گھاٹے کا سودا

سعادت حسن منٹو

دو دوستوں نے مل کر دس بیس لڑکیوں میں سے ایک لڑکی چنی اور بیالیس روپے دے کر اسے خرید لیا۔ رات گزار کر ایک دوست نے اس لڑکی سے پوچھا۔ ”تمھارا نام کیا ہے۔ “

لڑکی نے اپنا نام بتایا تو وہ بھنا گیا۔ ”ہم سے تو کہا گیا تھا کہ تم دوسرے مذہب کی ہو۔ “
لڑکی نے جواب دیا۔ ”اس نے جھوٹ بولا تھا۔ “

یہ سن کر وہ دوڑا دوڑا اپنے دوست کے پاس گیا اور کہنے لگا۔
”اس حرامزادے نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ہمارے ہی مذہب کی لڑکی تھما دی۔ ۔ ۔ چلو واپس کر آئیں۔ “

Close Menu