Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

گھاٹے کا سودا

سعادت حسن منٹو

دو دوستوں نے مل کر دس بیس لڑکیوں میں سے ایک لڑکی چنی اور بیالیس روپے دے کر اسے خرید لیا۔ رات گزار کر ایک دوست نے اس لڑکی سے پوچھا۔ ”تمھارا نام کیا ہے۔ “

لڑکی نے اپنا نام بتایا تو وہ بھنا گیا۔ ”ہم سے تو کہا گیا تھا کہ تم دوسرے مذہب کی ہو۔ “
لڑکی نے جواب دیا۔ ”اس نے جھوٹ بولا تھا۔ “

یہ سن کر وہ دوڑا دوڑا اپنے دوست کے پاس گیا اور کہنے لگا۔
”اس حرامزادے نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ہمارے ہی مذہب کی لڑکی تھما دی۔ ۔ ۔ چلو واپس کر آئیں۔ “

Close Menu