شکریہ مانچسٹر

تحریر: حامد میر

یہ ایک مشکل سوال تھا جو میں نے اپنے آپ سے پوچھا لیکن اس مشکل سوال کا جواب مجھے بڑی آسانی کے ساتھ فوراً مل گیا۔ سوال یہ تھا کہ کیا مسلمانوں کے کسی ملک میں کوئی بزنس مین مسجد خرید کر اور پھر اسے گرا کر وہاں گرجا بنا سکتا ہے؟ یہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ مسجدیں صرف بھارت میں گرائی جاتی ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان سے تو مسجد کی زمین خریدنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی بلکہ اس پر قبضہ کر لیا جاتا ہے البتہ مسلم اکثریتی ممالک میں مسجد خرید کر اس کی جگہ گرجا یا مندر بنانا بہت مشکل ہے۔ یہ سوال میرے ذہن میں کیوں آیا؟ دراصل مجھے پتا چلا کہ ایک پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین انیل مسرت نے برطانیہ میں ایک گرجا خریدا تھا۔ گرجا گھر کی انتظامیہ کو انہوں نے یہ بتایا تھا کہ وہ گرجے کی زمین پر ایک کمرشل عمارت تعمیر کریں گے لیکن بعد میں انہوں نے وہاں پر ایک مسجد بنوا دی۔ جب میں نے انیل مسرت سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ واقعی انہوں نے ایک گرجا خریدا تھا اور وہاں کمرشل پلازہ بنانے کا ارادہ تھا لیکن میرے پاس ایک عالم دین آئے اور انہوں نے تقاضا کیا کہ میں گرجے کی زمین پر مسجد بنا دوں۔ یہ ان کے لئے مشکل تھا کیونکہ انہوں نے یہ جگہ کاروباری مقصد کے لئے خریدی تھی لیکن عالم دین کے اصرار پر انہوں نے گرجے کی انتظامیہ سے بات کی اور ان سے گرجے کی جگہ مسجد بنانے کی اجازت طلب کی۔ گرجے کی انتظامیہ نے اس مسئلے پر کافی سوچ بچار کی اور آخر کار انیل مسرت کو اپنی جگہ پر مسجد بنانے کی اجازت دیدی۔ بعد ازاں انیل مسرت نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر یہ مسجد تعمیر کرا دی لیکن اس کام کو کبھی شہرت حاصل کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا۔ انیل مسرت کہتے ہیں کہ برطانیہ میں مسلمان کم ہیں لیکن اسلام زیادہ ہے کیونکہ یہاں پر انصاف ہے۔ اگر آپ ایمانداری سے محنت کریں تو بہت پیسے کما سکتے ہیں۔ میں نے سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں یہ پڑھا تھا کہ وہ بڑے مشکوک آدمی ہیں اور ان پر بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگایا گیا لیکن پھر پتا چلا کہ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ عمران خان کے دوست ہیں۔ ان کی پیدائش مانچسٹر میں ہوئی لیکن ان کے خاندان کا تعلق گوجرہ سے ہے۔ شادی فیصل آباد کی ایک خاتون سے ہوئی۔ انہوں نے برطانیہ میں کاروبار شروع کیا اور بہت ترقی کی لیکن جیسے ہی ان کا نام نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے میں آیا تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگنا شروع ہو گئے۔

یہ ایک مشکل سوال تھا جو میں نے اپنے آپ سے پوچھا لیکن اس مشکل سوال کا جواب مجھے بڑی آسانی کے ساتھ فوراً مل گیا۔ سوال یہ تھا کہ کیا مسلمانوں کے کسی ملک میں کوئی بزنس مین مسجد خرید کر اور پھر اسے گرا کر وہاں گرجا بنا سکتا ہے؟ یہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ مسجدیں صرف بھارت میں گرائی جاتی ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان سے تو مسجد کی زمین خریدنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی بلکہ اس پر قبضہ کر لیا جاتا ہے البتہ مسلم اکثریتی ممالک میں مسجد خرید کر اس کی جگہ گرجا یا مندر بنانا بہت مشکل ہے۔ یہ سوال میرے ذہن میں کیوں آیا؟ دراصل مجھے پتا چلا کہ ایک پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین انیل مسرت نے برطانیہ میں ایک گرجا خریدا تھا۔ گرجا گھر کی انتظامیہ کو انہوں نے یہ بتایا تھا کہ وہ گرجے کی زمین پر ایک کمرشل عمارت تعمیر کریں گے لیکن بعد میں انہوں نے وہاں پر ایک مسجد بنوا دی۔ جب میں نے انیل مسرت سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ واقعی انہوں نے ایک گرجا خریدا تھا اور وہاں کمرشل پلازہ بنانے کا ارادہ تھا لیکن میرے پاس ایک عالم دین آئے اور انہوں نے تقاضا کیا کہ میں گرجے کی زمین پر مسجد بنا دوں۔ یہ ان کے لئے مشکل تھا کیونکہ انہوں نے یہ جگہ کاروباری مقصد کے لئے خریدی تھی لیکن عالم دین کے اصرار پر انہوں نے گرجے کی انتظامیہ سے بات کی اور ان سے گرجے کی جگہ مسجد بنانے کی اجازت طلب کی۔ گرجے کی انتظامیہ نے اس مسئلے پر کافی سوچ بچار کی اور آخر کار انیل مسرت کو اپنی جگہ پر مسجد بنانے کی اجازت دیدی۔ بعد ازاں انیل مسرت نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر یہ مسجد تعمیر کرا دی لیکن اس کام کو کبھی شہرت حاصل کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا۔ انیل مسرت کہتے ہیں کہ برطانیہ میں مسلمان کم ہیں لیکن اسلام زیادہ ہے کیونکہ یہاں پر انصاف ہے۔ اگر آپ ایمانداری سے محنت کریں تو بہت پیسے کما سکتے ہیں۔ میں نے سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں یہ پڑھا تھا کہ وہ بڑے مشکوک آدمی ہیں اور ان پر بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگایا گیا لیکن پھر پتا چلا کہ ان کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ عمران خان کے دوست ہیں۔ ان کی پیدائش مانچسٹر میں ہوئی لیکن ان کے خاندان کا تعلق گوجرہ سے ہے۔ شادی فیصل آباد کی ایک خاتون سے ہوئی۔ انہوں نے برطانیہ میں کاروبار شروع کیا اور بہت ترقی کی لیکن جیسے ہی ان کا نام نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے میں آیا تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگنا شروع ہو گئے۔

کچھ دن پہلے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا کہ انیل مسرت نامی ایک بھارتی شہری کا نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے سے کیا تعلق ہے؟ مجھے ان کا تعلق تو پتا نہیں تھا لیکن یہ پتا تھا کہ وہ بھارتی شہری نہیں ہیں لہٰذا میں نے وضاحت کر دی کہ وہ بھارتی شہری نہیں ہیں۔

سہیل وڑائچ صاحب کے پروگرام ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ میں ان کی کچھ بھارتی فلم ایکٹروں کے ساتھ دوستی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انیل مسرت نے بتایا کہ کچھ بھارتی فلم ایکٹروں کے ساتھ ان کی دوستی ضرور ہے لیکن بھارت کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ بھارتی اداکار رنویر سنگھ اور دیپکا کی شادی میں شرکت کے لئے بھارت بھی جا رہے تھے لیکن اس سے قبل انہوں نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر مانچسٹر میں دیامر بھاشا ڈیم کے لئے ایک فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام کیا۔ اس ڈنر میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کو بطور مہمانِ خصوصی آنا تھا اور اسی ڈنر میں جیو نیوز نے ڈیم فنڈ کے لئے لائیو ٹیلی تھون بھی کرنا تھی۔ میں اس لائیو ٹیلی تھون کی میزبانی کے لئے مانچسٹر پہنچا تو پتا چلا کہ چیف جسٹس صاحب تو پہلے ہی برطانیہ میں موجود ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں اور مانچسٹر میں فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام انیل مسرت اور ان کے کچھ دوستوں نے کیا ہے۔ ایک مقامی صحافی نے مجھے فون کیا اور ڈرایا کہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور انیل مسرت کے خلاف الزامات کی بھرمار ہے اگر تم بھی ان کے ساتھ نظر آئے تو تمہاری خیر نہیں، اس لئے بیماری کا بہانہ بنا کر غائب ہو جائو۔ میں نے اس صحافی دوست کو بتایا کہ جنگ اور جیو تو سال ہا سال سے پاکستان میں پانی کے بحران پر شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں تو سپریم کورٹ کی طرف سے ڈیم فنڈ قائم کئے جانے سے پہلے بھی اس موضوع پر کئی پروگرام کر چکا ہوں، اب اگر ڈیم کے لئے فنڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے تو اس میں جیو کی طرف سے میزبانی کے فرائض انجام دینا صرف ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک اور صاحب نے رابطہ کیا اور کہا کہ چیف جسٹس نے سینئر صحافی حسین نقی صاحب کی عدالت میں تضحیک کی لہٰذا ہم مانچسٹر میں آپ کی فنڈریزنگ ٹیلی تھون کے موقع پر حسین نقی صاحب کے حق میں مظاہرہ کریں گے۔ میں نے ان صاحب کو بتایا کہ پاکستان کے صحافیوں نے حسین نقی صاحب کے بارے میں چیف جسٹس کے کہے گئے الفاظ پر اپنے تحفظات چیف جسٹس صاحب کو پہنچا دئیے تھے اور چیف جسٹس صاحب نے یہ کہا تھا کہ حسین نقی صحافیوں کے استاد ہیں تو ہمارے بھی استاد ہیں، لہٰذا معاملہ ختم ہو گیا۔ ہم نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں حسین نقی صاحب کیساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کر دیا لہٰذا اس معاملے پر آپ اپنی سیاست نہ کریں۔ مجھے مانچسٹر آکر احساس ہوا کہ چیف جسٹس کی طرف سے دیامر بھاشا ڈیم کے لئے فنڈ ریزنگ کی مہم طرح طرح کی افواہوں اور سازشوں کی زد میں ہے۔ واضح رہے کہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کے خلاف قراردادیں منظور کی ہیں لیکن دیامر بھاشا ڈیم پر تینوں صوبوں کی اسمبلیوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا لہٰذا اس منصوبے کو متنازع نہ بنایا جائے اور کالا باغ ڈیم کا بھی بار بار ذکر نہ کیا جائے کیونکہ کالا باغ ڈیم کا ذکر دیامر بھاشا ڈیم کی فنڈریزنگ کیلئے مسائل پیدا کرے گا۔

فنڈ ریزنگ ٹیلی تھون کے آغاز سے پہلے انیل مسرت کا اندازہ تھا کہ سات سے آٹھ لاکھ پائونڈز اکٹھے ہو جائینگے۔ ہماری ٹیلی تھون برطانیہ کے وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہونا تھا لیکن چیف جسٹس صاحب آٹھ بجے کے بعد تشریف لائے۔ اور پھر جب فنڈ ریزنگ شروع ہوئی تو انیل مسرت بھی حیران رہ گئے۔ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں نے صرف وعدے نہیں کئے بلکہ چیک دئیے اور نقد رقوم بھی دیں اور صرف اڑھائی گھنٹے میں 20لاکھ پائونڈز سے زیادہ رقم اکٹھی کر لی گئی جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 36کروڑ روپے بنتی ہے۔ جیو نیوز کی ٹیلی تھون نے دیامر بھاشا ڈیم کے لئے فنڈ ریزنگ کی مہم میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جس پر میں انیل مسرت اور انکی ٹیم کے علاوہ جیو نیوز کی انتظامیہ اور خاص طور پر بسیم بیگ چغتائی اور جاوید راجکوٹ کو مبارکباد کا مستحق سمجھتا ہوں۔ مانچسٹر سے واپسی پر میں نے انیل مسرت کو مبارکباد دی اور کہا کہ زندگی میں مزید کامیابیاں حاصل کرنا ہیں تو پاکستان کی سیاست سے دور رہنا، پاکستان کی خدمت کرو پاکستان کے سیاستدانوں کی نہیں۔

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu