حلال اور جھٹکا​

سعادت حسن منٹو

”میں نے اس کی شہ رگ پر چھری رکھی۔ ہولے ہولے پھیری اور اس کو حلال کردیا۔ “ ​

”یہ تم نے کیا کیا۔ “ ​
”کیوں“ ​
”اس کو حلال کیوں کیا۔ “ ​
”مزا آتا ہے اس طرح۔ “ ​

”مزا آتا ہے کے بچے، تجھے جھٹکا کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح“ ​
اور حلال کرنے والے کی گردن کا جھٹکا ہوگیا۔ ​

Close Menu