حامد میر

حامد میر کا تعلق لاہور سے ہے. یہ 1987 سے صحافت کر رہے ہیں. یہ جنگ اور اوصاف کے علاوہ دیگر اخبارات سے بھی وابستہ رہے ہیں. تاہم انہیں شہرت اسامہ بن لادن کے انٹرویو سے ملی. بعد میں یہ جیو ٹی وی سے کیپیٹل ٹاک کے نام سے ایک سیاسی مباحثے کا پروگرام کرتے رہے ہیں. اس کے علاوہ یہ اردو اور انگریزی اخبارات کے لیے کالم بھی لکھتے ہیں.

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin
حامد میر

آخری فتح

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ ایران میں وزیراعظم عمران خان کے کہے گئے کچھ الفاظ پر پاکستان میں بہت ہنگامہ ہوا۔ عمران خان نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوتی رہی اور ایران کی سرزمین

مکمل پڑھئے »
حامد میر

خود کو فریب مت دیجئے

آج کے دور میں کسی کو بے وقوف بنانا یا فریب دینا بڑا مشکل کام ہے لیکن خود کو فریب دینا بہت آسان ہے۔ ہم اور ہمارے حکمران یہ آسان کام اکثر کرتے رہتے ہیں۔ کل شارجہ کے کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک صاحب ملے۔ سب

مکمل پڑھئے »
حامد میر

ظلم کو چار چاند لگانے والے….

آج اپنے دل کا کیا حال سنائوں؟ یہ دل بہت زخمی ہے۔ ان زخموں کے پیچھے ایک بے بسی کا احساس ہے۔ بے بسی کا یہ احساس نشتر بن کر بار بار دلِ ناتواں پر زخم لگا رہا ہے۔ آج صرف میرا نہیں، اکثر اہلِ

مکمل پڑھئے »
حامد میر

جس کا کام اُسی کو ساجھے

پاکستان کے اکثر سیاستدانوں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ اپوزیشن کا کردار تو بہت اچھی طرح ادا کرتے ہیں لیکن انہی سیاستدانوں میں یہ خامی بھی پائی جاتی ہے کہ وہ جب حکومت میں آتے ہیں تو ناکام ہو جاتے ہیں۔ حکومت

مکمل پڑھئے »
حامد میر

کرائے کی بندوق

آج کل پاکستان کی سیاست میں یوٹرن پر بڑی بحث ہو رہی ہے۔ یوٹرن تو بہت سے سیاستدان لیتے ہیں لیکن عمران خان کے یوٹرن ہماری نظروں میں زیادہ کھٹکتے ہیں کیونکہ وہ ملک کے وزیراعظم ہیں اور یہ کہنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے

مکمل پڑھئے »
حامد میر

دیوانے کا خواب

یہ ایک سرد شام تھی۔ میں ایک سینئر سیاستدان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اُن کی گرما گرم باتیں سُن رہا تھا۔ یہ گفتگو میرے لئے کسی آتش دان کی حدت سے کم نہ تھی کیونکہ سیاستدان کا تعلق اپوزیشن سے نہیں‘ حکومت سے تھا۔

مکمل پڑھئے »
حامد میر

جھکی جھکی سی نظریں

سچائی صرف وہ نہیں ہوتی جو آپ کو پسند آ جائے۔ کبھی کبھی ایسی سچائی بھی برداشت کر لینی چاہئے جو آپ کی پسند کے مطابق نہ ہو۔ نا پسندیدہ سچائی کو کچھ عرصے کے لئے دبایا جا سکتا ہے لیکن سچائی کو ہمیشہ کے

مکمل پڑھئے »
حامد میر

اور کتنی قربانیاں؟

وہ ایک ادھورا کام کرنے وطن واپس آئیں۔ ادھورا کام یہ تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر مرنے آئی تھیں۔ مٹی سے اپنی وفا میں سرخ رنگ بھرنے آئی تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے دس سال قبل 1997ء میں مارکسٹ دانشور ٹیڈ

مکمل پڑھئے »
حامد میر

اُف یہ افسانے

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو سننے میں افسانہ لگتی ہے لیکن یہ افسانہ ہی آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ دنیا کے صرف آٹھ امیر لوگ پوری دنیا کی آدھی سے زیادہ دولت کے مالک ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یہ حقیقت آکسفورڈ کمیٹی

مکمل پڑھئے »
Close Menu