صحرائے تھر کی پیاس بج

تحریر: امتیاز متین

سندھ کا علاقہ تھر پارکر حالیہ برسوں میں غذائی قلت، افلاس، پیاس اور بیماریوں سے بچوں کی اموات کی وجہ سے مرکز نگاہ بنتا رہا ہے۔ تھر پارکر میں غذائی قلت کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ معاوضوں میں ادائیگی میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے ٹرک ڈرائیور سرکاری اناج تھر کے دوسرے علاقوں میں لے جانے سے گریز کرتے ہیں۔
ہزاروں برس پہلے تھر ایک سرسبز علاقہ ہوا کرتا تھا جو دریائے گھگر ہکڑہ کے سوکھ جانے کے بعد بنجر ہو گیا۔ پہلے اس خشک دریا میں برسات کا پانی آ جاتا تھا لیکن بھارت نے اس آبی راستے پر کئی بند باندھ کر برسات کا پانی بھی روک لیا ہے۔ تھرپاکر میں نہری پانی نہ پہنچنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ نسبتاً بلند ہے جس کی وجہ سے یہاں پمپنگ اسٹیشنز لگائے بغیر دریائے سندھ کا پانی پہنچانا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک مہنگا پروجیکٹ ہے جس پر خطیر سرمایہ خرچ ہونے کے باوجود فوائد محدود رہیں گے۔ تاہم تھرپارکر اس لحاظ سے ایک منفرد علاقہ ہے کہ یہاں زیر زمین کوئلے کے ساتھ ساتھ پانی کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہاں 220 میٹر گہرائی میں 9 ارب کیوبک میٹر پانی کے ذخائر موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ 5000 ٹی ڈی ایس (ٹوٹل ڈیزالوڈ سولڈز) کا یہ کھارا پانی براہ راست پینے یا زراعت کے لیے قابل استعمال نہیں ہے جبکہ پینے کے پانی کی ٹی ڈی ایس 150 سے 250 تک ہونی چاہیے۔ اگر تھرپارکر کے لیے علیحدہ منفرد علاقے کی حیثیت سے منصوبہ بندی کی جائے تو نہ تھر کی پیاس اور افلاس دور کی جا سکتی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے اس پورے صحرا کو سر سبز بنایا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے حال ہی میں کوئلے کی کان سے نکلنے والے کھارے پانی کو زراعت، چارے کی پیداوار اور مچھلیوں کی فارمنگ کے لیے استعمال کرنے کے کامیاب تجربات کیے ہیں۔ تاہم اس پانی سے بایو فیول کے لیے استعمال والی گھاس، زیتون اور ناریل لگانے کا تجربہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کوٹ کے نزدیک کھودی جانے والی پہلے اوپن پٹ مائن سے 27 ہیوی پمپس کی مدد سے روزانہ ہزاروں گیلن پانی نکالا جا رہا ہے جسے بعد میں کول پاور پلانٹ چلانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ کمپنی نے یہی پانی اپنے بائیو سلائن ایگریکلچر پروگرام کے لیے استعمال کیا ہے جس کے تحت اب تک تھرپارکر میں بڑی تعداد میں درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ اس پروگرام کے تحت 10 لاکھ درخت تھر پارکر میں لگائے جائیں گے۔ کوئلے کی کان سے نکلنے والے کھارے پانی سے مچھلیوں کی افزائش کے نہری یا میٹھے پانی سے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
ان نتائج کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت سندھ کو یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ تھرپارکر میں ہر تھوڑے فاصلے کے بعد کنوئیں کھودے جائیں اور وہاں کے لوگوں کو کھارے پانی سے باغبانی، کھیتی باڑی اور مچھلی کی فارمنگ کے طریقے سکھانے پر توجہ دی جائے۔ اگر ایسا کر لیا گیا تو تھر پارکر چند برسوں میں ایک سرسبز اور خوشحال علاقے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ تھرپارکر میں ہر جگہ بجلی نہیں ہے لہٰذا مجوزہ کنوﺅں سے ونڈ پمپس کی مدد چوبیس گھنٹے پانی کھینچا جا سکتا ہے جبکہ آج بجلی استعمال کیے بغیر کھارے پانی کو پینے کے قابل بنانے والی کئی سستی اور سادہ ٹیکنالوجیز موجود ہیں جن کی مدد سے کم از کم ایک گھرانے کی ضرورت کا صاف پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نئی نینو ٹیوب ٹیکنالوجی کشش ثقل استعمال کرکے پانی کو نسبتاً سست رفتاری سے صاف کر سکتی ہے جبکہ سولر پینل کی طرز پر شیشے یا شفاف پلاسٹک اور دھات کے تبخیری پینل اور مٹی اور اسٹیل کے تبخیری برتن گدلا، کھارا یا سمندر کا کڑوا پانی نتھرے ہوئے صاف میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سادہ ٹیکنالوجیز پانی، بادل اور بارش کے قدرتی اصول پر بنائی گئی ہیں۔ تھر میں غذائی قلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بجلی سے محروم گرم صحرائی علاقے میں سبزیاں اور پھل زیادہ دن تک محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہے لیکن یہ مسئلہ برسوں پہلے مٹی کے ریفریجریٹر بنا کر حل کیا جا چکا ہے۔ 1990ءکی دھائی کے اواخر میں نائیجریا کے ایک لیکچرار محمد باہ ابّا نے مٹی کے بڑے برتن میں مٹی کا چھوٹا برتن اور ان دونوں کے درمیان گیلی ریت بھر کر حل کر لیا تھا۔ صحرا کی گرم اور خشک ہوا کے ٹکرانے سے جب برتن میں تبخیر کا عمل تیز ہوتا ہے تو گیلے کپڑے سے ڈھکے ہوئے اندرونی برتن کا کم درجہ ¿ حرارت ریفریجرٹر کی طرح سبزیوں اور پھلوں زیادہ دیر تک تازہ رکھتا ہے۔ اسی طرح بھارت میں مٹی کے ریفریجریٹر بنایا گیا ہے جس کے اوپر حصے میں دس لٹر پانی کا ٹینک ہے جس سے مٹی کی دیواروں پر رسنے والے پانی کی تبخیر سے ریفریجٹر میں ٹھنڈک رہتی ہے۔ آج دنیا میں چیزوں اور عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سرامکس کے تبخیری برتن اور ٹیرا کوٹا کی دیواریں بنائی جا رہی ہیں لیکن یہاں مٹی کی صلاحیت کو بھی نہیں سمجھا جا رہا ہے۔

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu