Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ڈٓائجسٹوں کی الف لیلیٰ (قسط ۔ 10)

سیّد انور فراز

دلچسپ منشی گیری
ہم نے میٹرک پاس کیا تھا، شاعری کا چسکا تھا، مشاعروں میں بھی جایا کرتے تھے، ہمارے ایک بہت ہی عزیز دوست ظہیر قریشی بھی شاعر تھے اور ان کا حلقۂ شعراء خاصا وسیع تھا، ہمارے والد کا انتقال ہو چکا تھا، تعلیم کے ساتھ معاشی جد و جہد بھی جاری رہتی تھی، جو کام بھی مل جاتا، کر لیا کرتے تھے، ایک روز ظہیر قریشی نے بتایا کہ بہزاد لکھنوی صاحب کو کہانیاں لکھوانے کے لیے ایک منشی کی ضرورت ہے، ہم خوش ہوگئے کہ اس طرح بہزاد صاحب جیسے شاعر کے قریب ہونے کا موقع ملے گا اور ان کی منشی گیری کرکے ہماری زبان و بیان درست ہوگا، چناں چہ ایک روز ہم ظہیر قریشی کے ہمراہ عزیز آباد میں بہزاد صاحب کے گھر پہنچ گئے، گھنٹی بجائی تو بہزاد صاحب دروازے سے باہر تشریف لائے، ظہیر صاحب نے اور ہم نے بیک وقت سلام کیا، بہزاد صاحب نے حیرت انگیز طور پر ظہیر صاحب کے سلام کا جواب دیا اور ہماری طرف دیکھ کر صرف اتنا کہا ’’مارننگ‘‘۔
ہم سٹپٹا سے گئے، سمجھ میں نہیں آیا کہ انھوں نے ایسا کیوں کہا ، بہر حال اندر مختصر سا برآمدہ تھا جس میں دو تین کرسیاں پڑی تھیں، وہاں بیٹھ کر بہزاد صاحب نے سوال کیا، ’’کس جماعت میں پڑھتے ہو؟‘‘
ہم نے آہستگی سے بتایا کہ میٹرک پاس کیا ہے تو فوراً پوچھا ’’انگلش میڈیم سے؟‘‘
ہم نے انکار میں سر ہلایا تو حضرت بولے ’’پھر آپ نے گُڈ مارننگ کیوں کہا؟‘‘
اب ہم پریشان لیکن ظہیر صاحب نے فوراً ان کی غلط فہمی دور کی کہ انھوں نے السلام علیکم کہا تھا، شاید آپ صحیح طرح سن نہیں سکے لیکن وہ بضد تھے کہ نہیں آپ نے گُڈ مارننگ کہا تھا، بہر حال ہم نے اس نا کردہ غلطی پر معذرت کی، اس طرح معاملات طے ہوئے اور بہزاد صاحب نے فرمایا کہ آپ فلاں وقت سے فلاں وقت تک آئیں گے اور آپ کو دو گھنٹے دینا ہوں گے، اس کا معاوضہ بارہ آنے روزانہ دیا جائے گا، ہم نے قبول کر لیا لیکن یہ سلسلہ ایک ماہ بھی نہیں چل سکا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ بہزاد صاحب کی طبیعت اکثر خراب رہا کرتی تھی، ہم کرایہ خرچ کرکے ناظم آباد سے عزیز آباد پہنچتے اور معلوم ہوتا کہ آج چھٹی ہے، طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور چھٹی کے دن کے پیسے بھی نہیں ملتے تھے لہٰذا ہم نے جانا ہی چھوڑ دیا لیکن ہمیں یہ ضرور معلوم ہوگیا کہ عالمی ڈائجسٹ کے لیے دیومالائی کہانیاں بہزاد صاحب لکھتے تھے، ہم اس زمانے میں بھی ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے۔

دیو مالائی کہانیوں کا دور
جب شکیل عادل زادہ عالمی ڈائجسٹ سے علیحدہ ہوئے اور انھوں نے سب رنگ جاری کیا تو دیومالائی کہانیوں کا رواج عام تھا، چناں چہ انھوں نے بھی سب رنگ میں ’’سونا گھاٹ کا پجاری‘‘ اور ’’غلام روحیں‘‘، بعد ازاں اقابلا اور انکا جیسی ماورائی اور دیومالائی کہانیاں شروع کیں، ادھر جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز ہوا تو یہاں بھی آغاز ہی میں ایچ اقبال صاحب نے ’’رتنا کماری کی جیون کہانی‘‘ شروع کی اور دوسری طرف اقلیم علیم صاحب نے ’’سنگ تراش‘‘ کا آغاز کیا، رتنا کماری ہندو دیومالا سے متعلق تھی تو سنگ تراش عرب دیو مالا سے ماخوذ تھی اور یہ پہلا تجربہ تھا جو ڈائجسٹوں میں ہندودیومالا سے ہٹ کر ہوا تھا، بعد میں اقلیم علیم نے ’’ناگ بھون‘‘ یونانی دیو مالا کو بنیاد بناکر لکھی مگر شاید اس سے پہلے یونانی دیومالا کے حوالے سے ایک کہانی عالمی ڈائجسٹ میں بھی شائع ہوئی تھی جس کا نام اب ذہن میں نہیں رہا ہے۔
پھر وہ دور بھی آیا جب دیومالائی کہانیوں کا بازار ٹھنڈا ہونے لگا، لوگ ان کہانیوں کو خرافات کہنے لگے، عریانی اور فحاشی ان کہانیوں میں نمایاں ہوگئی تھی پھر سب رنگ میں ’’امبر بیل‘‘ شروع ہوئی اور ’’بازی گر‘‘ نے اپنا رنگ جمایا، جاسوسی ڈائجسٹ میں ’’مفرور‘‘ ایک حقیقت پسندانہ معاشرتی کہانی اور سسپنس میں ’’دیوتا‘‘ نے دیومالائیت کا رُخ ٹیلی پیتھی کی طرف موڑ دیا لیکن راحت صاحب تو اسی فن کے چیمپین تھے، ’’صدیوں کا بیٹا‘‘ ایک فنٹیسی تھی، تاریخ کے پس منظر میں کہانی کو کسی جانب بھی اور کسی رنگ میں بھی گھمایا جا سکتا تھا، ساتھ ہی یہ کہ اس میں سیکس کا عنصر غالب تھا، یہ عنصر اس زمانے کی تمام دیومالائی سلسلے وار کہانیوں میں پوری شدت کے ساتھ موجود تھا، جب ان سلسلوں کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا پروگرام بنا تو ان کی پیسٹنگ کا ذمہ ہمیں دیا گیا اور اعجاز رسول مرحوم نے یہ ذمے داری بھی ہماری سپرد کی کہ ان کہانیوں میں سے متنازع نوعیت کے سیکس سین ایڈٹ کر دیے جائیں لہٰذا آج کل جو لوگ کتابی شکل میں ان ناولوں کو پڑھ رہے ہیں اگر وہ پرانے ڈائجسٹوں میں اصل کہانی پڑھیں تو انھیں بہت زیادہ فرق صاف محسوس ہو جائے گا، یہی وجہ تھی کہ جب جنرل ضیاء الحق نے فلمی دنیا کا قبلہ درست کرنے کا حکم دیا اور ڈائجسٹوں میں جو عریانیت اور فحاشی عروج پر تھی اس پر بھی سختی شروع کی تو اس وقت کے وزیراطلاعات و نشریات راجا ظفر الحق کے خوف سے ڈائجسٹ انڈسٹری بھی تھر تھر کانپنے لگی ، حد یہ کہ کتابی شکل دیتے ہوئے بھی اس بات کا خیال رکھا گیا کہ عریاں اور فحش مواد حذف کر دیاجائے۔
جب معراج صاحب نے راحت صاحب کو بیگ صاحب کی سفارش پر فلسطین کے تناظر میں ’’مجاہد‘‘ لکھنے کی ہدایت کی تو اس زمانے میں صابرہ شتیلا کیمپ میں ہونے والی اسرائیلی بربریت کے واقعات تازہ تھے اور معراج صاحب کا خیال تھا کہ عوام اس حوالے سے کسی ہیرو کے کارناموں کو پسند کریں گے، راحت صاحب نے یہ کام شروع کردیا لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ معراج صاحب ایک دو قسطیں پڑھنے کے بعد مطمئن ہو جائیں گے اور پھر مزید قسطیں پڑھنے کی انہیں فرصت نہیں رہے گی لہٰذا وہ جو دل چاہے لکھتے رہیں گے، سو انھوں نے یہی کیا، ہر مہینے ایک قسط لکھ کر بھیج دیتے تھے جو الماری میں محفوظ ہو جاتی اور انھیں مطلوبہ معاوضہ پابندی سے مل جاتا، اسے پڑھنے کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔
جب ’’مجاہد‘‘ شائع کرنے کا مرحلہ آیا تو ابتدا میں خان آصف نے اس کی نوک پلک درست کی اور بعد میں یہ ذمے داری ہمارے حصے میں آئی، اب ہمیں معلوم ہوا کہ راحت صاحب کیا لکھتے ہیں اور کیسے لکھتے ہیں، راحت صاحب کی اصل رائٹنگ کبھی کبھی دیکھنے کو ملتی تھی اور اس کی پہچان یہ تھی کہ وہ کاغذ پر قلم رکھنے کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اٹھاتے ہی نہیں ہیں، اسے چلاتے رہتے ہیں لہٰذا تمام الفاظ باہم مل جایا کرتے تھے، ان کی تحریر کو پڑھنا الیاس صاحب کی تحریر کو پڑھنے سے بھی زیادہ مشکل تھا مگر ایک اچھی بات یہ تھی کہ وہ خود بہت کم لکھتے تھے، اکثر کسی قسط کا ابتدائی حصہ یا آخری حصہ ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوتا تھا اور باقی حصہ کسی اور نے لکھا ہوتا تھا، ہم نے سنا کہ انھوں نے بعض لڑکے لڑکیاں رکھے ہوئے ہیں جو راحت صاحب کے ریکارڈ کیے ہوئے مواد کو نقل کرتے ہیں۔
مختلف لوگوں کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ایم اے راحت صاحب بیک وقت کئی کہانیاں اس طرح لکھتے ہیں کہ دو تین ٹیپ ریکارڈز سامنے رکھ کر وقتاً فوقتاً علیحدہ علیحدہ مائیک میں مسلسل بولتے رہتے ہیں، اب یہ بھی ایک حیران کن بات تھی۔ بہرحال ہم نے کبھی یہ منظر اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، لوگوں سے ہی ایسی باتیں سنی پھر وہ ریکارڈ شدہ کیسٹ نقل کرنے کے لیے کسی کو دے دیے جاتے، یہ کام نواب صاحب بھی کرتے تھے لیکن وہ ایک وقت میں ایک ہی کہانی ریکارڈ کرتے تھے اور پھر اس کے کیسٹ دفتر آجایا کرتے تھے، اختر بیگ کے ذریعے کسی غریب خاتون کو بھیج دیے جاتے وہ انھیں سن کر کاغذ پر نقل کرتیں اور مسودہ دفتر آجاتا، نواب صاحب اس مسودے کو دوبارہ پڑھتے اور اس طرح کہانی فائنل ہوتی، کاغذپر نقل کرنے کا معاوضہ ان خاتون کو دیا جاتا تھا۔
راحت صاحب کے لکھنے کے طریقے جو ہم نے سنے وہ ہماری سمجھ سے باہر تھے ، مثلاً بعض لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ دو تین لکھنے والوں کو سامنے بٹھا لیتے ہیں اور باری باری مختلف کہانیاں انھیں ڈکٹیٹ کراتے ہیں، ہمارے لیے یہ بھی حیرت کی بات تھی ایک تخلیقی کام کیا اس طرح بھی ہوسکتا ہے؟
بہر حال وہ کس طرح لکھتے تھے اور کیا لکھتے تھے اس کا کچھ اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب ہم نے ’’مجاہد‘‘ پڑھنا شروع کی، اکثر کہانی میں ایسے ایسے جھول اور حماقتیں موجود ہوتیں جنھیں درست کرنا خاصا مشکل ہو جاتا تھا اور ایک بار تو ہماری حیرانی کی حد نہ رہی جب ہم نے دیکھا کہ مجاہد میں ابن صفی کا مشہور ناول ’’ظلمات کا دیوتا‘‘ ڈال دیا گیا تھا، ایک مرحلے پر علی یار خان کو راحت صاحب افریقہ لے گئے تھے، بس اسی میں ظلمات کا دیوتا پڑھنے کا ہمیں دوبارہ اتفاق ہوا، یہ کھلی چربہ سازی تھی، چوں کہ ’’ظلمات کا دیوتا‘‘ ہمارا پڑھا ہوا تھا لہٰذا ہم نے اس غلطی کو نوٹ کرلیا ، خدا معلوم کتنے ایسے ناول جو ہم نے نہیں پڑھے تھے ، ’’مجاہد‘‘ میں شامل ہوگئے تھے۔
ہم یہ واضح کر دیں کہ راحت صاحب سے ہمیں کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی، وہ نہایت شریف ، خوش اخلاق انسان تھے، ہم سے جب بھی ملاقات ہوئی بہت اچھی طرح پیش آئے بلکہ ایک بار انھوں نے ہم پر احسان بھی کیا لہٰذا ہم ان کے مخالف ہر گز نہیں ہیں، ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھے رائٹر تھے لیکن بعد ازاں ان کے مالی مسائل نے انھیں مجبور کر دیا کہ وہ جیسے بھی ہو اپنی آمدن میں اضافہ کریں۔
ایک ملاقات کا دلچسپ احوال
شہر کراچی میں ہماری دربدری بھی عجیب رہی ہے، ہمارے بہت ہی عزیز دوست احمد جاوید کا ایک شعر ہے جو انھوں نے اپنی دربدری کے حوالے سے کہا ہوگا کہ واقعتاً وہ جب تک کراچی میں رہے ، دربدر ہی رہے ؂
وہ بے کسی ہے کہ ہر ایک سے معاملہ ہے
وہ بے گھری ہے کہ ہم شہر بھر میں رہتے ہیں
ان دنوں ہم اعجاز رسول صاحب کے گودام اور دفتر کے اوپر تیسری منزل پر مقیم تھے اور یہ مکان عائشہ منزل سے دائیں ہاتھ پر لنڈی کوتل چوک سے پہلے واقع تھا ، وہاں کوئی بس وغیرہ نہیں آتی تھی لہٰذا قدرت نے ہمیں ایک ویسپا کی سواری مہیا کرا دی تھی اور ہم با آسانی گھر پہنچ جایا کرتے تھے، اس ویسپا کے مالک، معراج صاحب کے ایک لنگوٹیے یار تھے جو ان دنوں ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستہ تھے اور پرنٹنگ منیجر کے طور پر کام کرتے تھے،ان کا نام سید معروف علی تھا، کئی سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا، سیّد صاحب بڑے ہی معقول ، معاملہ فہم اور کھلے دل کے آدمی تھے، دفتر میں وہ واحد آدمی تھے جو معراج رسول صاحب کو ’’معراج‘‘ کہتے تھے۔
معراج صاحب کے والد جب پاکستان آئے تو ابتدائی قیام انھوں نے لیاری کے علاقے بہار کالونی میں کیا، معراج صاحب نے ابتدائی تعلیم بہار کالونی ہی کے ایک اسکول میں حاصل کی جس کے ہیڈ ماسٹر صاحب موجودہ دور کے مشہور ڈاکٹر شیر شاہ اور ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے والد تھے۔
سیّد معروف علی ان کے اسی زمانے کے دوست تھے لیکن دونوں کی طبیعتوں میں خاصا فرق تھا یا معراج صاحب کے دولت مند اور ایک بڑا پبلشر ہونے کے بعد فرق آگیا تھا، کم از کم معروف صاحب کا یہی خیال تھا، اکثر ایسا ہوتا ہے، بچپن کے دو دوست جوانی میں اگر مالی اونچ نیچ کا شکار ہو جائیں تو اس نوعیت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، کسی اعلیٰ منصب یا پوزیشن پر براجمان شخص اپنے کسی کمزور حیثیت کے دوست سے بے تکلفی کو پسند نہیں کرتا، اس کا ہمیں ذاتی طور پر بھی تجربہ ہے لیکن معراج صاحب بہر حال ایسے نہیں تھے، انھوں نے ہمیشہ سیّد معروف علی کا خیال رکھا، معروف صاحب خود نہایت لااُبالی اور بلا کے بے فکرے انسان تھے، کئی بار ان کے خراب حال سے واقفیت کے بعد معراج صاحب نے انھیں بلایا اور کوئی ذمے داری انھیں سونپ دی گئی تاکہ معقول معاوضہ ان کے گھر پہنچتا رہے مگر جب بھی دونوں کے درمیان کشیدگی ہوتی یا کسی بات پر اختلاف ہوتا تو معروف صاحب بغیر کسی کو اطلاع دیے غائب ہو جاتے، خیر معروف صاحب کے قصے بھی بہت ہیں اور بڑے دلچسپ ہیں، یہاں تذکرہ اس لیے نکل آیا کہ راحت صاحب سے ایک اہم ملاقات معروف صاحب کی مرہون منت تھی۔
معروف صاحب پرنٹنگ کے کاموں سے فارغ ہوتے تو ان کا مستقل ٹھکانہ ہمارا کمرا تھا، وہ فیڈرل بی ایریا میں رہا کرتے تھے لہٰذا ہم ان کے ساتھ ہی ان کی ویسپا پرروانہ ہوتے اور وہ ہمیں ہمارے گھر چھوڑتے ہوئے اپنے گھر نکل جاتے،کام کی زیادتی کے سبب ہم اکثر مسودات گھر لے جایا کرتے تھے تاکہ کچھ کام رات میں بھی نمٹا لیاکریں ، ایک بار پلاسٹک بیگ میں ’’مجاہد‘‘ کے شاید دس بارہ صفحے لے کر جا رہے تھے ، خدا معلوم بیگ میں سراخ کیسے ہوا اور وہ صفحے کہاں نکل گئے، دوسرے روز جب دفتر آئے تو ہماری حالت خراب تھی، دوپہر کے قریب معروف صاحب دفتر آئے اور ہمیں پریشان دیکھا تو ہم نے انھیں ساری صورت حال بتا دی، معروف صاحب بالکل بھی پریشان نہیں ہوئے اور بولے ’’فکر مت کرو، راحت کے پاس اس کی فوٹو کاپی ضرور ہوگی، لے آئیں گے‘‘
ہم نے کہا ’’سیّد صاحب ! ہماری تو راحت صاحب سے کوئی خاص یاد اللہ بھی نہیں ہے اور آپ کی بھی نہیں ہے اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ معراج صاحب تک پہنچے‘‘
معروف صاحب اپنی روایتی بے فکری اور بے نیازی کا اظہار کرتے رہے اور ہمیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا، شام کو آفس سے نکلے تو وہ ہمیں سیدھے غلام کبریا بیگ صاحب کے گھر لے گئے جو خاموش کالونی کا علاقہ کہلاتا تھا حالاں کہ یہ ناظم آباد ہی کا حصہ تھا۔
تقریباً رات 8 بجے کا وقت تھا، بیگ صاحب نے حسب معمول پہلے کھانا لگوا دیا ، بیگ صاحب روایتی دلّی والے تھے ، کھانے پینے کے نہایت شوقین، بہر حال کھانے سے فارغ ہوکر معروف صاحب نے آمد کا مدعا بیان کیا تو بیگ صاحب نے بڑے اطمینان سے ہمیں یقین دلایا کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، آپ کل کسی وقت سیّد صاحب کے ساتھ راحت کے گھر چلے جائیں ، میں انھیں فون کردوں گا اور آپ کا کام ہو جائے گا۔
اب ہمیں اطمینان ہوگیا، ہم جانتے تھے کہ بیگ صاحب کی بات راحت صاحب نہیں ٹال سکتے۔
دوسرے روز ہم معروف صاحب کے ہمراہ راحت صاحب کے گھر پہنچے تو وہ بڑی محبت سے پیش آئے اور گمشدہ صفحات کی فوٹو کاپی ہمارے حوالے کر دی، چائے کے دوران میں ماحول خاصا بے تکلف ہوگیا تو ہم سے نہ رہا گیا اور ہم نے راحت صاحب سے اپنی پرانی عقیدت کا اظہار کیا اور ان کی بعض شاہکار کہانیوں کا حوالہ دیا، ساتھ ہی دبے دبے الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا کہ راحت صاحب! اب آپ کی کہانیوں میں وہ بات کیوں نظر نہیں آتی، مزید یہ کہ ’’مجاہد‘‘ بھی یکسانیت کا شکار ہے۔
راحت صاحب کو شاید اس سوال کی توقع نہ تھی، لمحہ بھر کے لیے وہ ہماری طرف دیکھتے رہے پھر نہایت صفائی اور سچائی کے ساتھ گویا ہوئے ’’جناب! جب تک معراج صاحب سے معاملات اچھے تھے اور میں مکمل طور پر صرف جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ کے لیے ہی لکھا کرتا تھا تو معراج صاحب میری ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ معراج صاحب کے لیے صرف ایک کہانی لکھ رہا ہوں اور اس کا معاوضہ بھی بہت کم ہے، دوسرے پرچے مثلاً مسٹری میگزین، ایڈونچر یا عمران ڈائجسٹ مجھے کیا دیتے ہیں، آپ کو کیا بتاؤں؟‘‘
ہم نے نہایت ادب سے گزارش کی ’’راحت صاحب! ایک قلم کار جو بہت اچھا لکھتا ہو، کیا جان بوجھ کر برا بھی لکھ سکتا ہے؟ صرف اس لیے کہ اسے معاوضہ کم مل رہا ہے؟ ‘‘
راحت صاحب نے ایک قہقہ لگایا اور فرمایا ’’کمرشل رائٹنگ کو آپ ادبی تخلیق سے نہ ملائیں، بھائی ہم قلم کے مزدور ہیں، جتنے زیادہ صفحے کالے کر لیں اتنا ہی اپنی گزر بسر کے لیے سہولیات حاصل کر لیتے ہیں‘‘
پھر اس موضوع پر انھوں نے ایک طویل لیکچر ہمیں دیا، ان کی بہت سی باتیں درست تھیں، ہمارے ملک کا المیہ تھیں جہاں شاعر و ادیب یا آرٹسٹ کے کام کی قدر و قیمت نہیں ہوتی، صرف داد ہوتی ہے،واہ واہ، کیا عمدہ کہانی لکھی ہے، کیسا بے مثال شعر کہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ڈائجسٹوں کے اجرا سے پہلے مصنف یا شاعر کو معاوضہ دینے کا رواج ہی نہیں تھا، صرف اتنا ہی کافی سمجھا جاتا تھا کہ آپ کا کلام اور نام شائع کر دیا جائے، ڈائجسٹوں میں بھی بہتر معاوضہ دینے کی روایت سب رنگ ڈائجسٹ نے ڈالی اور اس کے بعد معراج رسول صاحب نے، اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ فلاں مصنف کا معاوضہ کتنا ہے اور فلاں کا کتنا تھا، حقیقت یہ ہے کہ ابتدا میں سستا زمانہ تھا، پرچے بھی کم قیمت ہوا کرتے تھے، اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ اکثر ایچ اقبال صاحب سناتے کہ جب جاسوسی ڈائجسٹ کا اجرا ہوا تو ہم معراج صاحب کے ساتھ اثر نعمانی صاحب کے پاس پہنچے تاکہ انھیں جاسوسی ڈائجسٹ کے لیے لکھنے پر آمادہ کریں، اثر نعمانی صاحب بہت پرانے لکھنے والوں میں سے تھے اور انھوں نے بے شمار انگریزی ناولوں کے ترجمے بھی کیے تھے جو کتابی شکل میں بھی شائع ہوتے تھے، ہمیں نہیں معلوم کہ اس زمانے میں پبلشر حضرات فی ناول انھیں کیا معاوضہ دیتے تھے۔
نعمانی صاحب جاسوسی ڈائجسٹ میں لکھنے کے لیے آمادہ ہوگئے اور اب مسئلہ معاوضے کا سامنے آیا، معراج صاحب نے دو روپے فی صفحہ کی پیش کش کی لیکن نعمانی صاحب ڈھائی روپے فی صفحہ کا تقاضا کرنے لگے اور بقول اقبال صاحب خاصی دیر معاوضے کے معاملے پر بحث و تکرار ہوتی رہی، اس واقعے سے اندازہ لگا لیں کہ اس زمانے میں مصنفین کا معاوضہ کیا تھا، اثر نعمانی کوئی نئے ، نوآموز یا غیر معروف مصنف نہیں تھے، ان کا نام جاسوسی ادب پڑھنے والوں کے لیے اجنبی نہیں تھا، قصہ مختصر یہ کہ شکیل عادل زادہ اور معراج رسول سے پہلے کوئی پبلشنگ ادارہ لکھنے والوں کو معقول معاوضہ نہیں دیتا تھا اور اگر کوئی دیتا بھی تھا تو برائے نام، بقدر اشک بلبل۔
بات ہماری سمجھ میں آگئی تھی۔ ہم نے آخری سوال یہ پوچھا کہ آپ معراج صاحب سے علیحدہ ہونے کے بعد سب رنگ کیوں نہیں گئے؟ اس کا جواب انھوں نے گول مول دیا اور صرف اتنا کہا کہ شکیل سے میرا مزاج نہیں ملتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شکیل صاحب کا سب رنگ ڈائجسٹ وقت کی پابندی سے نہیں آتا تھا اور دوسری بات یہ تھی کہ وہ راحت صاحب کو سب رنگ کے مطلب کا رائٹر ہی نہیں سمجھتے تھے،ان کی نظر میں تو انوار مجتبیٰ صدیقی کی کہانیاں بھی ری رائٹ ہوئے بغیر شائع نہیں ہو سکتی تھیں، یہی صورت حال الف لیلہ ڈائجسٹ کی بھی تھی، ایچ اقبال صاحب نے کبھی بھی الف لیلہ کے لیے راحت صاحب سے نہیں لکھوایا۔
راحت صاحب کے بعض قارئین نے یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ ان کی کہانیوں میں ریپیٹیشن اتنا زیادہ کیوں ہے تو امید ہے کہ انھیں جواب مل گیا ہوگا۔

مدیر کی تلاش
انوار علیگی طویل عرصے سے اخبار جہاں سے وابستہ ہیں اور اخبار جہاں میں فکشن کے صفحات انہی کی نگرانی میں مرتّب ہوتے ہیں، وہ خود بھی ایک اچھے فکشن رائٹر ہیں، بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ انھوں نے اپنی اخبار جہاں کی ملازمت کے دوران میں جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ کے لیے بھی بہت لکھا ہے، اکثر جاسوسی کے سرورق کی کہانیاں انھیں دی جاتی تھیں، اس طرح ایک خفیہ تعلق و رابطہ انوار علیگی اور معراج صاحب کے درمیان قائم تھا، شاید اسی تعلق کی بنیاد پر معراج صاحب نے انھیں سسپنس کی ذمے داری سنبھالنے کی پیشکش کی ہوگی اور وہ اس کے لیے تیار ہوگئے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ انوار علیگی صاحب سے اس نوعیت کی کوئی بات چیت کب ہوئی، ہم سے تو وہ یہی کہتے رہے کہ میں یورپ سے واپسی پر کوئی بندوبست کروں گا لیکن ابھی وہ روانہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ایک روز انوار علیگی دفتر آگئے اور انھیں ہمارے سامنے والے کمرے میں بٹھا دیا گیا، معراج صاحب نے ہمیں بلایا اور بتایا کہ انوار علیگی ہمارے ہاں آگئے ہیں ، انھوں نے اخبار جہاں چھوڑ دیا ہے اور اب وہ سسپنس ڈایجسٹ کو دیکھیں گے، تم بھی جا کر ان سے مل لو، چناں چہ ہم نے ان سے ملاقات کی لیکن وہ بہت ہی روکھے پھیکے اور لیے دیے انداز میں بات چیت کرتے رہے، کچھ تکبر کا انداز ان کے رویے سے عیاں تھا، چناں چہ ہم نے بھی زیادہ بے تکلف ہونے کی کوشش نہیں کی، ان کا رابطہ معراج صاحب سے ہی براہ راست تھا لیکن حیرت انگیز طور پر تین دن بعد ہی وہ غائب ہوگئے، معراج صاحب سے معلوم ہوا کہ وہ واپس اخبار جہاں چلے گئے ہیں۔
بعد میں معراج صاحب ہی کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ انوار علیگی نے، اخبار جہاں میں اپنی قدروقیمت بڑھانے کے لیے، ایک گیم کھیلا تھا، شاید ان دنوں ان کے تعلقات میر جاوید رحمن سے بہتر نہ رہے ہوں یا وہ کسی عتاب کا شکار ہوں اور معراج صاحب سے اپنے دکھ بیان کرتے رہتے ہوں لہٰذا جب معراج صاحب کو ضرورت محسوس ہوئی تو انھوں نے انوار صاحب کو پیشکش کر دی ہو، اس طرح ان کا اخبار جہاں چھوڑ کر آنا، میر جاوید صاحب کو پسند نہ آیا ہو اور پھر وہ اپنی شرائط پر دوبارہ اخبار جہاں چلے گئے ہوں، اس حوالے سے زیادہ حقیقت برادرم اخلاق احمد ہی جانتے ہوں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت اخلاق احمد کے بھی معراج صاحب سے خفیہ تعلقات برسوں پرانے رہے اور وہ بھی سسپنس کے لیے بطور خاص کہانیاں لکھتے رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کہانیوں پر ان کی نصف بہتر کا نام شائع ہوتا رہا ، انوار علیگی کی کہانیوں پر بھی ان کا اپنا نام کبھی شائع نہیں ہوا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ معراج رسول اور میر جاوید رحمن کے درمیان رائٹرز کے حوالے سے باہمی طور پر ایک چپقلش چلتی رہتی تھی، ایک دوسرے کے رائٹرز کا یا آفس میں کام کرنے والے افراد کا دوسری سمت میں جانا اکثر انا کا مسئلہ بن جاتا تھا، شاید اسی وجہ سے میر جاوید صاحب نے انوار علیگی کی تمام شرائط قبول کر لی ہوں گی اور انھیں واپس بلا لیا ہوگا۔
یہ واقعہ معراج صاحب کے لیے تھوڑی سی ناگواری کا باعث تھا ، معراج صاحب ہمیشہ سے قول و فعل کے مضبوط انسان رہے ہیں، اگر کوئی وعدہ کر لیں تو اسے پورا کرتے تھے، وعدہ خلافی کو سخت ناپسند کرتے تھے، انوار علیگی ان سے وعدہ کرکے اپنے وعدے سے پھر گئے ، یہ بات انھیں بہت ناگوار گزری، قصہ مختصر یہ کہ وہ دونوں پرچوں کی ذمے داری ہم پر چھوڑ کر اپنے سالانہ دورے پر مغرب یاترا کو روانہ ہوگئے، بے شک ہم پر کام کا بہت زیادہ دباؤ تھا، ہمارے رات و دن سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ کے مسائل سے نمٹتے گزر رہے تھے، بالآخر معراج صاحب کی واپسی ہوئی اور اس بار ایک نیا تماشا سامنے آیا۔
ہمارے علم میں لائے بغیر ہی علیم الحق حقّی نے معراج صاحب کے سامنے ایک نام پیش کیا اور ایک روز اچانک وہ صاحب نمودار ہوگئے، معراج صاحب نے ان کے بارے میں بتایا کہ وہ طویل عرصہ سب رنگ ڈائجسٹ سے وابستہ رہے ہیں، یہ بھی بتایا کہ علیم الحق حقّی کی معرفت آئے ہیں، ان کا نام معروف مفتی تھا، حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، جب ملاقات ہوئی تو وہ بڑی خوش دلی اور تپاک سے ملے، بہت جلد یعنی پہلی ہی ملاقات میں بے تکلف ہوگئے، معراج صاحب نے ہم سے کہا تھا کہ سب رنگ میں وہ زیادہ تر شعبۂ اشتہارات سے وابستہ رہے ہیں لیکن دیگر کاموں میں بھی شریک رہے، اچھے پروف ریڈر بھی ہیں وغیرہ وغیرہ، ممکن ہے انھیں ہمارے ہاں کام میں کچھ دشواریاں محسوس ہوں تو تم ان کی ہر ممکن مدد کرنا۔
دفتر میں ان کا پہلا دن صرف ادھر اُدھر کی باتیں کرتے گزرا، ہم نے انھیں یقین دلایا کہ ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں گے اور انھیں ہمارے جس تعاون کی بھی ضرورت ہو ، وہ بے تکلف ہمیں بتا دیں، ہماری ہر بات پر ان کا انداز ایسا ہی تھا کہ سرتسلیم خم ہے، جو مزاج یار میں آئے۔
جب تین چار دن گزر گئے اور ہم نے دیکھا کہ وہ کسی کام پر کوئی توجہ نہیں دے رہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے وہ ہمی کو کرنا ہے تو ہمارا ماتھا ٹھنکا ، ہم نے ان سے کہا کہ بھائی! پیسٹنگ کے دن قریب آرہے ہیں، کچھ کہانیوں کے نوٹس وغیرہ تیار کرکے کاتب کو بھجوا دیں تو انھوں نے ہماری ہاں میں ہاں ملائی مگر کارکردگی صفر رہی، اسی طرح پروف ریڈنگ کا مسئلہ تھا، اس زمانے میں کتابت آرٹ پیپر پر ہوا کرتی تھی، پروف ریڈنگ کے مرحلے سے گزر کر فلم میکنگ کا مرحلہ شروع ہوتا تھا، قصہ مختصر یہ کہ وہ اسی انداز میں اطمینان سے بیٹھے نظر آئے جیسے سب رنگ ڈائجسٹ کی تیاری کر رہے ہوں جو ان دنوں چھ مہینے یا سال بھر میں ایک شمارہ آیا کرتا تھا۔
ہم نے اس صورت حال سے معراج صاحب کو آگاہ کیا، انھوں نے حقّی صاحب کو بلا لیا اور ساری صورت حال ان کے گوش و گزار کی ، شاید حقّی صاحب نے مفتی صاحب سے جاکر کچھ بات چیت کی اور پھر ہمارے کمرے میں آگئے اور آتے ہی توبہ توبہ شروع کر دی، ہم نے پوچھا خیرت تو ہے، کیا ہوا؟ تو کہنے لگے ’’یار میں معراج صاحب سے زندگی میں پہلی بار بہت شرمندہ ہوا ہوں، میں نے ان سے معروف مفتی کی سفارش کی تھی اور یہ بندہ تو کسی کام کا نہیں نکلا‘‘
ہم نے بھی ان سے شکایت کی کہ جناب آپ کم سے کم ہم سے تو مشورہ کر لیتے، آپ کے اور ہمارے درمیان کون سے تکلفات ہیں یا ہم سے رازداری کی کیا ضرورت تھی؟ بہر حال اس پر بھی وہ پشیمان تھے، بالآخر اسی روز معروف مفتی صاحب کا حساب کر دیا گیا، اب صورت حال پھر وہی تھی ، دونوں پرچوں کا کام ہمارے سر تھا، سسپنس ڈائجسٹ بالکل سر پر تھا ، ہم نے حقّی صاحب سے کہا کہ جو کچھ کیا ہے اب ہمارے ساتھ بیٹھ کر بھگتو اور سسپنس کی کہانیاں پڑھ کر نوٹس لکھو اور ہم دیگر کاموں کو دیکھتے ہیں، بہر حال جیسے تیسے تمام کام نمٹائے گئے اور سسپنس مقررہ وقت پر شائع ہوا۔
(جاری ہے)

Close Menu