریموٹ کنٹرول جیسی متعدد ایجادات کیں لیکن ان کا ”فری انرجی“ کا نظریہ ان سرمایہ داروں کو پسند نہیں آیا تھا جو فاسل فیولز (تیل، گیس، کوئلہ اور ایٹمی دھاتوں) اور ان سے منسلک تمام صنعتوں میں سرمایہ کاری کرکے دولت کمانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ نکولا ٹیسلا کا کہنا تھا کہ کائنات میں ہر طرف توانائی موجود ہے جو اپنی شکلیں تبدیل کرتی رہتی ہے بس ہمیں اس توانائی کو استعمال کرنے کا طریقہ آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں بجلی پیدا کرنے والے ایسے ٹاورز لگائے جائیں جو اپنے اطراف میں موجود قدرتی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرکے بغیر تار کے گھروں پہنچا دیں۔ انہوں نے ایسے ایک ٹاور کا تجربہ بھی کیا تھا لیکن اسے مسمار کروا دیا گیا کیونکہ کوئلے، تیل اور گیس کی ٹیکنالوجیز می سرمایہ کاری کرنے والے ساہوکار ایسی کوئی سہولت عوام کو نہیں پہنچانا چاہتے تھے جس سے ان کا نقصان ہو۔ اگر ہم غور کریں تو آج موبائل فونز اور ٹیلی کمیونیکیشن کا سارا نظام اسی نظریے کے تحت چلتا ہوا نظر آتا ہے۔
دنیا بھر میں سولر پینلز کی قیمتیں کم ہوتی جا رہی ہیں لیکن پاکستان میں قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں۔ اگر ملک بھر میں شمسی توانائی کا انقلاب لانا ہے تو سولر پینلز اور اس سے متعلقہ چیزوں درآمدات پر ڈیوٹیز، ٹیکسز کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔ ممکن ہے کہ ایف بی آر کے حکام یہ سوچتے ہوں کہ ٹیکسز ہٹا لینے سے حکومت کو نقصان ہوگا لیکن شاید وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ بجلی کی اضافی پیدوار سے مجموعی طور پر قومی معیشت کو کتنا فائدہ ہوگا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب جرمنی جیسا ترقی یافتہ ملک 2050ء تک اپنا نظام مکمل طور پر ”رنیوایبل انرجی“ پر منتقل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر اور بجلی کی قلت کا شکار ملک میں ایسا ہونے نہ دینے میں کیا قباحت ہے؟ اکیسویں صدی کے اوائل میں ہی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ سارے مکان اپنی بجلی کی پیدوار میں خود کفیل ہوں گے اور پاور پلانٹس کی بجلی صرف کارخانے چلانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اگر پاکستان میں ”رنیوایبل انرجی“ کی ٹیکنالوجیز کا استعمال عام نہ کیا گیا تو زیادہ پیداواری لاگت کے باعث پاکستان بین الاقوامی تجارت سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا۔ پاکستانی حکومت کا انداز بھی نرالا ہے وہ جدید ٹیکنالوجیز پر بھاری ڈیوٹیز لگاتی ہے اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر سرمایہ کاری سے گریز کرتی ہے۔ کیا معلوم کوئی شخص ایسا مائیکرو جنریٹر تیار کر لے جنہیں ایک سیریز میں جوڑا جائے اور ان کے ساتھ لٹکی ہوئی پتیاں ہوا کے ہلکے سے جھونکے کو بھی بجلی میں تبدیل کر دیں۔ یہ بات ایک خواب کی سی لگتی ہے لیکن خواب ہی حقیقت بھی بنتے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں سیاسی، انتظامی اور سماجی افق پر جو کچھ ہو رہا ہے ممکن ہے وہ بھی تیسرے انقلاب کا ہی حصہ ہو۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈجیٹائزیشن ہو جانے سے اب کسی مالی یا سرکاری ریکارڈ میں ہیر پھیر بہت مشکل ہو جائے گا۔ ڈجیٹل ٹیکنالوجی نے آج پاکستان میں ان لوگوں کے لیے آن لائن تجارت کے دروازے کھولنا شروع کر دیے ہیں جن کے پاس کروڑوں کا سرمایہ نہیں ہے۔ آج پاکستان میں گاڑیوں کی شیئرنگ کے نظریے نے لوگوں کے لیے آمدنی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ نیٹ ورک سے منسلک یہی گاڑیاں ہی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اور موسم کی معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بننے لگی ہیں۔ بیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق آج ہم جو بات سمجھ نہیں پا رہے کہ امتحانات میں طلبا کے جس عمل کو نقل تصور کیا جاتا ہے وہ اکیسویں صدی کے نظریے کے مطابق معلومات کی شیئرنگ کہلاتا ہے۔ بدلتے ہوئے تقاضے ہمیں امتحانی سوالات کا انداز بدلنے پر مجبور کر رہے ہیں جس کے تحت طلبا کی یادداشت کا نہیں بلکہ کسی خاص موضوع پر ان کی معلومات کی سمجھ کا امتحان لیا جائے۔ لیکن محکمہ تعلیم سے وابستہ لوگ کوئی نیا نظام وضع کرنے میں ابھی تک ناکام نظر آ رہے ہیں۔
2018-19ء کو الیکٹرک کارز کے لیے ایک اہم سال سمجھا جا رہا ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ چین کی خوبصورت اور سستی الیکٹرک گاڑیاں جاپانی، یورپی اور امریکی کمپنیوں کے لیے بڑا چیلنج بنیں گی۔ ان الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں ایک چارج میں تین سو سے چار سو کلو میٹر تک کی ڈرائیو دے سکتی ہیں جبکہ ایسی بیٹری بھی بنا لی گئی ہے جو ایک چارج میں گیارہ سو کلومیٹر تک گاڑی چلا سکتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں یہ معیار کی گراوٹ کا یہ حال ہے کہ جو کمپنیاں پہلے اپنی بیٹری کی ایک سال کی وارنٹی دیتی تھیں اب چھ مہینے کی وارنٹی دینے لگی ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں گاڑیاں اپنی عمر پوری کرکے اسکریپ میں چلی جاتی ہیں لیکن بیٹری بدلنے کی شاید ضرورت پیش نہیں آتی۔ ادھر ایوی ایشن انڈسٹری کی ٹیکنالوجی میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں ان کے تحت تربیتی اور چھوٹے طیاروں میں بھی الیکٹرک انجن لگا دیے گئے ہیں جس سے پرواز کی فی گھنٹہ لاگت حیرت انگیز طور پر کم ہو گئی ہے جبکہ آئندہ برسوں میں الیکٹرک انجن مسافر طیاروں کا استعمال بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستان کے سپر مشاق طیارے الیکٹرک انجن لگا کر فلائنگ کلبز کو فروخت کیے جائیں تو کم لاگت پر فلائنگ سیکھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اس وقت پاکستان میں چند بڑے شہروں کے لیے ہی فضائی سفر کی سہولت موجود ہے، اگر چھوٹے شہروں کے لیے چھوٹے طیارے اڑائے جانے لگیں تو پاکستان میں ایوی ایشن انڈسٹری کا رخ تبدیل ہو جائے گا ۔
گزشتہ ایک صدی کی صنعتی ترقی نے ہماری زندگیوں کو یقیناً آسان تو کر دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی معاشی عدم مساوات بھی بڑھ گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے 62 امیر ترین افراد کی دولت دنیا کی ساڑھے تین ارب آبادی کی مجموعی دولت کے برابر ہے جبکہ دنیا کی چالیس فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے کم ہے۔ پاکستان کے لوگ بھی اسی سنگین معاشی عدم توازن کا شکار ہیں لیکن اسے کم کرنے کی کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی۔
فاسل فیولز پر مبنی معیشت نے دنیا کو آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خوفناک بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ موسموں میں شدت، خشک سالی، طوفان، بارشیں اور سیلاب، کاربن کے اخراج کا نتیجہ ہے۔ صرف کارخانوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہی نہیں بلکہ کیمیائی کھادوں کے استعمال، دودھ اور گوشت کے لیے پالے جانے والے مویشیوں کے گوبر سے خارج ہونے والی گیس بھی فضائی آلودگی میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔
ترقی کے دعوے کرنے والے پاکستانی قائدین کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو آلودگی کے عفریت نے آ گھیرا ہے۔ نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے پینے کا صاف پانی نایاب ہوتا جا رہا ہے، ملک کے ہر شہر میں کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔ پولی تھین کی چھوٹی تھیلیاں شہروں کے نکاسی آب کے نظام میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں لیکن چھوٹی اور کم وزن تھیلیوں پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے چند لوگوں کا کاروباری مفادات کی خاطر ہر سال اربوں روپے کا نقصان برداشت کیا جا رہا ہے۔ آج اگر سپریم کورٹ میں صاف پانی کے مسئلے پر بحث ہو رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ زراعت اور صنعت میں کیمیکلز کا استعمال اور بلا روک ٹوک اخراج ہے۔ فصلوں پر کیڑے مار زہر کے بے تہاشا استعمال کے اثرات اب زیر زمین پانی تک بھی پہنچنے لگے ہیں۔  کراچی کے گندے گندے پانی کے سمندر میں اخراج سے کیماڑی پورٹ اور دوسرے ساحلی علاقوں میں آلودگی کی سطح بڑھ گئی ہے۔ تیزابی آلودہ پانی میں بہنے والی پولی تھین کی تھیلیوں کی وجہ سے بحری جہازوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ فضائی آلودگی بڑھنے کے باوجود شہروں اور جنگلوں میں درخت کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر پاکستانی منصوبہ ساز سوچتے تو سیوریج کا پانی صاف کرکے بنجر علاقوں کو گھنے جنگلات میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن پاکستان کی حکومتوں نے اپنا بیشتر وقت نمود و نمائش کے کاموں اور وسائل کی بربادی میں ہی ضائع کیا ہے۔

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu