سعادت حسن منٹو

چالیس پچاس لٹھ بند آدمیوں کا ایک گروہ لوٹ مار کے لیے ایک مکان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دفعتاً اس بھیڑ کو چیر کر

سعادت حسن منٹو

ایک آدمی نے اپنے لیے لکڑی کا ایک بڑا صندوق منتخب کیا جب اسے اٹھانے لگا تو وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ

سعادت حسن منٹو

دس راؤنڈ چلانے اور تین آدمیوں کو زخمی کرنے کے بعد پٹھان آخر سرخ رو ہو ہی گیا۔ ایک افراتفری مچی تھی۔ لوگ ایک دوسرے

سعادت حسن منٹو

لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے لیے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کیے۔ لوگ ڈر کے مارے لوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں پاہر

سعادت حسن منٹو

” کون ہو تم؟ ” ” تم کون ہو۔ ” ” ہرہر مہادیو۔ ۔ ۔ ہرہر مہادیو۔ ” ” ہرہر مہادیو۔ ” ” ثبوت کیا

سعادت حسن منٹو

صبح چھ بجے پٹرول پمپ کے پاس ہاتھ گاڑی میں برف بیچنے والے کو چھرا گھونپا گیا۔ سات بجے تک اس کی لاش لک بچھی

سعادت حسن منٹو

دو دوستوں نے مل کر دس بیس لڑکیوں میں سے ایک لڑکی چنی اور بیالیس روپے دے کر اسے خرید لیا۔ رات گزار کر ایک

پطرس بخاری

ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے جب دوستی پرانی ہو جائے تو گفتگو کی چنداں
Close Menu