Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈائجسٹوں کی الف لیلیٰ (قسط ۔ 5)

سیّد انور فراز

سنسر کا دور

سنسر کی سختیاں عروج پر تھیں، پرچوں میں چھپنے والا تمام مواد بڑی باریک بینی سے پڑھا جاتا،جس رائٹر کے بارے میں بھی یہ خدشہ ہوتا کہ اس کا قلم بہک سکتا ہے، معراج صاحب خود اس کا مسودہ دیکھتے، اس دور میں شکاری کے بعد دوسری مقبول ترین قسط ”گمراہ“ تھی جسے جبار توقیر صاحب لکھا کرتے تھے ، وہ بڑے بے باک رائٹر تھے، ان کے افسانوں کو سعادت حسن منٹو جیسے لوگوں نے پسند کیا تھا، انہوں نے پی ٹی وی کے لیے ایک ڈراما سیریل بھی لکھا تھا ، جبار صاحب راولپنڈی ریڈیو میں نیوز ایڈیٹر تھے۔
گمراہ کا پس منظر پنجاب کے گاو¿ں دیہات تھے اور موضوع جرم و سزا تھا،جب کہ لکھنے والا جبار توقیر جیسا معاشرے کا جرّاح لہٰذا اس زمانے کے لحاط سے سب سے زیادہ خطرناک کہانی گمراہ تھی لہٰذا فوری طور پر گمراہ کو بند کر دیا گیا اور اس کی جگہ نئی سلسلہ وار کہانی ”مجاہد“ شروع کی گئی، یہ نام بھی اس زمانے کی مناسبت سے خان آصف نے تجویز کیا تھا اور اس کا شاہکار انٹرو بھی انہی کا تحریر کردہ تھا جو کبھی تبدیل نہیں کیا گیا، خاص طور پر یہ مصرع

جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں جب خونِ جگر برفاب ہوا۔

’’مجاہد‘‘ جناب ایم اے راحت نے تحریر کی تھی اور معراج صاحب کے پاس اس کی تقریباً 25 سے زیادہ اقساط تحریر شدہ موجود تھیں جب کہ ہر ماہ راحت صاحب ایک قسط لکھ کر پابندی سے بھیج دیتے تھے اور قسط کا طے شدہ معاوضہ وصول کرلیتے تھے مگر معراج صاحب اس کو شائع نہیں کرتے تھے، اس کا پس منظر بھی بیان کرتے چلیں۔
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب راحت صاحب ادارے کے ”اسٹار رائٹر“ تھے بلکہ جاسوسی ڈائجسٹ کے پہلے شمارے میں ان کا نام انر ٹائٹل پر ادارۂ تحریر میں شامل تھا، کیسی دلچسپ بات ہے کہ جب جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز ہوا تو اس کے پہلے مدیر جناب ایچ اقبال (ہمایوں اقبال) تھے اور ادارۂ تحریر میں ایم اے راحت اور اقلیم علیم شامل تھے، سب سے پہلے ایچ اقبال الگ ہوئے لیکن اقلیم صاحب اور راحت صاحب ادارے کی ریڑھ کی ہڈی بنے رہے، اقلیم صاحب کبھی بھی بہت زیادہ لکھنے والے رائٹر نہیں تھے، وہ ایک مہینے میں ایک ہی قسط لکھتے تھے اور وہ بھی اس وقت جب پرچے کی آخری کاپیاں سر پر آ جاتیں، اس کے برعکس راحت صاحب بہت زیادہ لکھتے تھے، اس کی وجہ مالی مسائل تھے، زیادہ لکھنے کے لیے انہوں نے یہ طریقہ بھی ایجاد کیا کہ کہانی ریکارڈ کرانی شروع کی ، ہم نے سنا ہے کہ وہ بیک وقت دو کہانیاں بھی ریکارڈ کرایا کرتے تھے مگر پھر ایک وقت ایسا آیا کہ جب ان کے معراج صاحب سے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور اس کی وجہ ان کے مالی مسائل تھے، انہوں نے ایک شادی اور کرلی تھی جس کی وجہ سے ان کے مطالبات روز بہ روز بڑھنے لگے تھے، ایک موقع پر تحمل اور تدبر کے پیکر معراج رسول کی برداشت جواب دے گئی اور انہوں نے راحت صاحب سے تعلق توڑ لیا، ایک بار انہوں نے اس واقعے کا ہم سے تذکرہ کیا اور بتایا کہ وہ ایم اے راحت سے کیوں ناراض ہوئے؟
حقیقت یہ ہے کہ راحت صاحب مقبولیت کے اس مقام پر تھے جہاں بڑے بڑوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ناگزیر ہیں، ہمارے بعد اندھیرا ہو جائے گا، اپنے مطالبات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخی کو حکمت اور دانش مندی سے کم کرنے کے بجائے انہوں نے آؤٹ ڈور کلرک سے کہا کہ نئی قسط میں تمہیں نہیں دوں گا، معراج رسول سے کہو کہ خود آئے، ہمیں نہیں معلوم کہ راحت صاحب نے یہ جملہ ایسے ہی کہا تھا یا کسی اور انداز میں؟ بہر حال آؤٹ ڈور کلرک کے ذریعے معراج صاحب تک اسی طرح پہنچا اور انہوں نے ہمیں یہی بتایا، ہمیں بعد میں بھی کئی بار یہ تجربہ ہوا کہ درمیان کے لوگ الجھے ہوئے معاملات کو سلجھا بھی سکتے ہیں اور الجھا بھی سکتے ہیں، اکثر آؤٹ ڈور کلرکس رائٹر سے ناخوش رہا کرتے تھے کیوں کہ بعض مواقع پر ان کی عزت نفس اس لیے مجروح ہوتی تھی کہ انہیں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی مثلاً گھر کے باہر دھوپ میں دیر تک کھڑا رہنا پڑا اور رائٹر یا اس کے گھر والوں نے اندر بلا کر پانی کو بھی نہ پوچھا یا پھر بار بار گھر کے چکر لگوائے وغیرہ وغیرہ، یہ چھوٹی سطح کے لوگ موقع کی تلاش میں رہتے تھے اور مناسب وقت پر کام دکھا دیتے تھے۔
راحت صاحب سے ہماری ملاقاتیں رہی ہیں اور ہم نے انہیں بہت شائستہ ، نرم مزاج، دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والا انسان پایا ہے، بات چیت کے دوران میں کسی تکبر میں بھی مبتلا نہیں دیکھا، یقین نہیں آتا کہ انہوں نے معراج صاحب کو اس نوعیت کا پیغام بھیجا ہوگا۔
معراج صاحب جیسا کہ ہم نے پہلے بھی نشان دہی کی ہے کہ وہ صبر و تحمل اور برداشت کا ایک پہاڑ ہیں، ہمارا یہ مشاہدہ 21 سالہ رفاقت پر محیط ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش 5 اگست تھی، اس طرح ان کا شمسی برج (Sun sign) برج اسد (Leo) تھا جس میں شاہانہ مزاجی اور انا بلا کی ہوتی ہے، کھلے دل کے مالک اور فیاض ہوتے ہیں، اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں اور خوشامد سے خوش ہوتے ہیں، اس کے برعکس صورت حال ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے، چناں چہ معراج صاحب خود راحت صاحب کے گھر گئے لیکن کہانی لینے نہیں بلکہ یہ کہنے کہ آج کے بعد مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے۔
شاید راحت صاحب کو ایسی کوئی امید نہیں تھی، وہ اپنی مقبولیت کے راج سنگھاسن پر براجمان نہایت مطمئن و مسرور تھے، حیرت سے ان کا منہ کھلا رہ گیا اور معراج صاحب واپس آگئے، اس کے بعد راحت صاحب کے زوال کا آغاز ہوا، معراج صاحب کے علاوہ اُس وقت کوئی ادارہ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ راحت صاحب کو افورڈ کرسکے یا اُتنا معاوضہ دے سکے جتنا معراج صاحب دے رہے تھے لہٰذا بعد ازاں وہ عمران ڈائجسٹ اور شاید مسٹری میگزین میں لکھنے لگے اور یہ ایسی ہی بات تھی کہ انسان عرش سے فرش پر آ جائے لیکن محمود ریاض یا مسٹری کے غوری صاحب ان کی ضروریات پوری کرنے کے اہل ہر گز نہیں تھے، راحت صاحب کے لیے اب جو مسائل پیدا ہوئے تو اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ بہت زیادہ لکھنا شروع کر دیا جس سے کہانیوں کا معیار برقرار نہیں رہا۔
لیکن ادارے میں ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو راحت صاحب سے خصوصی محبت اور عقیدت رکھتی تھی اور معراج صاحب پر گہرا اثر ڈال سکتی تھی، ان کا نام غلام کبریا بیگ تھا، معراج صاحب کے ابتدائی زمانے کے ساتھیوں میں تھے، جاسوسی، سسپنس کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں انہوں نے بڑی محنت کی تھی لہٰذا معراج صاحب ان کی جائز تو جائز ، ہم نے دیکھا کہ ناجائز بات بھی نہیں ٹالتے تھے، بیگ صاحب راحت صاحب کے زبردست فین تھے انہیں ملک کا سب سے بڑا کہانی کار تسلیم کرتے تھے، اس صورت حال نے راحت صاحب کو بیگ صاحب تک پہنچا دیا لیکن چوں کہ معاملہ گرم تھا اور غلطی بہر حال راحت صاحب کی تھی چناں چہ بیگ صاحب نے انہیں کچھ عرصہ صبر کرنے کی تلقین کی اور پھر کسی مناسب موقع کو دیکھ کر راحت صاحب کی سفارش کی، ان کی تنگ دستی اور زبوں حالی کا حوالہ دیا، یہ تک کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں راحت کو لا کر آپ سے معافی مانگنے پر راضی کرسکتا ہوں۔
لیکن معراج صاحب کی ایک ادا ہمارے مشاہدے میں یہ بھی آئی کہ جب کوئی ان کے دل سے اُتر جاتا تو پھر وہ اُس کی طرف سے ہمیشہ کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کر لیا کرتے تھے، بقول شکیل احمد ضیا

بعض آ تغافل سے ورنہ اہل دل اکثر
جس کو بھول جاتے ہیں اُس کو بھول جاتے ہیں

معراج صاحب نے راحت صاحب کی ادارے میں حسب سابق واپسی کو قبول نہیں کیا لیکن بیگ صاحب کی بات بھی نہیں ٹالی اور ان کی مالی مدد کے لیے ایک سلسلہ وار کہانی شروع کرنے کی اجازت دے دی تاکہ ہر مہینے ایک قسط وہ لکھ کر بھیج دیا کریں اور اس کا معاوضہ انہیں دے دیا جائے، اس طرح ”مجاہد“ لکھی گئی لیکن اسے شروع کرنے کا مرحلہ اُس وقت آیا جب ’’گمراہ‘‘ ڈراپ کی گئی۔
گمراہ کی ریڈر شپ نے سخت احتجاج کیا، دفتر میں فون اور قارئین کے خطوط کا انبار لگ گیا، بعض قارئین نے تو دھمکی دی کہ اگر آئندہ شمارے میں گمراہ نہ ہوگی تو وہ پرچا خریدیں گے ہی نہیں، معراج صاحب اس صورت حال سے پریشان ہو گئے، اُس وقت معراج صاحب کے قریبی مشیر خان آصف تھے، انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے جاسوسی میں تیسری قسط کے طور پر گمراہ کو بھی جاری رکھا جائے اور سخت ایڈیٹنگ کے بعد شائع کیا جائے تاکہ مارشل لائی سنسر شپ کے کوڑے سے محفوظ رہیں۔
ان دنوں معراج صاحب ہر مسودہ خود پڑھتے یا خان صاحب کے حوالے کرتے مگر گمراہ کا مسودہ جبار توقیر صاحب جس جناتی رسم الخط میں لکھتے تھے وہ ان سے نہیں پڑھا گیا، چناں چہ طے یہ ہوا کہ یہ ذمے داری انور فراز پر ڈال دی جائے یوں گمراہ کی قسطیں ہمارے سپرد کر دی گئیں اور ستمبر سے جاسوسی ڈائجسٹ میں تین قسط وار کہانیاں شروع ہو گئیں، گمراہ، شکاری اور مجاہد۔
جہاں تک سسپنس کا تعلق ہے تو اس میں نواب صاحب کی دیوتا کے علاوہ دوسری سلسلہ وار کہانی جناب انوار صدیقی لکھ رہے تھے جو ہندو دیو مالا پر انحصار کرتی تھی، اسے بھی فوری طور پر بند کیا گیا اور اس کی جگہ ”موت کے سوداگر“ کا آغاز ہوا، یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ موت کے سوداگر بھی اقلیم علیم صاحب کافی پہلے سے لکھ رہے تھے اور اس کی شاید پندرہ بیس اقساط موجود تھیں اور جب تک یہ اقساط ختم نہ ہوگئیں، اقلیم صاحب نے شاید نئی قسط نہیں لکھی اور ماضی کی طرح ایک بار پھر وہی پرانا سلسلہ شروع ہوگیا جو مفرور کے زمانے میں تھا یعنی جب کاپی پیسٹنگ آخری مرحلے میں داخل ہوتی تو اقلیم صاحب قسط لکھنے بیٹھتے، یہ الگ بات ہے کہ وہ اکثر پوری کہانی دو تین روز ہی میں نمٹا دیا کرتے تھے۔
خان صاحب ادارے میں معراج صاحب کے بعد سب سے زیادہ اہم پوزیشن کے حامل ہو چکے تھے، جاسوسی کی ادارت، ماہنامہ پاکیزہ میں اولیا اللہ کے سوانح اور جاسوسی ڈائجسٹ میں امام اعظم امام ابو حنیفہ کے سوانح لکھ رہے تھے اور ساتھ ہی معراج صاحب کے ساتھ مل کر ایک نیا پرچا ”عالمگیر“ نکالنے کی تیاریاں بھی جاری تھیں۔
اسی زمانے میں روزنامہ جسارت میں صلاح الدین صاحب کے بعد عبدالکریم عابد دوبارہ ایڈیٹر ہوگئے ، انہوں نے خان صاحب کو پہلی فرصت میں بلایا اور قطعہ نگاری دوبارہ شروع ہوگئی، گویا اب ہر طرف خان آصف کا طوطی بول رہا تھا اور مالی طور پر بھی انہیں معقول آمدن ہو رہی تھی، مصروفیات بڑھ چکی تھیں، روزنامہ جسارت میں ہر روز ایک قطع ، جاسوسی ڈائجسٹ میں ائمہ کے سوانح اور پاکیزہ ڈائجسٹ میں اولیا اللہ کے واقعات، جاسوسی ڈائجسٹ کی ادارت اور ایک نئے پرچے عالمگیر کے اجرا کی تیاریاں، خان صاحب کو سر کھجانے کی فرصت نہ تھی، طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اس صورت حال میں کسی زلفِ گرہ گیر کے اسیر بھی ہو گئے، یہ واقعہ نہایت جاںسوز تھا ، اب صورت حال یہ تھی کہ بقول شکیل احمد ضیاء

یا تِرا تذکرہ کرے ہر شخص
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے

کاروباری معاملات کو کاروباری انداز میں دیکھنا اور چلانا ہی مناسب ہوتا ہے، شاید اسی لیے ایک بار شکیل عادل زادہ صاحب سے جب پوچھا گیا کہ جناب آپ کا پرچا سب رنگ مقبولیت کی انتہا کو پہنچ کر بھی آخر کار بند ہوگیا جب کہ معراج رسول صاحب کے پرچے پابندیٔ وقت کے ساتھ شائع ہوتے ہیں اور روز بہ روز ترقی بھی کر رہے ہیں تو آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
شکیل صاحب نے جواب دیا ”معراج رسول کاروباری آدمی ہیں اور میں کاروباری نہیں ہوں“
بلاشبہ وہ تمام لوگ جو بنیادی طور پر تخلیقی صلاحیتوں کے حامل، رائٹر یا شاعر یا آرٹسٹ تھے، پبلشنگ کے کاروبار میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرسکے اور اگر کامیاب ہوئے بھی تو اپنی کامیابی کو برقرار نہ رکھ سکے، ایسے لوگوں میں سرفہرست شکیل عادل زادہ، ضیا شہزاد، ریاض فرشوری، خان آصف وغیرہ کی مثال دی جاسکتی ہے، معراج رسول بنیادی طور پر نہ شاعر تھے ، نہ ادیب، وہ مکمل طور پر ایک کاروباری آدمی تھے، ان کے والد بھی کتابوں کی پبلشنگ کے شعبے سے وابستہ تھے اور انہوں نے بھی اپنے کیرئیر کا آغاز کتابوں کی پبلشنگ ہی سے کیا، بعد میں انہیں جاسوسی ڈائجسٹ نکالنے کا خیال آیا تو انہوں نے اس وقت کے تین مشہور رائٹرز کو اپنے ساتھ لے کر جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز کیا، جاسوسی ڈائجسٹ کے پہلے مدیر ایچ اقبال تھے اور ایم اے راحت، اقلیم علیم کی معاونت بھی انہیں حاصل تھی،شاید ڈیڑھ دو سال ہی ایچ اقبال ساتھ رہے پھر علیحدہ ہوکر اپنا ڈائجسٹ الف لیلہ کے نام سے نکال لیا، بہر حال یہ ایک الگ قصہ ہے۔
معراج صاحب کاروباری معاملات میں بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے اور خود بھی نہایت محنتی تھے، وہ صبح 9 بجے دفتر آجاتے اور پھر واپسی کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں تھا، ایسا شخص یہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ ان کا ایڈیٹر شام کو آفس آئے؟
خان صاحب کی دفتر آمد و رفت پر وہ نظر رکھتے تھے لیکن اس پر انہوں نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا مگر یہ بات انہیں ناپسند ضرور تھی، معراج صاحب کی ایک ادا یہ بھی تھی کہ وہ کام کے آدمی کی قدر کرتے تھے اور اس کے ناز نخرے اٹھانے میں بھی کبھی کمی نہیں کرتے تھے لیکن جو بات معراج صاحب اور خان آصف کے درمیان وجہ تنازع بنی اور جس کی وجہ سے اچانک ہی دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی، وہ نئے پرچے عالمگیر کا اجرا تھا۔
سسپنس اور جاسوسی میں عالمگیر کے اشتہارات کی اشاعت شروع ہوچکی تھی اور ڈکلیریشن کے حصول کی کوششیں جاری تھیں، خان صاحب چاہتے تھے کہ عالمگیر کا ڈکلیریشن ان کے نام پر ہو اور سرمایہ کاری معراج صاحب کریں، یہ بات معراج صاحب کے لیے قابل قبول نہیں تھی جو اپنے کاروبار میں کسی دوسرے کی شراکت کے قائل نہیں تھے، خان صاحب کا خیال یہ تھا کہ وہ معراج رسول کو اس بات پر آمادہ کر لیں گے، ہم اس وقت تک معراج صاحب سے زیادہ واقف نہیں تھے لیکن ہمیں یقین نہیں تھا کہ معراج صاحب اس مطالبے پر خان صاحب کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے، ہمیں نہیں معلوم کہ اس حوالے سے خان صاحب نے کیا دباؤ ڈالا لیکن ان کی باتوں سے یہ اندازہ ضرور ہوتا تھا کہ وہ بھی ایم اے راحت یا دیگر مصنفین کی طرح اس غلط فہمی میں ہیں کہ معراج صاحب اپنے ایک اہم رائٹر کو کھونا پسند نہیں کریں گے، شاید یہی ان کی غلطی تھی پھر یہ بھی ہوا کہ خان صاحب نے دفتر آنا کم کر دیا، صرف جاسوسی کے آخری دنوں میں وہ تھوڑی دیر کے لیے آفس آتے، ہم سے کہانیاں سنتے اور نوٹس وغیرہ لکھ کر دے دیتے یا ڈمی تیار کرا دیتے تاکہ پرچے کی پیسٹنگ شروع کی جائے، اس طرح ان کے اور معراج صاحب کے درمیان غیر محسوس طور پر فاصلہ بڑھنے لگا۔
ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ ہماری صحت کے مسائل بگڑنا شروع ہو گئے تھے اور اس کی وجہ کام کی زیادتی اور بے آرامی تھی، مزید پریشان کن بات یہ ہوئی کہ مالک مکان نے ہمیں مکان خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا کہ ہر صورت میں یکم جنوری 1985ء کو مکان خالی کر دیا جائے، شاید نومبر 84 ء کی بات ہے کہ خان صاحب کی والدہ سخت بیمار ہوئیں اور ہم عیادت کے لیے ایک بار بھی ان کے گھر نہیں گئے کیوں کہ اپنی طبیعت کی خرابی، دفتر میں صبح 9 بجے سے رات 7,8 بجے تک کام لہٰذا وقت ہی نہیں ملا، خان صاحب کئی روز کے بعد جب دفتر آئے تو خاصے بدلے ہوئے نظر آئے، ہم سے بڑے اکھڑے اکھڑے لہجے میں کام کے حوالے سے ضروری بات چیت کی جس پر ہم بڑے حیران ہوئے اور ہمیں افسوس بھی ہوا لیکن ہم نے زیادہ اہمیت نہیں دی، یہی سوچا کہ ممکن ہے اپنی کسی پریشانی کی وجہ سے ان کا رویہ ایسا رہا ہوگا، مزید یہ کہ اب انہوں نے ہم سے ملنا جلنا بھی ختم کر دیا، جس طرح پہلے نہایت پابندی سے رات دس بجے تک گھر آ جایا کرتے تھے ، یہ سلسلہ بھی موقوف ہوگیا۔
ہمارا علاج معالجہ جاری تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا ، ایک بہت اچھے ڈاکٹر جو خالد خُلد صاحب کے قریبی دوستوں میں تھے اور بہت سینئر بھی تھے، ہم ان کے پاس گئے، انہوں نے ایک نسخہ تجویز کیا، ان کا خیال تھا کہ ٹائیفائیڈ ہوا ہے لیکن تقریباً ایک ماہ تک کوئی فائدہ نہ ہوا، ایک روز ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ عجیب بات ہے، جب تک ہم اپنی ڈسپنسری سے دوا نہ دیں، مریض کو فائدہ نہیں ہوتا، ہم نے عرض کیا کہ جناب آپ اپنی ڈسپنسری سے دوا دے دیں، ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں، آپ نے نسخہ لکھ کر دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ میڈیکل اسٹور سے یہ دوائیں لے کر استعمال کریں تو ہم نے آپ کے حکم پر عمل کیا۔
بہر حال انہوں نے اپنی ڈسپنسری سے دوائیں دیں لیکن ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہمیں ہلکا ہلکا بخار مستقل رہتا تھا، ایک اور ڈاکٹر صاحب جو خان آصف کے بہت پسندیدہ ڈاکٹروں میں تھے اور خان صاحب نے ہی ہماری حالت دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ ان کے پاس جائیں لیکن حیرت انگیز طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا، شبہ یہ ہونے لگا کہ کہیں ٹی بی کا کوئی معاملہ تو نہیں ہے، بعض دوستوں نے ٹی بی کے ٹیسٹ کا مشورہ بھی دیا۔
دسمبر گزر گیا اور ہمیں دوسرا مکان نہیں ملا، آخر کار بیوی بچوں کو سسرال میں چھوڑا اور خود والدہ کے پاس پہنچ گئے کہ اس سے بڑی جائے پناہ دنیا میں کوئی دوسری نہ تھی، والدہ کچھ ناراض تھیں لیکن بہر حال ماں تھیں اور ایک حکیم کی بیوہ تھیں، خود ڈھیروں نسخہ جات ان کے علم میں تھے، ہماری حالت دیکھ کر انہوں نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ معاملہ کیا ہے؟ درحقیقت ہم یرقان کے پہلے اسٹیج میں تھے، حیرت ہے کہ دو سینئر اور نہایت تجربے کار ڈاکٹرز ہماری بیماری کی صحیح تشخیص نہ کرسکے لیکن ایک گھریلو خاتون نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ تمہیں تو پیلیا معلوم ہوتا ہے، ہم نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا اور بتایا کہ ڈاکٹروں نے اب تک ایسی کوئی بات نہیں بتائی، ان کا خیال یہ ہے کہ ٹائیفائیڈ ہے، اسی دوران میں ہمیں الٹیاں بھی شروع ہو گئیں، اب تو والدہ کو یقین ہوگیا کہ سارا مسئلہ جگر کی خرابی کا ہے اور اس کا علاج ہمارے گھر میں موجود تھا۔
والد چوں کہ حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے لہٰذا اپنے گھر میں بعض جڑی بوٹیاں شوقیہ طور پر بھی لگاتے تھے، مثلاً ہمارے گھر میں ایلوویرا کے پودے، تخمِ ریحاں اور بہت سی جڑی بوٹیوں کے پودے ہوا کرتے تھے، گھر میں ایک نیم کا درخت بھی تھا، ایک بیل خاص طور سے ضرور لگائی جاتی تھی جس کا نام ”گلو کی بیل“ ہے، اس بیل کے پتے پان کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں، اس کا ڈنٹھل چاقو سے قلم کی طرح تراش کر زمین میں لگا دیں، بیل چل پڑے گی اور آپ کے پورے گھر کو اپنے حصار میں لے لے گی، یہ بیل ہمارے گھر میں ہمیشہ رہی، واضح رہے کہ یہ بیل جگر کی تمام خرابیوں کا اور خاص طور پر ہر طرح کے یرقان یا ہیپاٹائٹس کا شافی و کافی علاج ہے، بہر حال اس وقت ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں تھا۔
والدہ نے اس بیل کے موٹے موٹے ڈنٹھل کاٹ کر اس کی چھوٹی چھوٹی گنڈیریاں کاٹ لیں اور انہیں سل بٹّے پر کچل کر تقریباً آدھا کلو پانی میں بگھو دیا، ساتھ ہی اجوائن خراسانی تقریباً چار اونس کے قریب پانی میں ڈال دی، چند گھنٹے اسے بھیگنے دیا اور پھر ایک پیالا پانی بھر کر ہمیں پلایا، یہی پانی صبح شام پلایا جاتا رہا، ہم کئی روز سے دفتر نہیں جا سکے تھے، تیسرے روز ہم اس قابل ہوچکے تھے کہ دفتر پہنچ گئے۔
5 روز تک دفتر سے غیر حاضری بغیر کسی اطلاع کے معراج صاحب کے لیے بڑی پریشانی کا باعث تھی، جاتے ہی ہمیں طلب کرلیا گیا، ہم نے سارا احوال بیان کر دیا، جاسوسی کی پیسٹنگ سر پر تھی، شاید یہ مہینے کی 24 یا 25 تاریخ تھی، معراج صاحب نے کہا کہ بھئی! اتنے کم وقت میں سارا کام کیسے ہوگا؟ ہم نے جواب دیا کہ ہو جائے گا، آخری کاپی بھیجے بغیر ہم گھر نہیں جائیں گے، چناں چہ ہمارے دفتر ہی میں قیام کا انتظام کر دیا گیا اور اس طرح جاسوسی بہر حال اپنے وقت پر شائع ہوا۔

ادارت سے علیحدگی

معراج صاحب خان صاحب کے درمیان فاصلہ بہت بڑھ گیا تھا، خان صاحب سے ملاقات نہیں ہو رہی تھی، خود معراج صاحب ہمیں کچھ نہیں بتاتے لیکن دوسرے لوگوں کے ذریعے جن میں وصی بدایونی سرفہرست ہیں، یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ معراج صاحب خان صاحب سے خوش نہیں ہیں اور بالآخر شاید اپریل 1985 ء کو خان صاحب جاسوسی ڈائجسٹ کی ادارت سے علیحدہ ہو گئے، انہوں نے آفس آنا بھی بہت کم کر دیا تھا، ہم سے ناراض تھے لہٰذا ہماری طرف بھی نہیں آتے تھے، ہم بھی ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں تھے۔
انہی دنوں وصی بدایونی صاحب کی شوگر کا انکشاف ہوا اور ادارے میں ایک اور صاحب کی آمد ہوئی، یہ ابو ضیا اقبال تھے، دُبلے پتلے، دھان پان، گوری رنگت، نہایت نستعلیق اور شریف النفس انسان۔
خان آصف کی جاسوسی ڈائجسٹ سے علیحدگی کے بعد معراج صاحب نے کہانیوں میں ایڈیٹنگ اور کہانیوں کے نوٹس وغیرہ لکھنے کی ذمے داری ابو ضیا اقبال کو سونپ دی تھی، ہمارا ان سے براہ راست واسطہ ہونا ہی تھا اور وہ ہمیں بہت معقول اور پیارے انسان لگے، تعاون کرنے والے، نرم طبیعت، ابو ضیا اقبال اردو ، انگریزی اور فارسی پر بھی عبور رکھتے تھے، کہانیوں کے ترجمے بھی کرتے اور طبع زاد بھی لکھتے، بہت سینئر رائٹرز میں سے تھے، انہوں نے صحافت کا آغاز تقسیم ہند سے قبل بمبئی سے کیا تھا ، پاکستان میں اپنے کیرئیر کا آغاز اردو ڈائجسٹ سے کیا، اس کے علاوہ بہت سے اخبارات وغیرہ میں بھی کام کرچکے تھے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Close Menu