Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈائجسٹوں کی الف لیلیٰ (قسط ۔ 11)

سیّد انور فراز

سسپنس کے لیے کسی معقول و مناسب بندے کی تلاش جاری تھی، دو پرچوں کی مکمل ذمے داری کا شدید دباؤ تھا اور معراج صاحب بھی اس صورت حال سے فکر مند تھے، ایک بار انھوں نے علیم الحق حقی سے بھی کہا کہ میں فراز کے لیے فکر مند ہوں، جب حقی نے ہمیں یہ بات بتائی تو ہم نے پھر انھیں پیش کش کی کہ آپ کیوں نہیں تیار ہوجاتے؟ حالاں کہ ہم جانتے تھے کہ اس حوالے سے معراج صاحب ہمیں کیا جواب دے چکے ہیں، حقی اس کے لیے تیار تھے لیکن ان کا کہنا یہی تھا کہ میں خود یہ بات معراج صاحب سے نہیں کہنا چاہتا۔
سسپنس اور جاسوسی کے مسائل ایک طرف ، ایک نیا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ پاکیزہ کی اشاعت میں کمی آنے لگی،معراج صاحب نے صفیہ ملک کی توجہ اس طرف دلائی اور ان سے کہا کہ پاکیزہ کے معیار پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے،صفیہ خود مختارانہ انداز میں کام کرنے کی عادی تھیں، ان کے ساتھ انا کے مسائل بھی بہت تھے،شاید یہی وجہ تھی کہ شادی بھی نہیں کی تھی،انھوں نے معراج صاحب کی بات سے اتفاق نہیں کیا ، آخر معراج صاحب نے ان سے کہا کہ آپ گھر بیٹھ جائیں، آپ کی تنخواہ آپ کو پابندی سے ملتی رہے گی اور پاکیزہ کے معاملات میں خود دیکھوں گا،یہ بات ان کی انا پر ایک ضرب شدید تھی، انھوں نے ادارہ چھوڑ دیا، پاکیزہ کی ذمے داریاں محمد رمضان کے سپرد کردی گئیں، یہ شاید 1988 ء کا ذکر ہے،محمد رمضان ہمارے کمرے سے صفیہ ملک کے کمرے میں منتقل ہوگئے تھے اور پھر وصی صاحب کے جانے کے بعد وہ وصی صاحب کے کمرے میں شفٹ ہوگئے،شاید انہی دنوں انجم انصار بھی رمضان سے رابطے میں تھیں اور معراج صاحب کو ایک ایسی خاتون ایڈیٹر کی ضرورت تھی جو گھر بیٹھ کر معاملات کو دیکھیں اور خواتین سے رابطہ کریں،انجم انصار اس حوالے سے نہایت موزوں تھیں لہٰذا انھیں مستقل طور پر رکھ لیا گیا۔

ہماری ایک غلط فہمی

اس عرصے میں ایک نیا شگوفہ کھلا، ہماری رہائش اعجاز رسول صاحب کے دفتر اور گودام کی آخری منزل پر تھی،یہ تین منزلہ عمارت عائشہ منزل اور لنڈی کوتل چوک کے درمیان واقع تھی،گراؤنڈ پر کتابوں کا گودام ، فرسٹ فلور پر دفتر اور سیکنڈ فلور پر دو کمروں کا خاصا کشادہ پورشن تھا، دو کمروں کے درمیان میں ایک بڑا صحن چھوڑ دیا گیا تھا، اکثر جمعہ کے روز احباب ہمارے گھر آجاتے جن میں سید معروف علی، توصیف احمد اور بعض دیگر دوست شامل ہوتے،کسی خاص ڈش کا اہتمام کیا جاتا ، کوئی اچھی فلم وغیرہ یا گیت مالا وغیرہ دیکھتے، سید معروف علی بلیک کوئن کے بڑے شوقین تھے لہٰذا تاش کا یہ معروف گیم بھی کھیلا جاتا، اس طرح جمعہ کی چھٹی خوش گوار انداز میں گزر جاتی۔

دو پرچوں کے مشترکہ کام کی وجہ سے اب ہمارے لیے اعجاز رسول صاحب کا کام کرنا ممکن نہیں رہا تھا اور وہ مستقل تقاضے کر رہے تھے، ایک روز انھوں نے تھوڑی سی برہمی کا مظاہرہ بھی کیا جس کی وجہ سے ہمیں یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اگر ہم نے ان کا کام نہ کیا تو وہ ہم سے اپنا مکان خالی کراسکتے ہیں،حالاں کہ انھوں نے ہر گز ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی مگر ہم جیسے دیوانوں کی دور اندیشیاں اپنی جگہ تھیں لہٰذا ہم معراج صاحب کے پاس پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کردیا، انھوں نے خاموشی سے ساری بات سنی اور کہا کہ کوشش کرو، ان کا کچھ کام بھی نمٹادو۔
ہم منہ لٹکائے واپس آگئے، ہماری پریشانی اپنی جگہ تھی ، بہر حال ہم نے اپنی جمعہ کی چھٹی منسوخ کی اور دیوتا کا ایک والیم مکمل کرکے اعجاز صاحب کے حوالے کیا، اسی طرح تقریباً تین ماہ گزر گئے، ایک روز معراج صاحب نے بلایا اور ایک چیک ہمیں دیا جو ہماری تین ماہ کی تنخواہ کے برابر تھا، ہم نے حیرت سے انھیں دیکھا تو انھوں نے کہا کہ اسے کیش کرالینا ، تم جو اضافی طور پر سسپنس کا کام کر رہے ہو، یہ اس کے لیے ہے،دوسری بات یہ ہے تمھاری رہائش کے سلسلے میں میں کوشش کر رہا ہوں، کیا تم دفتر کے قریب یعنی اسی علاقے میں رہنا پسند کروگے؟ ہم نے کہا ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے، آنے جانے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے،وہ بھی بچے گا اور کرایہ بھی‘‘
انھوں نے بتایا کہ دفتر کی گلی (جسے ہم غیبت گلی کے نام سے متعارف کراچکے ہیں) کے سامنے سڑک پار جو دوسری گلی ہے، اسی میں ایک فلیٹ مل رہا ہے ، جب بات چیت طے ہوجائے گی تو تم جاکر دیکھ لینا، ہم بڑے خوش ہوئے اور شکریہ ادا کرکے واپس اپنے کمرے میں آگئے۔
قصہ مختصر یہ کہ مزید چند مہینے گزر گئے، نیا سال 1989 ء شروع ہوگیا، شاید فروری کا مہینہ تھا، جب معراج صاحب نے دوبارہ بلاکر بتایا کہ فلیٹ بہت چھوٹا ہے، صرف ایک کمرہ ہے اور اس کے ساتھ چھوٹا سا برآمدہ ہے، تم اختر کے ساتھ جاکر دیکھ آؤ، اگر تمھارا گزارا ہوسکتا ہے تو پھر بات کرتے ہیں۔
ہم نے اختر بیگ کے ساتھ جاکر وہ فلیٹ دیکھا، بلاشبہ بہت ہی چھوٹا فلیٹ تھا، ہماری فیملی بھی اگرچہ مختصر تھی،میاں بیوی اور دو چھوٹے بچے، اعجاز صاحب کے مکان میں ہم بڑی کشادگی کے ساتھ رہ رہے تھے،ہماری مرحوم بیگم کو بھی یہ مکان بہت پسند تھا اور جب ہم نے انھیں بتایا کہ اسے چھوڑنے کا وقت آگیا ہے تو وہ بہت افسردہ ہوئیں، مختصر فلیٹ کو ہم نے اس لیے غنیمت جانا کیوں کہ یہ دھڑکا مسلسل تھا کہ اعجاز صاحب ہم سے مکان خالی کرنے کا تقاضا نہ کر بیٹھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ خوف غلط تھا، بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ اعجاز رسول بہت ہی نرم دل، انسان دوست اور نہایت وضع دار انسان تھے،اپنی وضع داری میں وہ اکثر نقصان اٹھایا کرتے تھے،ہم ان کا کام کریں یا نہ کریں وہ ہم سے کبھی بھی مکان خالی کرنے کا تقاضا نہیں کرتے اور ایک بار انھوں نے یہ بات ہم سے کہی بھی، مکان چھوڑنے اور فلیٹ میں شفٹ ہونے کے دوران میں ایک روز انھوں نے ہم سے کہا ’’آپ کیوں بہتر جگہ چھوڑ کر انتہائی گھٹن زدہ چھوٹے سے فلیٹ میں شفٹ ہورہے ہیں، کیا آپ کو مجھ سے کوئی شکایت ہے یا آپ کے ذہن میں کوئی خدشہ ہے کہ میں آپ سے مکان خالی کرالوں گا؟‘‘
ہم نے اپنے خدشے کا تو کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ بہانہ بنایا کہ ہم اتنی دور سے آنے جانے کی وجہ سے پریشان ہیں، کام بہت بڑھ گیا ہے، آپ جانتے ہیں کہ جاسوسی کے ساتھ سسپنس بھی ہم دیکھ رہے ہیں، دفتر کے قریب رہ کر ہم زیادہ بہتر طور پر کام کرسکیں گے‘‘
معلوم نہیں وہ ہمارے جواب سے مطمئن ہوئے یا نہیں، بہر حال خاموش ہوگئے،ہمارے ان کے مراسم میں کوئی فرق نہیں آیا، اب وہ ہم سے کام کے حوالے سے بھی کوئی تقاضا نہیں کر رہے تھے،بہر حال ہم دفتر کے قریب فلیٹ میں شفٹ ہوگئے۔
1989 ء بڑا ہی دلچسپ اور ہنگامہ خیز سال تھا، اس سال ادارے میں کئی اہم اور دلچسپ واقعات ہوئے،جمال احسانی ، احمد اقبال اور حسام بٹ اسی سال دفتر میں وارد ہوئے۔

بے مثل ادیب احمد اقبال

ہم پہلے بھی اپنی اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ احمد اقبال ہمارے پسندیدہ مصنفین میں سے ایک ہیں، ان کی تحریر سے شناسائی پہلے سے تھی، عالمی ڈائجسٹ میں اور داستان ڈائجسٹ میں انھوں نے بہترین انگریزی ناولوں کی تلخیص کی لیکن ان کی طبع زاد کہانیاں پڑھنے کا موقع جاسوسی کے زمانے میں ملا، شکاری ہمارے دفتر میں آنے سے پہلے سے شائع ہورہی تھی،اس کے علاوہ وہ سسپنس کے آخری صفحات کے لیے اور جاسوسی کے سرورق کے لیے بھی کہانیاں لکھ رہے تھے،ہمیں نہیں معلوم اور نہ ہم نے کبھی پوچھا کہ انھیں کیا پریشانی ہوئی جو وہ دفتر آگئے،یقیناً انھوں نے معراج صاحب سے کہا ہوگا کہ مجھے لکھنے کے لیے دفتر ہی میں ایک ٹیبل درکار ہے لہٰذا معراج صاحب نے اپنے ہی کمرے کے دوسرے حصے میں ان کے لیے ایک ٹیبل کا انتظام کردیا، مودی صاحب دفتر چھوڑ چکے تھے، انھوں نے شاید کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈ لیا تھا، ان دنوں وہ اپنا ذاتی مکان بھی بنوارہے تھے اور ہومیو پیتھی کا کورس مکمل کرکے ڈاکٹر بن چکے تھے۔

اقبال صاحب صبح وقت کی پابندی کے ساتھ دفتر پہنچتے اور اپنا کام شروع کردیتے، لنچ ٹائم پر کام چھوڑدیتے اور پھر شام 5 بجے تک لکھتے رہتے،روزانہ دو ڈھائی صفحے وہ لکھا کرتے تھے،اس طرح مہینے کے 60,70 صفحے ہوجاتے تھے،دوپہر کو لنچ ٹائم پر عموماً سب ساتھ ہی کھانا کھاتے اور کبھی کبھی ان کے لیے معراج صاحب کے گھر سے بھی کھانا آجاتا، معراج صاحب اپنے مصنفین کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔

تِرے مزاج سے پارہ بھی قول ہارگیا

ایک روز معراج صاحب نے ہم سے پوچھا ’’جمال احسانی سے واقفیت ہے؟‘‘ہم نے اثبات میں جواب دیا تو انھوں نے پوچھا ’’آج کل وہ کہاں ہے؟‘‘

یہ ہمیں بھی نہیں معلوم تھا کہ جمال کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں لہٰذا ہم نے کہا کہ معلوم نہیں، البتہ کچھ عرصہ پہلے وہ ایچ اقبال کے ساتھ ان کے نئے پرچے نئی نسلیں کے لیے کام کر رہے تھے، معراج صاحب نے کہا کہ جمال کے بارے میں معلوم کرو، میرا خیال ہے کہ وہ سسپنس کے لیے بہتر آدمی ثابت ہوگا، ہم نے ان کی رائے سے اختلاف نہیں کیا لیکن ہم جمال کو اچھی طرح جانتے تھے ، انھوں نے کبھی بھی کسی ایک جگہ زیادہ وقت نہیں گزارا، حد یہ کہ انفارمیشن کی سرکاری جاب کو بھی لات مار دی تھی، جمال کا کہنا تھا کہ جو خوشی نوکری چھوٹنے سے حاصل ہوتی ہے وہ نوکری ملنے سے بھی نہیں ملتی، ایک بار خدا معلوم کیا بات ہو رہی تھی کہ اچانک موصوف نے فرمایا ’’یار ! اگر میرے ضروری اخراجات پورے ہوتے رہیں تو کس کمینے کا دل چاہتا ہے کہ کام پر جائے‘‘
الغرض جمال بہت ہی آزاد مزاج اور جاب وغیرہ کے سلسلے میں خاصے بے پروا انسان تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
معراج صاحب کی بات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک روز ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے تاکہ اپنے کمرے کی طرف جائیں تو سامنے ہی نئے افق کے دفتر کا دروازہ تھا اور جمال احسانی دروازے ہی میں کھڑے تھے، بہت عرصے بعد آمنا سامنا ہوا تھا لہٰذا بڑی گرم جوشی سے ملے، ہم نے پوچھا کہ یہاں کیسے آنا ہوا؟ جمال نے عادت کے مطابق کوئی معقول جواب نہیں دیا، آخر ہم نے آہستہ سے کہا کہ معراج رسول صاحب تمھاری تلاش میں ہیں، انھیں سسپنس کے لیے بندہ چاہیے، اگر تمھارا موڈ ہے تو کسی وقت آ جاؤ۔
جمال کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ضرورت مند ہیں، فوراً بولے ’’کب آؤں؟‘‘
ہم نے کہا جب تمھارا دل چاہے، الغرض جمال دوسرے ہی دن دفتر آگئے، معراج صاحب سے ملاقات ہوئی اور سسپنس کی ذمے داری انھیں سونپ دی گئی، حسب معمول ہمارے سامنے والے کمرے میں انھیں بٹھادیا گیا، یہ اس اعتبار سے ایک بہت اچھا کام ہوگیا تھا کہ جمال بلاشبہ اس کام کے اہل تھے، دوسری بات یہ کہ ہم سے دیرینہ مراسم تھے، بے تکلفی تھی، باہمی طور پر کسی قسم کی چپقلش پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
جمال احسانی سے ہماری پہلی ملاقات ہمارے بہت ہی عزیز اور قابل احترام دوست شاعر احمد جاوید نے کرائی، سال ہمیں یاد نہیں ، اتنا یاد ہے کہ احمد جاوید کی سارا شگفتہ سے شادی ختم نہیں ہوئی تھی، ایک رات وہ ناظم آباد آئے تو ہمیں اور نیاز صاحب کو ساتھ لے کر فیڈرل بی ایریا پہنچ گئے، جمال احسانی ان دنوں فیڈرل کیپٹل ایریا کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھے، اس طرح جمال احسانی سے شناسائی کا آغاز ہوا، پھر کبھی کبھی اکّا دکّا اتفاقیہ ملاقاتیں ہوتی رہیں لیکن بہت زیادہ ملنا جلنا بہر حال نہیں تھا، جب وہ دفتر آگئے تو اب کوئی تکلف ، کوئی حجاب باقی نہیں رہا۔

عجیب آدمی

شاید جس روز جمال احسانی کا دفتر میں پہلا دن تھا، اس سے چند روز پہلے حسام بٹ بھی دفتر آئے، ان کا قصہ بڑا دلچسپ ہے،حسام بٹ کا پیدائشی نام عبدالرشید تھا، گوجرنوالہ میں پیدا ہوئے اور ڈائجسٹ پڑھنے کے شوق نے انھیں دیوتا اور دوسرے معنوں میں محی الدین نواب کا زبردست فین بنا دیا، وہ اکثر نواب صاحب کو ادارے کی معرفت خطوط لکھا کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ کراچی آکر نواب صاحب کی شاگردی اختیار کریں، انھوں نے نواب صاحب کے انداز میں شاید کچھ کہانیاں بھی لکھ کر روانہ کی تھیں لیکن معراج صاحب نے زیادہ توجہ نہ دی تو بٹ صاحب نے ایک نیا راستہ اختیار کیا، وہ ایک خط روزانہ کی بنیاد پر لکھا کرتے تھے لہٰذا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب ان کا خط معراج صاحب کو نہ ملتا ہو، یہ خطوط نواب صاحب کی بھی نظر سے گزرتے رہے، آخر کار انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس بندے کو کراچی بلا لیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔

حسام بٹ کے گوجرنوالہ سے کراچی آنے کا اصل ماجرا ہمارے علم میں بس اتنا ہی تھا جب وہ کراچی آئے تو ان کے پاس رہائش کے لیے بھی کوئی انتظام نہیں تھا، معراج صاحب نے انھیں محمد رمضان کے حوالے کیا اور پاکیزہ کی پروف ریڈنگ کی ذمے داری ان پر ڈال دی گئی،اس کے علاوہ ان سے کہا گیا کہ اگر آپ کہانیاں لکھ سکتے ہیں تو لکھیں، نواب صاحب بھی ان سے مل کر بہت خوش ہوئے، اپنی رہائش کے لیے انھوں نے دفتر ہی میں رہنا پسند کیا لہٰذا وہ اسی کمرے میں سوجایا کرتے تھے جس میں دن بھر کام کرتے تھے، ہمیں یہ اطلاع تو مل گئی تھی کہ گوجرنوالہ سے کوئی صاحب آئے ہیں اور اب وہ پاکیزہ میں رمضان کی معاونت کریں گے لیکن کئی روز تک ملاقات نہیں ہوئی کیوں کہ وہ زیادہ تر اپنے کمرے تک ہی محدود رہتے تھے اور ہمارا بھی اس طرف جانا بہت کم تھا، ہم دو پرچوں کے درمیان پھنسے ہوئے تھے ، جمال کی آمد سے یہ اطمینان ہوگیا تھا کہ آئندہ مہینے سے کچھ سکون کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔

ایک یادگار پکنک

شاید اپریل 1989 ء کی ہی کوئی تاریخ تھی ، سرکولیشن والوں نے ہاکس بے پر پکنک کا پروگرام بنایا جس میں ایڈیٹوریل اسٹاف کے علاوہ احمد اقبال بھی اس لیے شامل ہوگئے کہ اب وہ بھی دفتر کے ایک رکن تھے، جمال احسانی نے بھی شرکت کی حامی بھری لیکن یہ کہا کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں چلوں گا بلکہ اپنی فیملی کے ساتھ ہاکس بے پہنچ جاؤں گا، بہر حال پورا دفتر ہاکس بے پہنچ گیا، وہاں کوئی ہٹ وغیرہ بھی بک کرائی گئی تھی ، اقبال صاحب کے گھر سے پائے خصوصی ڈش کے طور پر آئے تھے، مزید یہ کہ اقبال صاحب کا ایک جاپانی وی سی آر بھی لے جایا گیا، اداکارہ ریکھا کے گیت مالا اقبال صاحب کو اور ہمیں بھی بہت پسند تھے ، وہ بھی منگوائے گئے، الغرض ایک بڑی شاندار تفریح 24 گھنٹے کے لیے میسر آئی، حسام بٹ کو اچھی طرح دیکھنے کا موقع ہمیں اسی پروگرام میں ملا، صبح صبح جمال احسانی ٹیکسی کرکے بیوی بچوں کے ساتھ ہاکس بے پہنچ گئے ، وہ بھی گھر سے قورمہ بریانی وغیرہ پکوا کر لائے تھے، ان کی بیگم بہت اچھا کھانا بناتی ہیں اور جمال کھانے کے معاملے میں کسی کمپرومائز کے قائل نہیں تھے،جمال کی بھوک کا بھی ایک وقت مقرر تھا اور کھانا بہت عمدہ درکار ہوتا تھا۔

ہمارا فلیٹ چوں کہ دفتر کے بہت ہی قریب یعنی چند قدم کے فاصلے پر تھا اور ہماری مرحوم بیگم بھی بہت عمدہ کھانے بنایا کرتی تھیں، ہم بازار کا کھانا نہیں کھاتے تھے، لنچ ٹائم پر دفتر کا پیون ہمارے گھر سے تازہ اور گرم کھانا لے آتا، جمال ہمارے گھر کے کھانے کے عاشق تھے، اکثر تو وہ یہ کرتے کہ صبح صبح ایک کلو موٹا قیمہ لاکر ہمارے گھر پہنچاتے ہوئے دفتر آتے، کبھی چاول اور ملکہ مسور کی دال لے آتے، دروازہ کھٹکھٹاکر ہماری بیوی کو دیتے کہ بھابھی آج دوپہر میں یہ کھانا ہوگا، ہم عام طور سے رات دیر تک کام کرنے کے عادی تھے لہٰذا گیارہ بارہ بجے سے پہلے سوکر نہیں اٹھتے تھے، ہمیں پتا بھی نہیں چلتا تھا کہ جمال کیا ہنر دکھا گئے ہیں، اس وقت معلوم ہوتا جب ٹھیک بارہ بجے جمال کمرے میں داخل ہوتے اور ہم سے کہتے کہ پیون کو گھر بھیج دو، کھانا لے آئے، آج فلاں ڈش ہوگی تو ہم چونکتے، تمھیں کیسے معلوم کہ گھر میں کیا پکایا گیا ہے، اس پر جمال کا بھرپور قہقہ لگاتے اور پھر وہ بتاتے کہ صبح کیا کاری گری کرکے آئے تھے۔

شکیل عدنان

ایک نہایت اہم اور باصلاحیت بندے کا ذکر کرنا ہم بھول گئے، ان کا نام شکیل عدنان ہے،سنا ہے آج کل شاید کینیڈا میں ہیں، یہ علیم الحق حقی کے کزن ہیں، تعلیم یافتہ، بے حد مذہبی، باریش نوجوان تھے، حقی کے شاگردوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے، حقی ہی کی سفارش پر انھیں سسپنس کی پروف ریڈنگ کے لیے رکھا گیا تھا لہٰذا اب وہ جمال احسانی کے معاون کے طور پر انہی کے کمرے میں بیٹھتے تھے، شکیل عدنان نے کہانیوں کے ترجمے بھی کیے اور بعد ازاں وہ سسپنس کے مدیر کے طور پر بھی کام کرتے رہے،جب سب رنگ ڈائجسٹ دوبارہ شاید 2007 ء میں شائع ہونا شروع ہوا کیوں کہ شکیل عادل زادہ نے سب رنگ کا ڈکلیریشن لاہور اور دبئی کے ایک ڈسٹری بیوٹر ملک صاحب کو دے دیا تھا، مدیر کے طور پر شکیل عادل زادہ کام کر رہے تھے لیکن ’’بازی گر‘‘ وقت پر مکمل نہ ہونے کے باعث سب رنگ کی اشاعت میں پھر تاخیر ہونے لگی لہٰذا شکیل صاحب اور سب رنگ کے نئے پبلشر کے درمیان اختلاف ہوا، شکیل صاحب نے پرچے کی ادارت سے خود کو علیحدہ کرلیا، اس کے بعد کچھ عرصہ شکیل عدنان سب رنگ کے مدیر رہے، یہ ایک الگ قصہ ہے ، اس کی مزید تفصیل آئندہ کسی وقت بیان ہوگی۔

نئے رنگ ڈھنگ

1989 ء میں جمال احسانی کی آمد کے بعد صورت حال بہت بہتر ہوگئی، جمال اگرچہ کاپی پیسٹنگ کے رموز و نکات سے واقف نہ تھے، انھوں نے ابتدا ہی میں کھل کر اس کا اظہار کر دیا تھا لہٰذا پہلے پرچے میں ہم ان کی جو مدد کر سکتے تھے ، وہ ہم نے کی، اس کے بعد ایک آرٹسٹ خالد باری کو یہ ذمے داری دے دی گئی، خالد باری بعض دوسرے ڈائجسٹوں میں اسکیچز بنایا کرتے تھے جس سے گزارا نہیں ہوتا تھا، وہ پیسٹنگ کا کام بھی جانتے تھے لہٰذا بطور پیسٹر انھیں رکھ لیا گیا۔

ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز ایک نئے دور میں داخل ہوچکا تھا، بہت سے پرانے لوگ رخصت ہو چکے تھے اور ان کی جگہ نئے نام آگئے تھے، جاسوسی ڈائجسٹ کی ذمے داری ہم پر تھی، ہمارے ساتھ معاونت کے لیے بلال احمد تھے، سسپنس کی ذمے داری جمال احسانی پر اور ان کے معاون شکیل عدنان، ماہنامہ پاکیزہ محمد رمضان خان کی ذمے داری تھا، ایک لڑکی جس کا نام یاد نہیں آ رہا، ان کی معاونت کرتی تھی، اب حسام بٹ بھی ان کے ساتھ جڑ گئے تھے۔

جمال احسانی ایک منفرد شاعر تھے، ان کا بڑا حلقہ ء احباب تھا، دنیا بھر میں مشاعروں میں شرکت کی وجہ سے یہ حلقہ ء احباب بہت وسیع ہوچکا تھا، کراچی کا تو کوئی شاعر یا ادیب ایسا نہیں ہوگا جس سے جمال کی رہ و رسمِ آشنائی نہ رہی ہو، اُردو شاعری میں اس زمانے میں دو گروپ بہت اہم حیثیت رکھتے تھے ، ایک روایت پسند اور ایک جدت پسند، روایت پسندی کے سب سے بڑے وکیل مرحوم سلیم احمد اور ان کے رفقاء تھے جب کہ جدیدیت کا مقدمہ افتخار جالب اور ان کے ہم نوا لڑ رہے تھے،جمال احسانی ، سلیم احمد کے گروپ میں تھے، ان دونوں گروپوں کے درمیان جون ایلیا سب سے الگ تھلگ تھے، جمال کا کمال یہ تھا کہ وہ دونوں گروپوں میں بھی نظر آتے تھے اور جون ایلیا یا عبید اللہ علیم کے بھی بہت قریب تھے بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ جمال احسانی کسی سے دور ہی نہیں تھے ، وہ تقریباً سب سے ہی قریب تھے تو یہ بات غلط نہیں ہوگی۔
جاسوسی کے دفتر میں جمال کی موجودگی سے بہت سے شاعروں ، ادیبوں اور نقادوں کی آمد و رفت بڑھ گئی اور ان کی وجہ سے ہمارے حلقۂ احباب میں بھی اضافہ ہوا، فقیر عارف امام مقیم امریکا سے انہی دنوں شناسائی ہوئی تھی، انیق احمد جو آج کل دنیا ٹی وی پر صبح کی نشریات میں نظر آتے، انہی دنوں ملے،صغیر ملال (مرحوم)، ساجد امجد، غلام قادر اور بہت سے لوگ جن کے نام اب ذہن میں نہیں ، جمال ہی کی معرفت متعارف ہوئے۔
جمال بہت سحر خیز تھے، دوسرے معنوں میں جوش ملیح آبادی کے پیروکار تھے یعنی صبح سویرے اٹھنا اور رات کو جلد سونا ان کا معمول تھا، اکثر ایسا ہوتا کہ ہم معمول کے مطابق گیارہ بجے تک دفتر پہنچتے اور ابھی سنبھلنے بھی نہ پاتے کہ جمال ہمارے کمرے میں داخل ہوجاتے اور شہر بھر کی بلکہ دنیا بھر کی تازہ ترین ادبی یا سیاسی صورت حال پر گفتگو شروع ہوجاتی، ہم پوچھتے کہ بھائی ! کیا کام نہیں کرنا ؟ اور ان کا جواب ہوتا، سب کام نمٹا کے آیا ہوں، گویا صبح آٹھ بجے دفتر آجاتے اور تین گھنٹے میں ڈھیروں کام نمٹاکر آزاد ہوجاتے،ٹھیک بارہ بجے جمال کو کھانا یاد آجاتا اور اگر کھانے کی آمد میں تاخیر ہوتی تو پھر جمال کی حالت دیکھنے والی ہوتی تھی۔
حسب روایت کوئی بھی اپنی ماہانہ تنخواہ سے مطمئن نہیں ہوتا کیوں کہ پاکستان میں مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہوں کا معاملہ کبھی اصول و قواعد کے مطابق نہیں ہوتا، خصوصاً پرائیویٹ سیکٹر اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے،وہ اپنے کاروباری مفادات کے مطابق ہی فیصلے کرتا ہے اور اس کا فیصلہ آخری ہوتا ہے، اگر آپ کو منظور نہ ہو تو پھر کوئی اور ادارہ دیکھیں۔
تھوڑے ہی دن بعد جمال نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا، ایسا نہیں ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے ساتھ نہیں تھا، ہم بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ دوسرے ذرائع بھی اختیار کرتے تھے لہٰذا ہم نے جمال کو مشورہ دیا کہ کہانیاں لکھو لہٰذا سرورق کی ایک کہانی انھیں لکھنے کے لیے دی گئی، اس دوران میں جمال کے حسام بٹ سے تعلقات بہت گہرے ہو چکے تھے کیوں کہ دونوں ایک ہی کمرے کے الگ الگ پورشن میں بیٹھتے تھے،حسام بٹ سے ہمارے تعلقات بھی بہتر ہو گئے تھے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ رات کو دفتر ہی میں رہتے تھے اور ہمارا معمول یہ تھا کہ شام کو دفتر سے گھر جاکر تھوڑا آرام کرتے اور پھر رات کا کھانا کھاکے واپس 9 بجے تک دفتر آجاتے ، اس کے بعد جب تک کام ، تب تک دفتر میں قیام، اکثر رات کے دو تین بج جاتے اور حسام بٹ ہمارے ساتھ ہوتے، اس دوران میں دنیا بھر کی باتیں بھی جاری رہتیں،کبھی کبھی چہل قدمی کا موڈ ہوتا تو ہم دونوں پیدل ہی کسی گشت پر نکل جاتے، دفتری امور کے علاوہ دیگر موضوعات بھی زیر بحث رہتے مثلاً انگلش فلموں سے اور خصوصاً مارشل آرٹ کی فلموں سے بٹ صاحب کو بہت دلچسپی تھی،انھوں نے ہمیں بھی کئی فلمیں دکھائیں، ٹیلی پیتھی، ہپناٹزمکا موضوع بھی ان کا پسندیدہ تھا لیکن ایک عالم تشکیل میں رہتے تھے،ہم سے سوالات پر سوالات کرتے رہتے اور ہم یہ سمجھتے ہوئے کہ اچھا ہے ان کی معلومات میں اضافہ ہورہا ہے ، جواب دیتے رہتے لیکن کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے وہ ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں،کبھی کبھی بہت عجیب بہکی بہکی باتیں شروع کر دیتے لیکن سب سے زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ وہ ہمیں دفتر کے ہر شخص کے بارے میں جو رپورٹنگ کرتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ یہی کام وہ جمال احسانی اور احمد اقبال کے ساتھ بھی یا رمضان یا کسی اور کے ساتھ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے نتیجے میں اکثر دفتر میں ماحول خراب ہونے لگا، جمال تو بہت زمانہ شناس اور گھاگ بندہ تھا، اسے چکر دینا کوئی آسان کام نہ تھا، وہ اکثر کہا کرتا کہ جناب ’’ایک سو ایک ودیّا تو ہمیں خود آتی ہیں اب اس سے زیادہ اگر کوئی جانتا ہے تو سامنے آئے‘‘۔

Close Menu