Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنون لطیفہ

مشتاق احمد یوسفی

( کتاب ’چراغ تلے‘ سے ایک شگفتہ انتخاب)
بڑا مبارک ہوتا ہے وہ دن، جب کوئی نیا خانساماں گھر میں آئے اور اس سے بھی زیادہ مبارک وہ دن جب وہ چلا جائے! چونکہ ایسے مبارک دن سال میں کئی بار آتے ہیں اور تلخی کام و دہن کی آزمائش کر کے گزر جاتے ہیں، اس لیے اطمینان کا سانس لینا، بقول شاعر، صرف دو ہی موقعوں پر نصیب ہوتا ہے :
اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بد ذائقہ کھانا پکانے کا ہنر صرف تعلیم یافتہ بیگمات کو آتا ہے لیکن ہم اعداد و شمار سے ثابت کر سکتے ہیں کہ پیشہ ورخانساماں اس فن میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے سو برس سے یہ فن کوئی ترقی نہیں کرسکے۔ ایک دن ہم نے اپنے دوست مرزا عبدالودود بیگ سے شکایتاً کہا کہ اب وہ خانساماں جو ستر قسم کے پلائو پکا سکتے تھے، من حیث الجماعت رفتہ رفتہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ جواب میں انھوں نے بالکل الٹی بات کہی۔
کہنے لگے ’’خانساماں وانساماں غائب نہیں ہو رہے، بلکہ غائب ہو رہا ہے، وہ ستر قسم کے پلائو کھانے والا طبقہ جو بٹلر اور خانساماں رکھتا تھا اور اڑد کی دال بھی ڈنر جیکٹ پہن کر کھاتا تھا۔ اب اس وضعدار طبقے کے افراد باورچی نوکر رکھنے کے بجائے نکاح ثانی کر لیتے ہیں۔ اس لیے کہ گیا گزرا باورچی بھی روٹی کپڑا اور تنخواہ مانگتاہے جبکہ منکوحہ فقط روٹی کپڑے پر ہی راضی ہو جاتی ہے بلکہ اکثر و بیشتر کھانے اور پکانے کے برتن بھی ساتھ لاتی ہے۔‘‘
مرزا اکثر کہتے ہیں کہ خود کام کرنا بہت آسان ہے مگر دوسروں سے کام لینا نہایت دشوار۔ بالکل اسی طرح جیسے خود مرنے کے لیے کسی خاص قابلیت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن دوسروں کو مرنے پر آمادہ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ معمولی سپاہی اورجرنیل میں یہی فرق ہے۔ اب اسے ہماری سخت گیری کہیے یا نااہلی یا کچھ اور کوئی خانساماں ایک ہفتے سے زیادہ نہیں ٹکتا۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ہنڈیا اگر شبراتی نے چڑھائی تو بگھار رمضانی نے دیا اور دال بلاقی خاں نے بانٹی۔ ممکن ہے مذکور الصدر حضرات اپنی صفائی میں یہ کہیں کہ:
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں!
لہٰذا ہم تفصیلات سے احتراز کریں گے۔ حالانکہ دل ضرور چاہتا ہے کہ ذرا تفیصل کے ساتھ من جملہ دیگر مشکلات کے اس سراسیمگی کو بیان کریں جو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ہم سے از روئے حساب یہ دریافت کرنے کو کہا جائے کہ اگر نوکر کی ١٣ دن کی تنخواہ ۳۰ روپے اور کھانا ہے تو ٩ گھنٹے کی تنخواہ بغیر کھانے کے کیا ہوگی؟ ایسے نازک مواقع پر ہم نے سوال کو آسان کرنے کی نیت سے اکثر یہ معقول تجویز پیش کی کہ اس کو پہلے کھانا کھلا دیا جائے۔ لیکن اول تو وہ اس پر کسی طرح رضامند نہیں ہوتا۔ دوم کھانا تیار ہونے میں ابھی پورا سوا گھنٹہ باقی ہے اور اس سے آپ کو اصولاً اتفاق ہوگا کہ ٩ گھنٹے کی اجرت کا حساب ٤١ ٠١گھنٹے کے مقابلے میں پھر بھی آسان ہے۔
ہم داد کے خواہاں ہیں نہ انصاف کے طالب- کچھ تو اس اندیشے سے کہیں ایسا نہ ہو کہ جن سے خستگی کو داد پانے کی توقع ہے وہ ہم سے زیادہ خستہ تیغ ستم نکلیں اور کچھ اس ڈر سے کہ :
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
مقصد سردست ان خانسامائوں کا تعارف کرانا ہے جن کی دامے درمے خدمت کرنے کا شرف ہمیں حاصل ہوچکا ہے۔ اگر ہمارے لہجے میں کہیں تلخی کی جھلک آئے تو اسی تلخی کام و دہن پر محمول کرتے ہوئے، خانسائوں کو معاف فرمائیں۔
خانساماں سے عہد وفا استوار کرنے اور اسے ہمیشہ کے لیے اپناغلام بنانے کا ڈھنگ کوئی مرزا عبدالودود بیگ سے سیکھے۔ یوں تو ان کی صورت ہی ایسی ہے کہ ہر کس و نا کس کا بے اختیار نصیحت کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن ایک دن ہم نے دیکھا کہ ان کا دیرینہ باورچی بھی ان سے ابے تبے کر کے باتیں کر رہا ہے۔ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی ، کیوں کہ شرفا میں یہ انداز گفتگو محض مخلص دوستوں کے ساتھ روا ہے۔ جہلا سے ہمیشہ سنجیدہ گفتگو کی جاتی ہے۔ ہم نے مرزا کی توجہ اس امر کی طرف دلائی تو انھوں نے جواب دیا کہ میں نے جان بوجھ کر اس کو اتنا منہ زور اور بدتمیز کر دیا ہے کہ اب میرے گھر کے سوا اس کی کہیں اور گزر نہیں ہو سکتی۔
کچھ دن ہوئے ایک مڈل فیل خانساماں ملازمت کی تلاش میں آنکلا اور آتے ہی ہمارا نام اور پیشہ پوچھا۔ پھر سابق خانسامائوں کے پتے دریافت کیے۔ نیز یہ کہ آخری خانساماں نے ملازمت کیوں چھوڑی؟ باتوں باتوں میں انھوں نے یہ عندیہ بھی لینے کی کوشش کی کہ ہم ہفتے میں کتنی بار مدعو ہوتے ہیں اور باورچی خانے میں چینی کے برتنوں کے ٹوٹنے کی آواز سے ہمارے اعصاب اور اخلاق پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے۔ ایک شرط انھوں نے یہ بھی لگائی اگر آپ گرمیوں کی چھٹیوں میں پہاڑ پر جائیں گے تو پہلے ’’عوضی مالک ‘‘ پیش کرنا پڑے گا۔
کافی رد و کد کے بعد ہمیں یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ ہم میں وہی خوبیاں تلاش کر رہے ہیں جو ہم ان میں ڈھونڈ رہے تھے۔ یہ آنکھ مچولی ختم ہوئی اور کام کے اوقات کا سوال آیا تو ہم نے کہا کہ اصولاً ہمیں محنتی آدمی پسند ہیں۔ خو بیگم صاحبہ صبح پانچ بجے سے رات کے دس بجے تک گھر کے کام کاج میں جٹی رہتی ہیں۔ کہنے لگے ’’صاحب! ان کی بات چھوڑیے۔ وہ گھر کی مالک ہیں ۔ میں تو نوکر ہوں!‘‘ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ برتن نہیں مانجھوں گا۔ جھاڑو نہیں دوں گا۔ ایش ٹرے صاف نہیں کروں گا۔ میز نہیں لگائوں گا۔ دعوتوں میں ہاتھ نہیں دھلائوں گا۔
ہم نے گھبرا کر پوچھا ’’پھر کیا کرو گے۔۔۔؟‘‘
’’یہ تو آپ بتائیے۔ کام آپ کو لینا ہے۔ میں تو تابع دار ہوں۔“
جب سب باتیں حسب منشاء ضرورت (ضرورت ہماری، منشا ان کی) طے ہو گئیں تو ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ بھئی سودا سلف لانے کے لیے فی الحال کوئی علیٰحدہ کوئی علیٰحدہ نوکر نہیں ہے۔ اس لیے کچھ دن تمھیں سودا بھی لانا پڑے گا۔ تنخواہ طے کر لو۔
فرمایا ’’جناب ! تنخواہ کی فکر نہ کیجئے۔ پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ کم تنخواہ میں بھی خوش رہوں گا۔‘‘
’’پھر بھی؟‘‘
کہنے لگے ’’پچھتر روپے ماہوار ہوگی۔ لیکن اگر سودا بھی مجھی کو لانا پڑا تو چالیس روپے ہوگی!‘‘
ان کے بعد ایک ڈھنگ کا خانساماں آیا مگر بے حد دماغ دار معلوم ہوتا تھا۔ ہم نے اس کا پانی اتارنے کی غرض سے پوچھا، ’’مغلئی اور انگریزی کھانے آتے ہیں؟‘‘
’’ہر قسم کا کھانا پکا سکتا ہوں۔ حضور کا کس علاقے سے تعلق تھا؟‘‘
ہم نے صحیح صحیح بتا دیا۔ جھوم ہی تو گئے۔ کہنے لگے ’’میں بھی ایک سال ادھر کاٹ چکا ہوں۔ وہاں کے باجرے کی کھچڑی کی تو دور دور دھوم ہے۔‘‘
مزید جرح کی ہم میں تاب نہ تھی۔ لہٰذا انھوں نے اپنے آپ کو ہمارے ہاں ملازم رکھ لیا۔ دوسرے دن پڈنگ بناتے ہوئے انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ میں نے بارہ سال انگریزوں کی جوتیاں سیدھی کی ہیں، اس لیے بیٹھ کر چولہا نہیں جھونکوں گا۔ مجبوراً کھڑے ہو کر پکانے کا چولہا بنوایا۔
ان کے بعد جو خانساماں آیا، اس نے کہا کہ میں چپاتیاں بیٹھ کر پکائوں گا مگر برادے کی انگیٹھی پر۔ چنانچہ لوہے کی انگیٹھی بنوائی۔ تیسرے کے لیے چکنی مٹی کا چولھا بنوانا پڑا۔ چوتھے کے مطالبے پر مٹی کے تیل سے جلنے والا چولھا خریدا اور پانچواں خانساماں اتنے سارے چولھے دیکھ کر ہی بھاگ گیا۔
اس ظالم کا نام یاد نہیں آ رہا۔ البتہ صورت اور خدوخال اب تک یاد ہیں۔ ابتدائے ملازمت سے ہم دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہیں کھاتا، بلکہ پابندی سے ملہاری ہوٹل میں اکڑوں بیٹھ کر دو پیسے کی چٹ پٹی دال اور ایک آنے کی تنوری روٹی کھاتاہے۔ آخر ایک دن ہم سے نہ رہا گیا اور ہم نے ذرا سختی سے ٹوکا کہ ’’گھر کا کھانا کیوں نہیں کھاتے؟‘‘
تنک کربولا، ’’صاحب! ہاتھ بیچا ہے، زبان نہیں بیچی!‘‘
ان نے نہایت مختصر مگر غیر مبہم الفاظ میں یہ واضح کر دیا کہ  اگر اسے اپنے ہاتھ کا پکا کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو وہ فوراً استفٰے دے دے گا۔ اس کے رویے سے ہمیں بھی شبہ ہونے لگا کہ وہ واقعی خراب کھانا پکاتا ہے۔ نیز ہم اس منطقی نتیجے پر پہنچے کہ دوزخ میں گنہگار عورتوں کو ان کے اپنے پکائے ہوئے سالن زبردستی کھلائے جائیں گے۔ اسی طرح ریڈیو والوں کو فرشتے آتشیں گرز مار مار ان ہی کے نشر کیے ہوئے پروگراموں کے ریکارڈ سنائیں گے۔
ہم کھانے کے شوقین ہیں، خوشامد کے بھوکے نہیں (گو کہ اس سے انکار نہیں کہ اپنی تعریف سن کر ہم اپنا بنیان تنگ معلوم ہونے لگتا ہے)۔ ہم نے کبھی یہ توقع نہیں کی کہ باورچی کھانا پکانے کے بجائے ہمارے گن گاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ چوبیس گھنٹے اپنے مرحوم اور سابق آقائوں کا کلمہ پڑھتا رہے۔ جب کہ اس توصیف کا اصل مقصد ہمیں جلانا اور خوبیوں کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہیں۔ اکثر اوقات بے تحاشا جی چاہتا ہے کہ کاش ہم بھی مرحوم ہوتے تاکہ ہمارا ذکر بھی اتنے ہی پیار سے ہوتا۔ بعض نہایت قابل خانسامائوں کو محض اس دور اندیشی کی بنا پر علیٰحدہ کرنا پڑا کہ آئندہ وہ کسی اور کا نمک کھا کر ہمارے حق میں پروپیگنڈہ کرتے رہیں۔ جو شخص بھی آتا ہے یہی دعوی کرتا ہے کہ اس کے سابق آقا نے اسے سیاہ و سفید کا مالک بنا رکھا تھا (یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ اصولی طور پر ہم خود بھی ہمیشہ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن ریزگاری ضرور گن لیتے ہیں)۔ایک خانساماں نے ہمیں مطلع کیا کہ اس کا پچھلا ’’صاب‘‘ اس قدر شریف آدمی تھا کہ ٹھیک سے گالی تک نہیں دے سکتا تھا۔
ہم نے جل کر کہا ’’پھر تم نے نوکری کیوں چھوڑی؟‘‘
تڑپ کر بولے ’’کون کہتا ہے کہ خدا بخش نے نوکری چھوڑی ؟ قصہ دراصل یہ ہے کہ میری پانچ مہینے کی تنخواہ چڑھ گئی تھی۔ اور اب آپ سے کیا پردہ؟ سچ تو یہ کہ ان کے گھر کا خرچ بھی میں ردی اخباراوربیئر کی خالی بوتلیں بیچ کر چلا رہا تھا۔ انھوں نے کبھی حساب نہیں مانگا۔ پھر انھوں نے ایک دن میری صورت دیکھ کر کہا کہ خدابخش! تم بہت تھک گئے ہو۔ دو دن کی چھٹی کرو اور اپنی صحت بنائو۔ دو دن بعد جب میں صحت بنا کر لوٹا تو گھر خالی پایا۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ تمھارا صاب تو پرسوں ہی سارا سامان باندھ کر کہیں اور چلا گیا۔‘‘ یہ قصہ سنانے کے بعد اس نمک حلال نے ہم سے پیشگی تنخواہ مانگی تاکہ اپنے سابق آقا کے مکان کا کرایہ ادا کر سکے۔
گزشتہ سال ہمارے حال پر رحم کھا کر ایک کرم فرما نے ایک تجربہ کار خانساماں بھیجا۔ جو ہرعلاقے کے کھانے پکانا جانتا تھا۔ ہم نے کہا ’’بھئی اور تو سب ٹھیک ہے مگر تم سات مہینے میں دس ملازمتیں چھوڑ چکے ہو۔ یہ کیا بات ہے؟‘‘
کہنے لگے ’’صاب! آج کل وفادار مالک کہاں ملتا ہے؟‘‘
اس ستم ایجاد کی بدولت برصغیر کے ہرخطے بلکہ ہر تحصیل کے کھانے کی خوبیاں اس ہیچمداں پنبہ وہاں کے دسترخوان پر سمٹ کر آگئیں۔ مثلاً دوپہر کے کھانے پر دیکھا کہ شوربے میں مسلم کیری ہچکولے لے رہی ہے اور سالن اس قدر ترش ہے کہ آنکھیں بند ہو جائیں اور اگر بند ہوں تو پٹ سے کھل جائیں۔ پوچھا تو انھوں نے آگاہی بخشی کہ دکن میں رئوسا کھٹا سالن کھاتے ہیں۔ اور ہم یہ سوچتے ہی رہ گئے کہ اللہ جانے بقیہ لوگ کیا کھاتے ہوں گے۔
اسی دن شام کو ہم نے گھبرا کر پوچھا کہ دال میں پرانے جوتوں کی بو کیوں آ رہی ہے؟
جواب میں انھوں نے ایک دھواں دھار تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مارواڑی سیٹھوں کے پھلنے پھولنے اور پھیلنے کا راز ہینگ میں مضمر ہے۔
اور دوسرے دن جب ہم نے دریافت کیا کہ بندۂ خدا یہ چپاتی ہے یا دستر خوان؟
تو ہنس کر بولے کہ وطن مالوف میں روٹی کے حدود اربعہ یہی ہوتے ہیں۔
آخر کئی فاقوں کے بعد ایک دن ہم نے بہ نظرحوصلہ افزائی کہا:
’’آج تم نے چاولوں کا اچار بہت اچھا بنایا ہے۔‘‘
دہکتے ہوئے توے سے بیڑی سلگاتے ہوئے بولے ’’بندہ پروری ہے! کاٹھیاواڑی پلائو میں قورمے کے مسالے پڑتے ہیں!‘‘
’’خوب !مگریہ قورمے کامزہ تونہیں!‘‘
’’وہاں قورمے میں اچار کا مسالہ ڈالتے ہیں!‘‘
پھرایک دن شام کے کھانے پرمرزانے ناک سکیڑ کر کہا ’’میاں! کیا کھیر میں کھٹملوں کا بگھار دیا ہے؟‘‘
سفید دیوار پر کوئلے سے سودے کا حساب لکھتے ہوئے حقارت سے بولے ’’آپ کو معلوم نہیں؟ شاہان اودھ لگی ہوئی فیرنی کھاتے تھے؟‘‘
’’مگر تم نے دیکھا کیا انجام ہوا اودھ کی سلطنت کا؟‘‘
مختصر یہ کہ ڈیڑھ مہینے تک وہ صبح و شام ہمارے ناپخت ذوق و ذائقہ کو سنوارتا اور مشروبات و ماکولات سے وسیع المشربی کا درس دیتا رہا۔ آخر آخر میں مرزا کو شبہ ہو چلا تھا کہ وہ غیر ملکی ایجنٹ ہے جو سالن کے ذریعے صوبائی غلط فہمیاں پھیلا رہا ہے۔
اگر آپ کو کوئی کھانا بے حد مرغوب ہے جو چھڑائے نہیں چھوٹتا تو تازہ داردان بساط مبطخ اس مشکل کو فوراً آسان کر دیں گے۔ اشیائے خوردنی اور انسان معدے کے ساتھ بھرپور تجربے کرنے کی جو آزادی باورچیوں کو حاصل ہے وہ نت نئی کیمیاوی ایجادات کی ضامن ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں بھنڈی بہت پسند ہے لیکن دس گھنٹے قبل یہ منکشف ہوا کہ اس نبات
Close Menu