حیوانیت

سعادت حسن منٹو

بڑی مشکل سے میاں بیوی گھر کا تھوڑا اثاثہ بچانے میں کامیاب ہوئے۔ جوان لڑکی تھی، اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ چھوٹی سی بچی تھی اس کو ماں نے اپنے سینے کے ساتھ چمٹائے رکھا۔ ایک بھوری بھینس تھی اس کو بلوائی ہانک کر لے گئے۔ گائے بچ گئی مگر بچھڑا نہ ملا۔

میاں بیوی، ان کی چھوٹی لڑکی اور گائے ایک جگہ چھپے ہوئے تھے، سخت اندھیری رات تھی۔ بچی نے ڈر کے رونا شروع کیا تو خاموش فضا میں جیسے کوئی ڈھول پیٹنے لگا۔ ماں نے خوفزدہ ہو کر بچی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کہ دشمن سن نہ لے۔ آواز دب گئی، باپ نے احتیاطً اوپر گاڑھے کی موٹی چادر ڈال دی۔

ٹھوڑی دیر کے بعد دور سے کسی بچھڑے کی آواز آئی، گائے کے کان کھڑے ہوئے، اٹھی اور ادھر ادھر دیوانہ وار دوڑتی ڈکرانے لگی۔ اس کو چپ کرانے کی بہت کوشش کی گئی مگر بے سود۔

شور سن کر دشمن آ پہنچا۔ دور سے مشعلوں کی روشنی دکھائی دی۔ بیوی نے اپنے میاں سے بڑے غصے کے ساتھ کہا۔
”تم کیوں اس حیوان کو اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ “

Close Menu