کراچی کے جائز تجاوزات

تحریر: محمد حنیف

کراچی شہر پر اتنے بڑے آپریشن کیے گئے کہ بقول شخصے اگر کسی مریض پر کیے گئے ہوتے تو یا تو اب تک صحت یاب ہو گیا ہوتا یا آپریشن کرنے والوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس دنیا سے کوچ کر گیا ہوتا۔ لیکن کراچی پھر کراچی ہے ان سب آپریشننوں کے نیچے میں بےحس ہو کر لیٹا ہے اور دعوت دیتا ہے کہ آؤ جسے سچائی کا شوق ہے وہ پورا کرے۔

کراچی پر تازہ ترین نشتر آزمائی والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اصل میں اس شہر کے اندر ایک دل ہے جو ابھی تک دھڑکتا ہے۔ اسے ہی کیوں نہ نکال لیا جائے۔ سندھ کی حکومت جو روٹی، کپڑا مکان دینے والوں کی میراث ہے اور کراچی کی مقامی حکومت جو لوگوں کو پینے کا پانی نہیں دے سکتی، سڑکوں سے لاشیں نہیں اٹھا سکتی، شہر کی مزدور آبادی کو کام پر آنے جانے کے لیے بسیں نہیں چلا سکتی، اسی نے فیصلہ کیا کہ اصل ہی شہر کے مرکز کو خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے اور کراچی کے مرکز کو یورپ کے کسی شہر کی شبیہ دینے کے لیے ایک چھوٹا سا قتل عام ضروری ہے۔ اس کے لیے کراچی کی ایمپریس مارکیٹ اور لائٹ ہاؤس پر بلڈوزر چڑھا کر ہزاروں لوگوں کو دیکھتے ہی دیکھتے بے روزگار کر دیا گیا اور ان لاکھوں لوگوں سے تن ڈھانپنے اور پیٹ بھرنے کے وسائل چھین لیے گئے۔

کراچی کو کبھی غریب پرور شہر کہا جاتا تھا۔ اب کراچی میں لے دے کر ایمپریس مارکیٹ اور لائٹ ہاؤس ہی رہ گئے تھے جہاں سفید پوش بھی آتے تھے اور میلے کچیلے لوگ بھی جن کی کبھی کسی شاپنگ مال میں جانے کی ہمت نہیں ہوئی اگر کبھی نہا دھو کر چلے بھی جائیں تو گھگ چوکیدار روک کر پوچھتے ہیں کہ کدھر جا رہے ہو۔

کراچی کا میئر اپنے ہی شہر کے مرکز میں ہزاروں لوگوں کی روٹی روزی کے ملبے پر کھڑے ہو کر دعویٰ کرتا ہے کہ ہم نے ناجائز تجاوزات ہٹا دیے ہیں۔ زبان بھی عجیب و غریب چیز ہے۔ ہمارے سفاک رویوں پر قانون کا پردہ ڈال دیتی ہے۔ آپ نے دیکھے ہیں ایمریس مارکیٹ کے ناجائز تجاوزات؟

یہ ہیں مقامی بازار سے بارعایت بڑا گوشت بیچتے ہیں اسی دکان پر پل کر بڑے ہوئے ہیں۔ دکان کے باہر ایک تھڑا ہے جس پر کوئی اور پھیپھٹرے، گردے بیچتا ہے کہ ہر دھندے کے اندر سے ایک دھندا نکلتا ہے۔ یہ ہیں بوریوں میں بھر کر کینیا کی چائے بیچنے والے، ہر تنگ گلی میں ایک چائے خانہ ہےجہاں پر چائے کا آدھا ایک کپ بھی مل جاتا ہے، جی ہاں یہاں ایسے لوگ ہی آتے ہیں جن کی جیب میں چائے کے پورے کپ کے پیسے نہیں ہوتے، نماز والی ٹوپیوں کی بھی دکان ہے۔ انگریزی ٹوپی کا بھی سٹال ہے۔ سستی مرچیں اور ہلدی کے ڈھیر لگا کر بیٹھا ہے۔ ساتھ ایک بچھ مسالہ بھی پیس رہا ہے۔ لنچ کے وقت سالن کی اکی پلیٹ آئے گی دونوں اسی کے ساتھ دو دو روٹیاں کھائیں گے۔

یہاں سستے برتن بیچنے والے ہیں، پلاسٹک کے ڈبوں کے تاجر ہیں، پتنگ فروش ہیں، چینی کی بنی ہوئی پلیٹس بیچنے والے پٹھان بچے ہیں، یہ ایک سبزی کی دکان ہے۔ جہاں پر سبزی باقی شہر کی نسبت دو چار روپے کم قیمت پر ملتی ہے۔ دکان کے ساتھ ایک چھوٹی چھابڑی والا بھی ہے جو صرف دھنیا،پودینہ اور سبز مرچیں بیچتا ہے۔

اور اگر سامان زیادہ خرید لیا ہے تو ہر کونے پر وزن اٹھانے کے لیے مزدور موجود ہے۔ یہ بوجھ اٹھانے والے بھی ناجائز تجاوزات تھے۔ ان سے بھی بڑے ناجائز تجاوزات وہ ہندو عورتیں جو فٹ پاتھ ر اپنے خشک میووں کے تھیلوں کے ساتھ براجمان تھیں۔ ان میں سے بعض ایک ہاتھ سے اپنا بچہ سنبھالتی تھیں اور دوسرے سے ترازو۔

کراچی تو کیا پاکستان کے کسی بھی بازار میں بھی کسی بھی مذہب کی عورت اتنے دھڑلے سے اپنا بزنس نہیں کر سکتی یہ کرتیں تھیں اور ان دھندوں کی حفاظت کرنے والے چوکیدار اور ان چوکیداروں کو حلیم بیچنے والا جو دن میں ایک دیگ بیچتا اور اگر بچ جائے تو مارکیٹ میں کام کرنے والے بچوں کو بانٹ دیتا ہے۔ اور دکانیں کھلتے ہی آنے والے مدرسوں کے سینئیر طالب علم جو کاروبار میں برکت کے لیے تلاوت کلام پاک کرتے ہیں اور یہ دکاندار کے موڈ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ خیبر سے لے کر بہاولپور تک جو سارا دن مزدوری کر کے یہیں سو جاتے ہیں۔

کسی کو کوئی ڈھول والا آجائے تو ایمپریس مارکیٹ میں نصف شب کو دائرہ بنا کر رقص بطی کر لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر پھر اس بزرگ کا انتظار کرتے ہیں جو علی الصبح آ جاتا ہے۔ اور پتیلی میں اوجھڑی پکانا شروع کرتا ہے جسے یہ مزدور کبھی ناشتے کے طور پر کبھی لنچ میں کھاتے ہیں۔

ان انسانی تجاوزات کے ہاتھوں پر کندہ ہے کہ ہم ناجائز ہیں۔

اور لائٹ ہاؤس جہاں غریبوں اور سفید پوشوں کی سفید پوشی کا بھرم بکتا تھا۔ ہر شہر میں چھوٹا موٹا لنڈا بازار ہوتا ہے۔ لیکن لائٹ ہاؤس سارے لنڈے بازاروں کی ماں ہے۔ ملک کے ان ججوں کے سامنے جنھوں نے ان بازاروں کو دعوت دیتے مزدور بچے تو سب سے زیادہ ناجائز تجاوزات تھے کیونکہ اگر ان بچوں کو یہاں پر روزی کمانے دی جاتی تو وہ یقیناً بڑے ہو کر بہت بڑے ناجائز تجاوزات بن جاتے۔

کراچی والوں کی ایک قسم ہے جو یا تو کبھی ایمپریس مارکیٹ گئی ہی نہیں یا کبھی جانا پڑا تو صرف یہ شکایت رہی کہ وہاں گاڑی کی پارکنگ نہیں ملتی۔ یہ لوگ ایمپریس مارکیٹ کی ویرانی پر بہت خوش ہیں۔ ایک دوسرے کو ایک ویران عمارت کی تصویریں بھیج کر مبارکبادیں دے رہے ہیں۔ خوش ہو رہے ہیں کہ اب ان جیسے شرفا ایمپرس مارکٹ کی جگہ پر روم کے شہر میں بنا کوئی چوک دیکھیں گے۔ یہ لوگ کون ہیں میں اگلی قسط میں آپ کو ان کے جائز اور خوشبودار تجاوزات کی ایک جھلک دکھلاؤں گا۔

فرماتے ہیں کہ ایمپریس مارکیٹ، لائٹ ہاؤس اور کراچی کی دوسری مارکیٹوں کو اس لیے گرایا گیا کہ یہ ناجائز تھیں، غیر قانونی تھیں۔ یہاں پر روزی روٹی کمانے والوں کے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں تھا جو ان کو روزی روٹی کمانے کا قانونی حق دیتا ہو۔

قانون پرستوں کو کون سمجھائے کہ انگریز کی غلامی بھی قانونی تھی، انڈین کشمیر میں ہونے والا جبر بھی قانونی ہے۔ عافیہ صدیقی کو بھی ایک قانون کے تحت سزا ملی ہے امریکہ کی افغانستان پر یلغار اور اس کے بعد سے جاری خونریزی کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ قانون بنایا کس نے ہے اور لاگو کس پر ہو رہا ہے۔ کس کے دروازے پر دربان کھڑا ہوتا ہے اور اس کی پشت پر کوڑا بن کر پڑتا ہے۔

مثلاً قانون کہتا ہے عوامی مقامات پر سونا منع ہے یعنی فٹ پاتھوں پر، پلوں کے نیچے یا پارکوں میں سونا منع ہے۔ ہر قانون کی طرح یہ قانون بھی سب کے لیے برابر ہے لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا اس قانون کا اطلاق کسی ملک ریاض پر ہو سکتا ہے۔

کراچی میں میرے گھر کے ایک طرف عبداللہ شاہ غازی کا مزار ہے اور دوسری طرف سمندر۔ ان دونوں جگہ پر ایسے تجاوزات ہوئے ہیں کہ جائز بھی ہیں اور قانونی بھی بلکہ ان سب سے آگے بڑھ کر کچھ معجزاتی بھی۔

ملک ریاض بمقابلہ عبداللہ شاہ غازی

غازی کا مزار کراچی کا سب سے بڑا ٹورسٹ سپاٹ ہے۔ کراچی ہی نہیں پورے ملک سے یہاں لاکھوں لوگ حاضری دینے آتے ہیں۔ پورے پنجاب سے جو قافلے شہباز قلندر یا نورانی یا بھٹ شاہ حاضری کے لیے نکلتے ہیں ان کے لیے پرانی رسم ہے کہ وہ ایک رات غازی کے مزار پر گزارتے ہیں۔ پورے کے پورے محلے، گاؤں، خاندان اپنی بسیں کروا کر یہاں پہنچتے ہیں۔ دیکھنے میں تھوڑے غریب لگنے والے لوگ یہاں لنگر کھانے نہیں آتے بلکہ اپنا راشن اور برتن ساتھ لاتے ہیں، یہی پکاتے ہیں، کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔

مزار کے ساتھ ایک بڑا خالی پلاٹ تھا جس میں یہ لوگ ڈیرہ جماتے تھے۔ اس پر ملک ریاض نے پاکستان کا سب سے بڑا ٹاور کھڑا کر دیا ہے۔ کئی مقدمے چلے لیکن ملک ریاض کا ٹاور اب بھی آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے ارد گرد ایک حویلی نما حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ اندر کا عوامی ماحول اس ٹاور میں 10 کروڑ کا فلیٹ خریدنے والوں کو تنگ نہ کرے۔

لیکن زائرین بھی ڈھیٹ ہیں۔ بسیں اب بھی آتی ہیں۔ یار لوگ عورتوں بچوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔ برتن نکال کر اپنا کھانا بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ جمعرات کو اتنا رش ہوتا ہے کہ زائرین کلفٹن کی گلیوں میں ڈیرہ جما لیتے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو دیکھا کہ مزار کے ساتھ ایک گلی میں پولیس کی ایک گاڑی کھڑی ہے اور انھوں نے پنجاب سے آئے ہوئے خاندان کو ایک دیگ سمیت گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ اینٹوں سے بنے چولہے پر لگی آگ بجھا دی گئی ہے۔ دیگ میں ابھی بھی کچا گوشت اور پیاز پڑا ہے۔ پتہ نہیں کتابوں میں کیا لکھا ہے لیکن بظاہر عبداللہ شاہ غازی کے ساتھ والی کلفٹن کی ایک گلی میں دیگ پکانا ایک غیر قانونی کام ہے جس پر پولیس فورا ایکشن لیتی ہے۔

ویسے تو ملک ریاض پر بھی ناجائز قبضوں، قتل اور اغوا وغیرہ جیسے مقدمات بنتے رہتے ہیں لیکن ان کے پاس ریٹائرڈ ججوں جرنیلوں اور ملک کے سب سے مہنگے قانون دانوں کی ٹیمیں موجود ہیں جن کا مقابلہ ملک کی کوئی عدالت نہیں کر سکتی۔

ایک مقدمہ دس سال سے زیر سماعت ہے۔ ابھی تک یہی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ مقدمہ احتساب عدالت میں چلے گا یا اینٹی کرپشن عدالت میں۔ ملک ریاض کا آسمان سے سرگوشیاں کرتا ٹاور اپنی ذات میں خود ہی قانون ہے۔ اس کے نیچے کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنا پانی خود لے کر آنے والے انسان ایسے تجاوزات ہیں جنھیں کبھی بھی غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جن لوگوں کو روحانیت سے شغف نہیں ہے یا جو مزاروں وغیرہ پر نہیں جاتے انہیں بھی کھلی ہوا میں سانس لینے کا شوق ہوتا ہے ایسے لوگ پارکوں کا رخ کرتے ہیں یا پھر سمندر کا۔ پہلے ایک جھلک ہمارے پارکوں کی اور پھر سمندر کی طرف جو آج کل ’یاعلی مدد‘ پکار رہا ہے۔

میرے پارک

کراچی والے اکثر شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ کھلی جگہ نہیں رہی۔ جہاں پر پارک تھے وہاں پلازے بن گئے، باقیوں کی چائنہ کٹنگ ہو گئی لیکن کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں زیادہ تر پارک محفوظ ہیں۔ کہیں کہیں ڈنڈی ماری گئی مثلاً بینظیر بھٹو شہید پارک کا ایک کونا پکڑ کر ایک دفاعی ادارے نے کشتی رانی کا ایک کلب بنا لیا ہے۔ اس کلب میں کشتی رانی کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔

میرے چھوٹے بیٹے نے جب چلنا شروع کیا تو پارکوں کی تلاش شروع ہوئی اور ایسی خوشگوار حیرت ہوئی کہ ہر طرف پارک ہی پارک۔ ایک جگہ پر تین پارک ایک ساتھ، کچھ پارک بارونق اور کچھ بالکل ویران۔

ایک دن ایک ایسا پارک ملا جو بہت ہی نفیس تھا۔ ہر طرف پھول بکھرے ہوئے، پودے، سنگ مرمر کے چبوترے لیکن بندہ نہ بندے کی ذات۔ میں نے پوچھا کہ بھائی اتنا شاندار پارک لیکن لوگ کیوں نہیں آتے۔ جواب ملا جناب اس پارک کے گرد بنے ہوئے گھر دیکھیں اس پارک جتنے تو لوگوں کے گھروں میں لان ہیں وہ کیوں آئیں گے۔

کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ یہ پارک تجاوزات میں شامل ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ غیر قانونی ہے۔

’یا علی‘ کہتا سمندر

میرے گھر سے دو منٹ کی واک پر سمندر ہے تو تقریباً ہر روز ملاقات رہتی ہے۔ یہ سمندر بھی خدا کا ایک معجزہ ہے۔ پورے کراچی کا گند اس میں انڈیلا جاتا ہے لیکن اب بھی مچھیرے رات کو جال ڈال کر بیٹھتے ہیں اور صبح تک 20، 30 کلو مچھلی لے کر اٹھتے ہیں۔

کبھی کبھی تہوار کے موقع پر خاص طور پر نیو ائیر نائٹ میں انتظامیہ کنٹینر کھڑے کر کے سمندر کو کراچی کے عوام سے بچانے کی کوشش کرتی ہے لیکن ہر ہفتے لاکھوں لوگ یہاں پر آتے ہیں۔ تقریباً پانچ میل کی ساحلی پٹی پر پینے کے پانی کی صرف ایک جگہ ہے جہاں پر بھٹائی رینجر نے اپنی چیک پوسٹ کے باہر دو کولر رکھے ہوئے ہیں۔ صاف پانی کی ایک اور ٹینکی بھی ہے لیکن اس میں صرف چند گھنٹے پانی آتا ہے اور ڈیفنس کے سفید پوش اپنی گاڑی اور ڈرائیور بھیج کر چند بڑی بوتلیں بھروا لیتے ہیں۔

دو سال پہلے میں نے محسوس کیا کہ سمندر کا ایک حصہ پیچھے کو ہٹتا جارہا ہے۔ بیچ میں ایک بڑی سڑک ہے جس کا نام عبدالستار ایدھی کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔ سڑک کے ایک طرف ڈیفنس کا فیز 8 تیزی سے بن رہا تھا۔ سڑک کے دوسری طرف سمندر جو آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتا جا رہا تھا۔ پھر میں نے دیکھا سمندر کو آہستہ آہستہ پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔

پتھر کی ایک دیوار بنی، بلڈوزر چلے، مٹی کے ٹرک پھینکے جانے لگے، سمندر دور ہوتا گیا یہاں تک کہ سڑک سے گزرتے ہوئے صرف ایک چمک سی نظر آنے لگی۔ سمندر کو بھگا کر حاصل کی گئی زمین پر لکیریں لگائی گئی، کچھ پودے لگانے کی ناکام کوششیں ہوئیں۔ سڑکیں بنیں، بورڈ لگے، ایک دن ایک چیک پوسٹ بن گئی۔

ایک دن گزرا تو بڑی رونق لگی ہوئی تھی۔ چاق و چوبند فوجی بندوقیں اٹھا کر پہرا دے رہے تھے۔ میں نے گاڑی روک کر پوچھا کہ جناب کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا تھا افتتاح ہو رہا ہے۔ میں نے پوچھا کس چیز کا جوان نے ایک نئے بورڈ کی طرف اشارہ کیا جس پر لکھا تھا ای 8۔

دل میں پہلا خیال آیا کہ سڑک کے ایک طرف فیز 8 ابھی ویران پڑا ہے تو اتنی مجبوری کیا آن پڑی کہ سمندر کو پیچھے دھکیل کر فیز 8 کی ایکسٹینشن بنانی پڑ گئی۔ ایسا خیال بھی آنے پر کانوں کو ہاتھ لگایا اور گھر آ گیا۔

کمپیوٹر پر جا کر ای 8 ڈھونڈا۔ وہاں پر 120 گز کا پلاٹ تین کروڑ کا ہے۔ پانچ سو گز کا چھ کروڑ کا اور ایک ہزار گز کا 14 کروڑ کا۔ کمرشل پلاٹ بھی ہیں جو 34 کروڑ میں دستیاب ہیں۔

بچپن سے ایک گانے کا مصرع سنتا آیا تھا پہلی دفعہ سمجھ آیا۔ ’تیرا نعرۂ حیدری سن کے، یا علی کہن سمندر‘۔

جنھوں نے جیتے جاگتے، لہرے مارتے، پھنکارتے سمندر کو پسپا کرکے اربوں کا دھندا پیدا کر لیا ان کی عظمت کو سلیوٹ ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان سے تو یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ تجاوزات کے معنی کیا ہوتے ہیں۔

تاشقند

تاشقند سے وطن واپسی کے وقت خیال آیا کہ اصل تاشقند تو دیکھا ھی نہیں – ھر بڑے شہر کے دو روپ ھوتے ھیں –

مکمل پڑھیے

منشا بم VS ایٹم بم

اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج یا ایک تیر سے دو نشانے۔ چیئرمین ’’نیب‘‘ نے انسداد ِ بدعنوانی کے عالمی دن کےموقع پر ایوان

مکمل پڑھیے
Close Menu