Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ناول ’’اداس نسلیں‘‘ کے بارے میں قرۃ العین حیدر کی رائے

قرۃ العین حیدر

بمبئی،
یکم نمبر 63

محترم تسلیم۔
آپ کے پچھلے سارے خطوط مع ’’اداس نسلیں‘‘ مل چکے ہیں نادم ہوں کہ اب تک جواب نہ دے سکی۔ ناول چند روز ہوئے ختم کیا ہے (اتنے ضخیم ناول کو بغور پڑھنے کے لیے ذرا وقت درکار تھا) اور اب آپ کو لکھ رہی ہوں۔ آپ میری رائے پمفلٹ کے لیے چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پمفلٹ پبلسٹی کے لیے ہو گا اور اس میں آپ صرف تعریف شائع کریں گے۔ ’’بلا کم و کاست‘‘ بے لاگ تنقید نہیں۔ میں نے ناول اس لحاظ سے زیادہ دھیان سے پڑھا کہ اس کو آپ نے دنیا کے عظیم ترین ادب کے مقابلے میں پیش کیا ہے۔ یہ publicity gimmick اپنی جگہ پر ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد جن لوگوں کو دنیا کے عظیم ادب سے تھوڑی بہت واقفیت ہے، ان کے لیے بڑی مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔ ناول کا اندازِ بیان اور طرزِ تحریر بے حد دلکش ہے مگر جو factual غلطیاں شروع سے آخر تک ناول نگار نے کی ہیں ان کی وجہ سے پڑھنے والے کو بڑی کوفت ہوتی ہے (خصوصاً عظیم ترین دنیاوی ادب کے دعوے کا خیال کر کے) سیاسی اور سماجی پس منظر کے ساتھ ناول لکھنا بہت ذمے داری کا کام ہے اور اس کے لیے بڑی محنت اور ریسرچ کی ضرورت ہے۔ ناول نگار نے چند مشہور امریکن ناولسٹوں کو سامنے رکھا مگر ان کی جیسی محنت نہیں کر سکے۔ دوسری بات ناول 13ء میں شروع ہوتا ہے اور اس وقت روشن آغا کے گھر پر مخلوط پارٹی ہو رہی ہے جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل ہیں۔ لگتا ہے یہ ماحول آج سے نصف صدی قبل کا نہیں بلکہ 63ء کا ہے۔ وقت کے context سے یہ بے پروائی پورے ناول میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں محض اینی بسنٹ، گوکھلے، دیش بندھو سی آر داس (جن کو ناولسٹ نے دیش بھاندو داس لکھا ہے) وغیرہ کی مکالموں میں شمولیت سے ناول سیاسی نہیں بن جاتا۔۔۔ جنرل او ڈائیر ریل کے ڈبے میں سفر کر رہے ہیں، اسی میں نعیم اور عذرا بھی بیٹھے ہیں، جب کہ اس زمانے میں یورپین کمپارٹمنٹ علیحدہ تھے اور انگریز گورنر کی اسپیشل سیلون چلتی تھی۔ نعیم امرتسر سے لے کر پشاور تک فوراً موقعِ واردات پر پہنچ جاتا ہے۔ ’’فسانہِ آزاد‘‘ کے ہیرو کی طرح میدانِ جنگ سے لے کر دہشت پسندوں کے گروہ تک ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی ان گوناگوں دلچسپیوں کے محرکات کیا تھے۔ سینیر کیمبرج پاس کرنے کے بعد معمولی سپاہی کی طرح فوج میں بھرتی ہو جاتا ہے۔ جلیانوالہ باغ کا مچھلی فروش انتہائی مدلّل اور فلسفیانہ اور ادبی گفتگو کرتا ہے۔ مہندر سنگھ، جو سکھ ہے، اپنا نام ٹھاکر مہندر سنگھ بتاتا ہے۔۔۔ اس طرح کے بے شمار howlers ہیں۔ یہ ناول ایک نئے لکھنے والے کی پہلی کوشش کے لحاظ سے واقعی قابلِ تعریف ہے اور جزیات نگاری، خصوصاً دیہات کی زندگی کا نقشہ بہت ہی خوبصورت اور realistic ہے۔
ایک بات جو مجھے بہت عجیب لگی کہ ناول نگار نے ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ کے بہت سے مکالمے ذرا سے ردّ و بدل کے بعد ناول میں منتقل کر دیے ہیں۔
امید ہے آپ اس بے لاگ تنقید کو معاف فرمائیں گے لیکن چونکہ آپ اس قدر مصر تھے کہ میں اپنی رائے لکھوں اس لیے میں نے یہ لکھا ہے۔ خیال ہے کہ فرصت ملنے پر اس ناول پر مفصل مضمون لکھوں جس میں اس کی خوبیاں اور خامیاں دونوں discuss کی جائیں۔ یک طرفہ تعریف یا یک طرفہ برائی بہت غلط چیز ہے اور ہمارے یہاں آج کل تنقید میں یہی ہو رہا ہے۔
نیا افسانہ ابھی نہیں لکھا۔ لکھنے کے بعد ’’سویرا‘‘ کے لیے ضرور بھیجوں گی۔
خاکسار
قرۃ العین
(یہ خط ادبی جریدے ’’ سویرا‘‘ کے شریک مدیر اور ’’ اداس نسلیں ‘‘ کے ناشر نذیر احمد چودھری کے بیٹے ریاض احمد کے نام لکھا گیا )

Close Menu